صدرجمہوریہ ہند کے نام آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی عرضداشت، مدارس میں زیر تعلیم بچوں کی اکثریت خط افلاس کے نیچے جینے والوں کی ہے اور یہ مدارس بلاتفریق سب کوفری تعلیم دیتےہیں، ملک کی شرح خواندگی میںانکاگرانقدرتعاون ہے، حکومت اترپردیش غیررسمی جزوقتی دینی درسگاہوں کوبھی مدارس میں شمار کرکے سنسنی پھیلارہی ہے، مدارس کی سرگرمیوں میںمداخلت آئین و قانون کے منافی ہے،مسلمانوں کےآئینی حقوق، مذہبی آزادی ،تعلیمی خودمختاری اوربچوں کی ہمہ گیرنشوونما کوہرگزپامال ہونےنہ دیں
نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے صدرجمہوریہ ہندعزت مآب دروپدی مر مو کے نام ایک مکتوب میںحکومت اتر پردیش کے ذریعے ریاست کے دینی مدارس کو ہراساں کرنے ، مدارس کے بچوں کو وہاںسےنکال کراسکولوں میں بھیجنے اور غیرمسلم بچوں کو مدارس سے نکالنے کی معاندانہ کارروائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ، ان سے گذارش کی ہے کہ مدارس کی سرگرمیوں میںمداخلت آئین و قانون کے منافی ہے،براہ کرم آپ مسلمانوں کےآئینی حقوق، مذہبی آزادی ،تعلیمی خود مختاری اوربچوں کی ہمہ گیرنشوونما کو پامال نہ ہونے دیں، مدارس میں زیر تعلیم بچوں کی اکثریت خط افلاس کے نیچے جینے والوں کی ہے اور یہ مدارس بلاامتیازرنگ و نسل سب کے لیےفری تعلیم کانظم کرتے ہیں۔مشاورت کے صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے عرضداشت میں تحریرکیا ہے کہ مدارس کو انکوائری کے نام پر ہراساں کیا جارہے جبکہ ملک کا آئین مذہبی اور لسانی اقلیتوں کواپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کی ضمانت دیتاہے، حق تعلیم ایکٹ مرکز اور ریاستوں کو ان کی پسند کے تعلیمی اداروں میںہی معیاری تعلیم مہیا کرانے کا پابند بناتاہے اوراس قانون میں دینی مدارس کو تحفظ حاصل ہے۔عرضداشت کہتی ہےکہ یہ مدارس ملک کے ایک کروڑ سے زائداورریاست اترپردیش کےلاکھوں بچوں کی تعلیم کا بوجھ اٹھاتےاوریہ ملک کی شرح خواندگی میں گرانقدرتعاون کرتے ہیں۔مشاورت نے اس نکتے پرزوردیا ہے کہ مرکزی حکومت کےمنصوبہ معیاری تعلیم اندرون مدارس) (SPQEMکی ایک سے زائد رپورٹوںمیں پایا گیا کہ بچوں کی حاضری سرکاری اسکولوں کی بہ نسبت یہاں زیادہ اچھی ہے اورمدارس کے اساتذہ وقت کے زیادہ پابند، ذمہ دار اور طلباء پر توجہ دینے والے ہیں۔ ان مدارس میں داخل ہونے والے طلباء کی تعداد نہ صرف بی پی ایل خاندانوں سے ہے بلکہ قریبی پڑوس میں سرکاری پرائمری اسکولوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے بھی ان کا داخلہ لیا جاتا ہے۔اسی طرح ویدک پاٹھ شالاؤں،ششومندروںاورعیسائی مشنری اسکولوں میں بھی بشمول مسلم دوسرے مذاہب کے ہزارہابچےزیرتعلیم ہیں۔ ریاست میں سرکاری نظام تعلیم کی حالت نہایت خستہ ہے،سوسے زائد شکشامترتنخواہ کی عدم ادایگی کی وجہ سے خودکشی کرچکے ہیں۔مدارس کوہراساں کرنے کا ریاست میں بچوں کی تعلیم پرسخت ناروااثرپڑےگا۔ تین صفحات کےمکتوب میں زور دے کرآئینی حقوق، مذہبی آزادی، تعلیمی خود مختاری اور جامع ترقی پر صدر جمہوریہ کی توجہ طلب کی گئی ہےاورکہاگیاہےکہ مدارس کونشانہ بنایا جانا ملک و قوم کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہوگا۔ واضح رہے کہ اس طرح کی منمانی بی جے پی کی کئی اور ریاستی حکومتیں بھی کررہی ہیں جس سےسماج میں گہری تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔یہ عرضداشت نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت اتر پردیش غیررسمی جزوقی درسگاہوں کو بھی مدارس میں شمار کرکےسنسنی پھیلارہی ہے۔ حکومت نے آٹھ ہزار سے زائدغیرمنظورشدہ مدارس کی جو فہرست جاری کی ہے، اس میں بڑی تعدادمیںرضاکارٹیوشن سینٹر ، مساجدکے اندر یا کہیں اور قائم ان جزوقتی دینی درسگاہوں کو بھی شامل کرلیا گیاہے جن کا ان کے چلانے والوں یا مسجد کی انتظامیہ نے کوئی نام تک نہیں رکھا۔
