بی جے پی کی حکومتیں دینی مدارس کو ہراساں کرنابندکریں: فیروزاحمدایڈوکیٹ
نئی دہلی: اترپردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈکوالٰہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعے غیرآئینی قراردئے جانے کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ فرقہ پرست فاشسٹوں کے لیے سبق آموزہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اس کا خیرمقدم کرتی ہے۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب بی جے پی کے زیراقتدار ریاستوں میں مدارس اسلامیہ کوطرح طرح سے ہراساں کیاجارہاہے۔ ان خیالات کا اظہارمنگل کو یہاں ملک کی مسلم تنظیموں اور ممتازشخصیتوں کے وفاق(مشاورت) کے صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کیا، انہوں نے کہاکہ بی جے پی کی حکومتیں اورسرکاری ایجنسیاں مدارس کو ہراساں کرتی ہیں اوراس سے حوصلہ پاکر فرقہ پرست عناصربھی دینی مدارس کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، الٰہ آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھاجس میں کہا گیا تھا کہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ غیرآئینی ہے۔واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بچوں کو دینی تعلیم و تربیت دینا کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہے۔عدالت نے بڑی وضاحت کے ساتھ کہا ہے کہ سیکولرزم کا مطلب ہے ”جیو اور جینے دو“۔ اس سے ہندوستان کے تکثیری معاشرے میں متنوع تعلیمی نقطہ نظر کے ساتھ بقائے باہمی کے اصولوں اور ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔ اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدرسہ ایکٹ ریاست کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے، لہٰذا اس میں تعلیم کو معیاری بنانا اور طلبا کو اس قابل بنانا کہ ان میں سماجی اور معاشی سطح پر شراکت داری کی اہلیت پیدا ہو، حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ سپریم کوٹ نے آرٹیکل 21 اے اور رائٹ ٹو ایجوکیشن کو مذہبی و لسانی اقلیتوں کے حقوق سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ مدارس اپنے مذہبی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے سیکولر تعلیم دے سکتے ہیں۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈو کیٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مدارس میں زیر تعلیم بچوں کی اکثریت خط افلاس کے نیچے جینے والوں کی ہے اور یہ مدارس بلاتفریق سب کوفری تعلیم دیتے ہیں، ملک کی شرح خواندگی میں ان کاگرانقدرتعاون ہے، حکومت اترپردیش غیررسمی جزوقتی دینی درسگاہوں کوبھی مدارس میں شمار کرکے سنسنی پھیلاتی آئی ہے، مدارس کی سرگرمیوں میں مداخلت آئین و قانون کے منافی ہے،مسلمانوں کے آئینی حقوق، مذہبی آزادی،تعلیمی خودمختاری اوربچوں کی ہمہ گیرنشوونما کوپامال کر نے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جاسکتی۔ مدارس کو انکوائری کے نام پر ہراساں کیا جانا بھی ملک اور سماج کے مفادات کی پامالی ہے۔حق تعلیم ایکٹ مرکز اور ریاستوں کو بچوں کی پسند کے تعلیمی اداروں میں ہی معیاری تعلیم مہیا کرانے کا پابند بناتاہے اوراس قانون میں دینی مدارس کو تحفظ حاصل ہے اور یہ مدارس ملک کے ایک کروڑ سے زائداورریاست اترپردیش کیلاکھوں بچوں کی تعلیم کا بوجھ اٹھاتیاوریہ ملک کی شرح خواندگی میں گرانقدرتعاون کرتے ہیں۔