:عرضداشت کا مکمل متن حسب ذیل ہے
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (اے آئی ایم ایم ایم) ، جو مسلم تنظیموں اور ممتاز شخصیات کا واحد وفاق ہے، حکومت اترپردیش کےچیف سکریٹری کی جاری کردہ حالیہ ہدایات کے بارے میںآپ سے گہری تشویش کا اظہارکرنےکا شرف حاصل کر رہی ہےجس میں اتر پردیش اور چائلڈ رائٹس پروٹیکشن کمیشن آف انڈیا ریاست اتر پردیش میں مدارس کے کام کاج کے بارے میںتفتیش کرنے اور ان کے طلباء کو سرکاری اسکولوں میں منتقل کرنےکی ہدایت کی گئی ہے۔ ہدایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’ہندو طلبہ وہاں نہ رہیں‘‘۔
ہمارا ماننا ہے کہ یہ ہدایت مسلم اقلیت کے مذہبی اور تعلیمی حقوق میں ایک غیر ضروری اور غیر آئینی مداخلت ہے۔ اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام کرنے کا حق آئین ہند کی دفعہ 30(1) کے تحت ان کا بنیادی حق ہے۔ یہ شق اس کی ضمانت دیتی ہے کہ مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو اپنے ورثے، ثقافت اور مذہب کو محفوظ رکھنے اور اپنے بچوں تک منتقل کرنے کے لیے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
مدارس مسلمان بچوں کی ہمہ گیر ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ نہ صرف مذہبی تعلیم دیتے ہیں بلکہ ان کے اخلاق و کردار کی نشوونما میں بھی حصہ ڈالتے ہیں۔ بنیادی تعلیم میںانہوں نےاپنے نصاب کو جدید نصاب تعلیم سےہم آہنگ کیا اور اس بات کو یقینی بنایاہے کہ ان کے طلباء کو متوازن تعلیم ملے۔ طلباء کو سرکاری اسکولوں میں منتقل کرنے کی اچانک اور یکطرفہ کارروائی ان اداروں کی کوششوں اور تعاون کو پس پشت ڈالناہے اور کمیونٹی کے اپنے بچوں کو ان کے مذہبی عقائد کے مطابق تعلیم دینے کے حق کی پامالی کرتا ہے۔
معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے وقف مفت تعلیم کا یہ نظام، جو مسلمانوں کی خوداختیاری سماجی ذمہ داری سے وجود میں آیا، ایک ہزار سال سے زائد عرصے سےملک و قوم کی گراں قدر خدمات انجام دے رہا ہے، اور اس کا ایک بڑا حصہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی ایک بڑی کامیاب اور بےنظیر مثال ہے۔
اعداد و شمار کے تازہ ترین تجزیے کے مطابق اس وقت ملک کے مدارس میں ایک کروڑ سے زائداور اترپردیش میںلاکھوں طلباوطالبات زیر تعلیم ہیں۔ یہ تعلیمی ادارہ (مدارس) بغیر کسی قیمت اور کسی قسم کے امتیاز کے قوم کے بچوں کی ابتدائی تعلیم کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ ملک کے دور دراز علاقوں سے دیگر کمیونٹیز کے کمزور طبقوں کے بچوں کی بڑی تعداد مدارس میں زیرتعلیم ہے۔ مرکزی حکومت کےمنصوبہ فراہمی معیاری تعلیم اندرون مدارس(SPQEM) کی رپورٹوں میں پایاگیاکہ بچوں کی حاضری سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں یہاںزیادہ اچھی ہے اور اساتذہ وقت کے زیادہ پابند، ذمہ دار اور طلباء پر توجہ دینے والے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان مدارس میں داخل ہونے والے طلباء کی تعداد نہ صرف بی پی ایل خاندانوں سے ہے بلکہ قریبی پڑوس میں سرکاری پرائمری اسکولوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے بھی ان کا داخلہ لیا جاتا ہے۔اسی طرح ویدک پاٹھ شالاؤں، ششو مندر اور عیسائی مشنری اسکولوں میں بھی ہزارہاہزار مسلم اور دوسرے مذاہب کے بچے زیرتعلیم ہیں۔ صرف مدارس کو نشانہ بنایا جانا حکومت کی منشا کو طشت از بام کرتا ہے۔
ملک میں، مساجد کے احاطےمیں یا اس کے آس پاس جزوقتی غیر رسمی تعلیمی مراکز کی ایک بڑی تعداد موجود ہےجن کو اترپردیش کی حکومت مدرسوں میں شمارکرکےسنسنی پھیلارہی ہےجبکہ ان اداروں کے بچے ساتھ ساتھ مقامی اسکولوں/ رسمی اداروں میں بھی تعلیم لیتے ہیں اوراسی طرح بڑے مدارس (دارالعلوم) رائج العصربنیادی تعلیم (UEE) کی تکمیل کے بعد طلبہ و طالبات کاداخلہ لیتے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں ان اداروں کے تعاون کی ایک بہترین مثال کیرالہ ہے، جو کہ صحت کی دیکھ بھال، غربت کے خاتمے اور بنیادی تعلیم کے لحاظ سے سماجی ترقی کے انڈیکس میں ملک میں سب سے اونچے مقام پر ہے اور یونیسیف اورعالمی تنظیم صحت نے کیرالہ کو بچوں کی دیکھ بھال میں دنیا میںپہلا مقام دیا ہےجس کو حاصل کرنے میںان غیر رسمی جز وقتی تعلیمی مراکز کے تعاون کو بہت اہم تسلیم کیا جاتا ہے۔ ریاستوں کو ان کا تعاون حاصل کرنا چاہئے اور انہیں غیر آئینی طور پر ہراساں نہیں کرنا چاہئے جبکہ حق تعلیم ایکٹ نے مرکز اور ریاستوں کو پابند کیا ہے کہ وہ بچوں کو ان کی پسند کے تعلیمی اداروں میں ہی معیاری تعلیم فراہم کرائیں اور مذہبی درسگاہوں کواس قانون میں تحفظ حاصل ہے۔
:ہم آپ کی توجہ درج ذیل نکات پرمبذول کرانا چاہتے ہیں
آئینی حقوق: یہ ہدایت آرٹیکل 30(1) کو پس پشت ڈالتی ہے جو اقلیتوں کو اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام کرنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ اس عمل کو مسلم کمیونٹی کی تعلیمی خود مختاری کو ختم کرنے کی کوشش کے طور پردیکھا جا سکتا ہے۔
مذہبی آزادی: آئین کا آرٹیکل 25 سوچ کی آزادی اور آزادی مذہب،مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ مدارس اسلام پر عمل اور تبلیغ کے لیے لازم و ملزوم ہیں، اور ان کے کام میں کسی قسم کی مداخلت مسلمانوں کے مذہبی حقوق کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔
تعلیمی خود مختاری: مدارس نے تاریخی طور پر ایک جامع تعلیمی نظام فراہم کیا ہے جو مذہبی تعلیمات اور سیکولر مضامین کو ساتھ لاتا ہے۔ حکومت کی ہدایت اس شراکت کو تسلیم کرنے میں ناکام ہے جس سےمدارس کے موجودہ تعلیمی ڈھانچے میں خلل ڈالنے کا خطرہ ہے۔
جامع ترقی: حکومت کی توجہ مدارس سمیت تمام قسم کے اداروں میں تعلیم کے معیار کو بڑھانے پر مرکوز ہونی چاہیے نہ کہ ان کو ختم کرنے پر۔ معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے مدارس کے ذمہ داران کے ساتھ تعمیری تعاون ایک زیادہ جامع اور موثر طریقہ ہوگا۔
لہذا، ہم آپ سے اس معاملے میں مداخلت کرنے اور اتر پردیش کی حکومت کو مذکورہ ہدایت واپس لینے کی ہدایت کرنے کی پر زور درخواست کرتے ہیں۔ ہم آپ سے چاہتے ہیں کہ مسلم اقلیت کے آئینی حقوق کا تحفظ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ انصاف، مساوات اور سیکولرازم کے اصولوں کااحترام کیا جائے۔
ہمیں یقین ہے کہ آپ کی قیادت میں، ہمارے آئین کے ذریعے فراہم کردہ حقوق اور آزادی کا تحفظ کیا جائے گااور اس کو یقینی بنایاجائےگا کہ تمام کمیونٹیز ایک ساتھ رہ سکیں اور ہم آہنگی کے ساتھ ملک کی ترقی میں اپنا کرداراداکر سکیں۔
عاجزانہ خلوص و احترام کے ساتھ
آپ کا
دستخط
فیروز احمد، ایڈوکیٹ
صدر
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت