مولانا ندیم الواجدی کا انتقال ملک و ملت کا ناقابل تلافی نقصان: فیروزاحمد ایڈوکیٹ – Copy

مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور مصنف و صحافی مولانا واجدی کی موت پر مسلم مجلس مشاورت کا پیغام تعزیت نئی دہلی: ملک کے معروف عالم دین، ماہنامہ ترجمان دیوبند کے ایڈیٹر، متعدد کتابوں کے مصنف و مؤلف اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا ندیم الواجدی کی اچانک رحلت ملک و ملت کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ منگل کی صبح یہ خبر انتہائی افسوس اور رنج کے ساتھ امریکہ کے شکاگو سے موصول ہوئی جہاں وہ اپنے صاحبزادے مولانا یاسرندیم الواجدی کے پاس گئے ہوئے تھے۔ ان جذبات کا اظہار آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے مولانا ندیم الواجدی کے انتقال پرملال پر اپنے تعزیتی پیغام میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مرحوم کی دینی، علمی اور سماجی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مشاورت نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مولانا ندیم الواجدی نے اپنی زندگی دین کی خدمت اور ملت کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دی تھیں۔ امام غزالی کی مشہور کتاب احیاء العلوم کا سلیس اردو ترجمہ ان کے کاموں میں ایک نمایاں کام اور ان کے ذہن و فکر کا عکاس ہے۔ ان کے علمی مقالات، کالمز، اور تحریریں اسلامی شعور و آگاہی کو فروغ دینے میں ان کے نمایاں خدمات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی وفات نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت مولانا ندیم الواجدی کے اہل خانہ، متعلقین اور تمام چاہنے والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور دعا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ اللہ ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کی طاقت دے۔ جاری کردہ:
مولانا ندیم الواجدی کا انتقال ملک و ملت کا ناقابل تلافی نقصان: فیروزاحمد ایڈوکیٹ – Copy

مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور مصنف و صحافی مولانا واجدی کی موت پر مسلم مجلس مشاورت کا پیغام تعزیت نئی دہلی: ملک کے معروف عالم دین، ماہنامہ ترجمان دیوبند کے ایڈیٹر، متعدد کتابوں کے مصنف و مؤلف اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا ندیم الواجدی کی اچانک رحلت ملک و ملت کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ منگل کی صبح یہ خبر انتہائی افسوس اور رنج کے ساتھ امریکہ کے شکاگو سے موصول ہوئی جہاں وہ اپنے صاحبزادے مولانا یاسرندیم الواجدی کے پاس گئے ہوئے تھے۔ ان جذبات کا اظہار آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے مولانا ندیم الواجدی کے انتقال پرملال پر اپنے تعزیتی پیغام میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مرحوم کی دینی، علمی اور سماجی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مشاورت نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مولانا ندیم الواجدی نے اپنی زندگی دین کی خدمت اور ملت کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دی تھیں۔ امام غزالی کی مشہور کتاب احیاء العلوم کا سلیس اردو ترجمہ ان کے کاموں میں ایک نمایاں کام اور ان کے ذہن و فکر کا عکاس ہے۔ ان کے علمی مقالات، کالمز، اور تحریریں اسلامی شعور و آگاہی کو فروغ دینے میں ان کے نمایاں خدمات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی وفات نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت مولانا ندیم الواجدی کے اہل خانہ، متعلقین اور تمام چاہنے والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور دعا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ اللہ ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کی طاقت دے۔ جاری کردہ:
our leadership
مسلم تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے پر مسلم مجلس مشاورت کا سخت ردعمل – Copy

یو ایس ٹی ایم کے بانی محبوب الحق کی گرفتاری کی مذمت، سپریم کورٹ اور صدر جمہوریہ سے مداخلت کی درخواست،مشاورت نے معززشہری کی گرفتاری کو انصاف کا خون اورترقی پسند طبقے کا حوصلہ پست کرنے کی سازش کہا، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اقلیتی کوٹے سے چھیڑ چھاڑ بھی ناقابل برداشت نئی دہلی: بی جے پی کی حکومتیں ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلم تعلیمی اداروں کومسلسل نشانہ بنارہی ہیں جو انتہائی ناقابل برداشت اور قابل مذمت ہے۔ان جذبات کا اظہار آج آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے قومی صدر فیروز احمد ایڈو کیٹ نے کیا۔انہوں نے کہا کہ آسام میں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، میگھالیہ (یو ایس ٹی ایم) کے بانی وچانسلر محبوب الحق کی گرفتاری ایک کھلا سیاسی انتقام اور انصاف کاخون ہے۔اس سے قبل راجستھان میں جے پور کی مولانا آزاد یونیورسٹی کے عتیق احمد کو بھی ہراساں کیا گیا،اترہردیش میں گلوکل یونیورسٹی کے اثاثوں کو ضبط کیا گیا اور رامپور کی مولانا جوہر یونیورسٹی پر اعصاب شکن کارروائیاں جاری ہیں۔ صدر مشاورت نے سپریم کورٹ اور صدر جمہوریہ سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک معزز شہری،نامورماہرتعلیم اورملک وقوم کے بے لوث خادم کی گرفتاری اور قید کا مقصد معاشرے کے ترقی پسند افراد کے ایک خاص حصے کا حوصلہ پست کرنا ہے۔ اعلیٰ تعلیم اور صحت کے جدید سیکولر اداروں کے قیام کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ محبوب الحق کی گرفتاری خالص انتقامی کارروائی ہے۔ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے فرقہ پرست عناصرکی جانب سے این اے اے سی(NAAC) سے اے گریڈ یافتہ اداروں کے لیے بنیاد پرست اور دقیانوسی جیسے الفاظ استعمال کر کے ان کی شبیہ خراب کرناایک بہت بڑی بدبختی ہے جس کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔فیروزاحمدایڈوکیٹ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نئے وائس چانسلرآصف مظہر کو جامعہ کا اقلیتی کردار مسخ کرنے کے لیے استعمال کیے جانے کی خبروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اورکہا ہے کہ جامعہ میں نافذالعمل اقلیتی کوٹے سے چھیڑ چھاڑ ہرگزبرداشت نہیں کیا جائیگا۔ یوایس ٹی ایم کے چانسلر کی گرفتاری سے ابھرے سنگین سوالات: آسام پولیس نے پچھلے ہفتے یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، میگھالیہ (یو ایس ٹی ایم) کے چانسلر محبوب الحق کو ذات سرٹیفکیٹ میں جعلسازی کے الزام میں جس طرح چھاپہ مارکر گرفتار کیا،وہ بڑے سنگین سوالات پیداکرتاہے۔ محبوب الحق کو سری بھومی ضلع پولیس اور آسام پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کی ایک ٹیم نے گوہاٹی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا تھا۔ ان کے خلاف سری بھومی ضلع میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر ذات کا جعلی سرٹیفکیٹ بنانے کا الزام عائد کیاگیا ہے۔ گزشتہ سال مانسون میں گوہاٹی میں پانی جمع ہوگیا تھا تو وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا شرما نے اس کیلئے یونیور سٹی کو نشانہ بنایا تھا اور یونیور سٹی کے خلاف کیس رجسٹرڈ کرنے کی ہدایت دی تھی۔شرمانے اسے فلڈ جہاد کا نام دیا تھا۔ اس سے پہلے، شرما نے الزام لگایا تھا کہ شہر کو گوہاٹی کے مضافات کی پہاڑیوں میں بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ ا نہوں نے یو ایس ٹی ایم جیسے نجی اداروں کو قرار دیا۔ شرما نے دعوی کیا کہ آسام کے سری بھومی ضلع سے تعلق رکھنے والے بنگالی نژاد مسلمان اور یو ایس ٹی ایم کے بانی محبوب الحق گوہاٹی میں ”فلڈ جہاد“میں مصروف ہیں۔ یوایس ٹی ایم کی خدمات اور حکومت کا مذموم رویہ: شمال مشرقی ہندوستان میں سپر اسپیشلٹی صحت خدمات کی مانگ کے ساتھ، پی اے سنگما انٹرنیشنل میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل، یو ایس ٹی ایم کا ایک کالج، 150 نشستوں کے ساتھ قائم کیا جا رہا،1100 بستروں پر مشتمل جدید ترین سپر اسپیشلٹی اسپتال کا منصوبہ اعلیٰ درجے کی صحت خدمات کے لیے جدید انفراسٹرکچر سے لیس ہے۔یہ سپر اسپیشلٹی اسپتال شمال مشرقی ریاستوں کے شہریوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کرتا ہے جنہیں ابھی تک اس کے لیے کولکاتہ جانا پڑتا ہے۔ یہ بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال سمیت پڑوسی آسیان ممالک کی صحت کی دیکھ بھال کی ضروریات کو پورا کرکے طبی سیاحت میں بھی حصہ ڈالے گالیکن یوایس ٹی ایم کے بانی ڈاکٹر محبوب الحق کو حکومت آسام نہایت بدبختانہ طور پر نشانہ بنارہی ہے۔ یونیورسٹی اور ڈاکٹر محبوب الحق سے حکومت آسام دست و گریباں ہے،اس نے ان پر گوہاٹی میں ’فلڈ جہاد‘ کا الزام لگایا اورکہ اس یونیورسٹی کے فارغین کو آسام میں ملازمت نہیں دی جائے گی اور وزیراعلی نے ایسا صرف اپنے سیاسی اغراض کے لیے کیا۔
AIMMM expresses heartfelt condolence on demise of Mohsina Kidwai

New Delhi: The All India Muslim Majlis e Mushawarat expresses its deep sorrow and heartfelt condolences on the demise of senior leader Mrs. Mohsina Kidwai, former Union Minister, Government of India. AIMMM writen a condolence letter to the family of demise leader and her son Mr. Imran Kidwai. Mr. Feroze Ahmad Advocate, President AIMMM said “Mrs. Kidwai’s passing is a great loss to the nation and to all those who believed in public service, social justice, and inclusive development. Throughout her long and distinguished public life, she served the country with dedication, dignity, and compassion. Her contributions to national politics and her commitment to the welfare of the marginalized will always be remembered with respect and gratitude. At this moment of profound grief, we extend our sincere sympathies to the bereaved family and loved ones. We pray to the Almighty to grant them patience and strength to bear this irreparable loss and to bless the departed soul with eternal peace. *Inna lillahi wa inna ilayhi raji’un.*
سابق مرکزی وزیر محسنہ قدوائی کے انتقال پر آل انڈیا مسلم مجلس مشاور کا اظہار تعزیت

نئی دہلی : آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت سابق مرکزی وزیر حکومتِ ہند محترمہ محسنہ قدوائی کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔ محترمہ محسنہ قدوائی کا انتقال نہ صرف ملک کے لیے بلکہ ان تمام افراد کے لیے ایک بڑا نقصان ہے جو عوامی خدمت، سماجی انصاف اور ہمہ گیر ترقی کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔ اپنی طویل اور باوقار عوامی زندگی کے دوران انہوں نے خلوص، وقار اور ہمدردی کے ساتھ ملک کی خدمت انجام دی۔ قومی سیاست میں ان کی خدمات اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی وابستگی کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ اپنے تعزیتی پیغام میں مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ اس غم کی گھڑی میں ہم سوگوار خاندان اور تمام متعلقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس ناقابلِ تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے اور مرحومہ کی مغفرت فرما کر انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
امت مسلمہ آج سے بھی زیادہ شدید حالات سے نبر د آزما رہی ہے: قاسم رسول الیاس

علامہ سید سلیمان ندویؒ کے خطباتِ مدراس کی اشاعت کے 100 سال *ہمیں جینے کا حوصلہ رکھناہےاور بحث میں نہیں الجھناہے: ڈاکٹر سید فاروق*مسائل پرغورو فکر اور حل کی تلاش کا بہتروقت یہی ہے : مفتی رضی الاسلام ندوی * آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت میں تجدید فکرو نظر کی ایک صدی اور صورت حال کے موضوع پر قومی کانفرنس* ملک و ملت کے مسائل پرسنجیدہ غورو فکر*علما و دانشوران نے فکر انگیز مقالے پیش کیے نئی دہلی: اسلام اور پیغمبراسلامﷺ کے تعلق سےمعاندین اسلام جو شکوک و شبہات مسلمانوں یا غیر مسلموں کے دل ودماغ میں پیدا کر رہے ہیں،انہیں سنجیدگی، متانت اور تحقیق کے ساتھ دور کیاجانا چاہیے ۔اس خیال کااظہار اتوار کو یہاں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ایک قومی کانفرنس میں ملک کے معروف عالم دین ، محقق ، مصنف اور دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ کے استاد حدیث و فقہ مولانا عتیق احمد بستوی نے کیا۔وہ علامہ سید سلیمان ندویؒ کے خطباتِ مدراس کی اشاعت کے 100 سال مکمل ہونے پر”تجدیدِ فکر و نظر کی ایک صدی اور موجودہ صورتِ حال” کے عنوان سے کانفرنس کا کلیدی خطبہ پیش کر رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ علامہ سید سلیمان ندوی ؒ نے جس ماحول اور پس منظر میں اورجن مقاصد کے لئے خطبات مدراس پیش کئے تھے ، اس کے پیش نظر اس بات کی اہم ضرورت تھی اور ہے کہ اس طرح کے خطبات نہ صرف ایک بار اور ایک ہی بڑے شہر میں پیش کئے جاتے بلکہ ہر اہم اور بڑے شہروں میںہی نہیں متوسط شہروں اور قصبات میں بھی کم از کم سال بہ سال ایسے مؤثر اور فکر انگیر خطبات مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سامنے پیش کئے جاتے جبکہ کانفرنس کے مہمان خصوصی ،آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی سپریم گایڈنس کونسل کے سینئر رکن ڈاکٹر سید فاروق نے کہا کہ ہم کو محبت اور بھائی چارے سے جیناسیکھنا ہے۔ یہ بات خود رسول اللہ ﷺ نے سکھائی۔انہوں نے کہا کہ جب انسان کابچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ روتا ہے اور ہم نے بھی یہی سنا ہے کہ وہ روتا ہے لیکن یہ غلط ہے۔ بچہ روتا نہیں بلکہ وہ پکارتا ہےاور صرف انسان کا بچہ پکارتا ہے۔ جانور کابچہ خاموش پیدا ہوتا ہے۔ہمیں سمجھنا ہوگاکہ انسان کی فطرت میں اچھائی ہے، ایک دوسرے کی پکارہے۔ امن سے رہنا اور ایک دوسرے کی فکر کرناانسان کی فطرت ہے۔ ہمیں جینے کا حوصلہ رکھناہےاور بحث میں نہیں الجھناہے۔وہ کانفرنس افتتاحی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔اجلاس کے صدارتی خطبہ میںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان اور مشہور صحافی و دانشور ڈاکٹر سید قاسم رسول الیا س نےکہا کہ اس وقت کہا جا رہا ہے کہ ہم ایک بڑے شدیددور سے گزر رہے ہیں لیکن پچھلے صدی پر نگاہ ڈالیں تو ہم ا س سے بھی سخت حالات سے نبرد آزما رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ امت اس طرح کے حالات سے اکثر و بیشتر گزرتی رہی ہے۔ اسلام کی دعوت کے مقابلے پر طرح طرح کے دعوتیں ابھرتی رہی ہیں ۔ضرورت حالات سے گھبرانے اورمایوس ہونے کی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے سنجیدگی اور صبرو استقامت سے حالات کا مقابلہ کیا تو اس کا حل بھی نکلے گا اور حالات بھی بہتر ہوں گے لیکن مشکل یہ ہے کہ جس قوم کو ہزارہاگروہوں میں بانٹ کر رکھا گیا تھا وہ متحد ہو رہی ہے اور ہم انتشار کا شکار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کام کا شعبہ صرف سیاست نہیں ہے، فیصلہ سازی میں آج سول سوسائٹی کازیادہ اہم اور مؤثررول ہے لیکن اس میں ہندوستانی مسلمانوں کا کوئی رول نہیں ہے ۔ ملک کی تعمیر نو کے لیے مسلمانوں کو آگے بڑھنا چاہیےجبکہ خطبہ افتتاحی کلمات پیش کرتے ہو ئے کانفرنس کے کنوینر اور مشاورت کے سینئر رکن پروفیسر اخترالواسع نے علامہ سید سلیمان ندوی کی عہدساز خدمات پر روشنی ڈالی اور خطبات مدارس کو ایک تاریخ ساز واقعہ بتایا۔ اس سے قبل مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ ملت کی ساری تنظیموں اور ہر مکتبہ فکر کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے ۔ اجلاس کا افتتاح مولانا محمد اظہر مدنی نے آیات قرآن پاک کی تلاوت اور ترجمے سے کیا۔اجلاس سےانسٹی ٹیو ٹ آف آبجیکٹیو اسٹیڈیز کے چیئرمین پروفیسر محمد افضل وانی اور مشاورت کے سینئر رکن مشہور اسلامی اسکالر اور سیاست داں پروفیسر بصیر احمد خاںنے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی کے صدر مفتی ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی نے عہد حاضر کے سنگین مسائل اور ان کا حل کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علامہ سید سلیمان ندوی ؒ کو یاد کیا جانا اور ان کی معرکہ آرا تصنیف خطبات مدراس کے 100 برس مکمل ہونے پر علمی مجلس کا انعقاد ایک بہت خوش آئند قدم ہے ۔انھوں نے عہد حاضر کے پانچ سنگین مسائل، پہلا مسئلہ الحاد اور انکار خد ا ، دوسرا اخلاقی بحران ،تیسر ا خاندانی نظام کا انتشاور ،چوتھا معاشی نا انصافی اور پانچواں سماجی فتنہ و فساد پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ خطبات مدراس کے 100 بر س مکمل ہونے پر ان مسائل پر غورو فکر کیے جانے سے زیادہ مناسب اور ضروری دوسری بات نہیں ہو سکتی ہے،جبکہ اپنے صدارتی خطاب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر شعبہ اسلامیات و ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹی پروفیسر اقتدار محمد خاں نے زور دیا کہ مسائل سے الجھنے کے بجائے ہمیں اپنی اصلاح اور مستقبل کی تعمیر و ترقی پر توجہ دینی چاہیے انھوں نے کہا کہ نئی نسل کو مایوسی اور انتشار فکرو نظر سے بچانے کی فکر کرنی ہوگی ۔ واضح رہے کہ افتتاحی اجلاس کے بعد کانفرنس کے تین اجلاس میں 15مقالے پیش کیے گئے ۔پہلے اجلاس کی صدارت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے صدر شعبہ سنی دینیات پروفیسر راشد اصلاحی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مولانا شمس تبریز قاسمی نے انجام دیے۔ مقالے پیش کرنے والوں میں ڈاکٹر جاوید جمیل ، مولانا شیخ محمد اظہر مدنی ،ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی (الہٰ آباد)،دوسرے اور تیسرے اجلاس کی صدارت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدرشعبہ اسلامیات و ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹی پروفیسر اقتدار محمد خاںنے کی ، اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر
شاہدصدیقی نے اس فرض کو ادا کیا ہے جو ہم سب پر قرض تھا:پروفیسر اخترالواسع

مسلم مجلس مشاورت میں صحافی و سیاستداں شاہدصدیقی کی کتاب’آئی وٹنس‘ پر مذاکرہ، حالات کی سنگینی پربحث،پڑوسی ممالک میں بڑھتی فرقہ پرستی پربھی تشویش کا اظہار، اقلیتوں کی بین الاقوامی کانفرنس بلانے کی تجویزبھی زیربحث آئی نئی دہلی25جنوری (پریس ریلیز): شاہدصدیقی نے آئی وٹنس(میری آنکھوں دیکھی) لکھ کر اس فرض کو ادا کیا ہے جو ہم سب پر قرض تھا۔ اس خیال کا اظہار ہفتے کو یہاں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت میں شاہد صدیقی کی کتاب پر مذاکرہ کے دوران مشہور اسلامی اسکالر پروفیسر اخترالواسع نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ حالات کی سنگینی کا رونا روتے ہیں لیکن ہم حالات سے مایوس نہیں ہیں۔جو امت کربلا کے بعد ختم نہیں ہوئی، سقوط بغداد کے بعد ختم نہ ہوئی، 1857کے بعد بھی باقی رہی اور1992کے بعد بھی باقی ہے، وہ آئندہ بھی زندہ رہے گی جبکہ زیربحث کتاب ”آئی وٹنس: انڈیا فرام نہروٹو نریندر مودی“کے مصنف سینئر صحافی و سیاستداں شاہد صدیقی نے کہا کہ اس وقت پورے ساؤتھ ایشیابلکہ دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی اقلیتیں خطرات میں گھری ہوئی ہیں،ان کو ظلم و زیادتی اور نفرت و عداوت کا سامنا ہے لیکن مایوس ہونے کے بجائے اسی عزم و ہمت اور حکمت ودانائی سے حالات کا سامنا کرنا ہوگاجس سے تحریک آزادی کے دوران اور اس کے بعد ہمارے بزرگوں نے کام لیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں اپنے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش، پاکستان اور خطہ کے دوسرے ملکوں کی اقلیتوں کے ساتھ بھی کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو اقلیتوں کے حقوق اور ان کے ساتھ انصاف کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانے کا مشورہ بھی دیا۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ اقلیتوں کی لڑائی سیاسی جماعتیں نہیں، سماجی تنظیمات لڑتی ہیں۔کتاب کے مواد کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ میری خوش قسمتی ہے کہ ان کرداروں کو زیادہ قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے مواقع ملے اور ایسے بہت سے واقعات کا گواہ ہوں جنھوں نے ملک کی سیاست اور سماج کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروز احمدایڈوکیٹ نے اپنے صدارتی کلمات میں یقین دہائی کرائی کہ شاہد صدیقی صاحب کا مشورہ قابل عمل ہے اور مشاورت اس پر پوری سنجیدگی سے کام کریگی۔انہوں نے زور دیا کہ سیکولرزم ہی اس ملک کا مستقبل ہے جبکہ مشاورت کے سابق صدر نوید حامدنے حالات کی سنگینی کو تاریخ کی روشنی میں دیکھنے پر زور دیتے ہوئے زیربحث کتاب کو ایک گرانقدر دستاویز بتایا۔ اس سے قبل کتاب کے مندرجات کے حوالے سے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مرکز برائے سماجی وسیاسی شمولیت کے استاد ڈاکٹر مجیب الرحمٰن نے نئی نسل کو متوجہ کیا کہ یہ ایک قابل مطالعہ کتاب ہے جس سے ہندوستان کی سیاست، سماج اور اس کی باریکیوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے بعض نکات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے اپنامطالعہ بھی شیئر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی تخلیق کا سہرا اندرا گاندھی کے سر باندھا جاتا ہے لیکن اس کے اصل آرکیٹکٹ ششانک بنرجی تھے جن کو یہ ذمہ داری اندراجی سے بہت پہلے پنڈت نہرو نے سونپی تھی۔ مذاکرے کے تعارفی کلمات مشاورت کے جنرل سکریٹری احمد جاوید نے پیش کیے۔وہی مذاکراے کی نظامت بھی کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حال کے برسوں میں کئی خود نوشتیں منظر عام پر آئی ہیں جن میں وی پی سنگھ سے منی شنکر ایر تک کی کتابین شامل ہیں لیکن اپنے مواد، اسلوب اور واقعات کی توجیہ کی وجہ سے آئی وٹنس ان سب پر سبقت لے گئی، سال کی بیسٹ سیلر اورسب سے زیادہ زیربحث کتاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہد صدیقی ہندوستانی مسلمانوں کی اس نسل کے نمائندہ ہیں جو آزادی کے بعد پیدا ہوئی اور ان نشیب و فراز کو بہت قریب سے دیکھا اور آزمائشوں کا سامنا کیاجن سے گذر کر آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے نئی نسل کی جانب سے حاضرین کو یقین دلایا کہ ہم نہ مایوس ہیں نہ شکست ماننے والے ہیں۔ ہمارے بہت سے نوجوان آج بھی اسی پامردی کے ساتھ آزمائشوں کا سامنا کررہے ہیں اورجیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہیں جو ہماری روشن تاریخ کا حصہ ہے۔ مذاکرے میں کثیر تعداد میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ارکان، دیگر اہل علم و دانش، سماجی و سیاسی کارکنان اور میڈیا کے نمائندے شریک تھے جن میں پروفیسر بصیراحمدخاں، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس، ڈاکٹر عارف اقبال، ڈاکٹر ادریس قریشی(صدر، دہلی مسلم مجلس مشاورت)،سیدشرف ایڈوکیٹ، اسلم احمد جمال ایڈوکیٹ، سردار گربچن سنگھ، ڈاکٹر سید اویس، ڈاکٹر ایس ایم مکرم، پروفیسر جی ایم بھٹ، ڈاکٹر سعدیہ، مولانا مقصود الحسن قاسمی، شفیق الحسن اورمشاورت کے جنرل سکریٹری شیخ منظور احمد،ڈاکٹر اقبال احمد، محمد معیز قدوائی، نوراللہ خان،محمداشرف بستوی،محمد اختر (ریٹائرڈ، ڈپٹی ایس پی)، انجینئر محمد نافس، انجینئر سہیل اجمیری اور دیگر معززین شامل رہے۔
ممتاز صحافی پرواز رحمانی کا انتقال ملک و ملت کا ناقابل تلافی نقصان:مشاورت

نئی دہلی:آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ممتاز صحافی پرواز رحمانی کے انتقالِ پُرملال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی ہے۔ ان کا انتقال اردو صحافت بالخصوص ملت کے فکری و صحافتی حلقوں کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشاورت کے صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے جماعت اسلامی ہند کے ترجمان سہ روزہ دعوت کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کے انتقال پر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم ایک باوقار، سنجیدہ اور اصول پسند صحافی تھے۔ انہوں نے اپنے طویل صحافتی سفر میں قلم کو امانت، خبر کو ذمہ داری اور صحافت کو سماجی و اخلاقی فریضہ سمجھا۔ اخبار دعوت کی ادارت کے دوران انہوں نے حق گوئی، فکری توازن اور ملت کے اجتماعی مسائل کو باوقار انداز میں اجاگر کرنے کی روشن روایت قائم کی۔ ان کی تحریروں میں نہ اشتعال تھا نہ سطحیت، بلکہ بصیرت، درد مندی اور ذمہ دارانہ اظہار نمایاں تھا۔ مشاورت مرحوم کی صحافتی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے اردو صحافت کو محض اطلاع رسانی کا ذریعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے فکری رہنمائی اور سماجی شعور بیدار کرنے کا مؤثر وسیلہ بنایا۔ انہوں نے جن نوجوانوں کی تربیت کی وہ ان کے بعد بھی اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جاتی رہے گی۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت مرحوم کے اہل خانہ، رفقائے کار، ادارہ دعوت کے وابستگان اور تمام اہل صحافت سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی حسنات کو قبول کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ
آج کی سب سے بڑی ترجیح ملک میں جمہوریت کی واپسی ہے

’عالمی یوم حقوق اقلیت‘ کے موقع پر دہلی مسلم مجلس مشاورت کے سیمینار سے مختلف مذاہب کے رہنماؤں کا خطاب ،انصاف کے لیے متحد ہوکرلڑنے کے عزم کا اعادہ، ہندو تو کے نشانے پر مسلمان لیکن سب سے زیادہ دلتوں کا نقصان،اقلیتوں کا ڈر دکھا کر دلتوں کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں لیکن دلت لیڈران ان کی گود میں کھیل رہے ہیں: فیروز احمد ایڈوکیٹ، حقوق کا تحفظ تو جمہوریت کی بقا میں ہے: پی آئی جوس، جس کمیونٹی نے چھ سو ستر سال ملک پر حکومت کی، وہ اقلیت میں کیوں آگئی؟ : پروفیسر رتن لال، ملک کی آزادی کے لیے قربانیاں ہم نے دیں، ہم ہی پھر قربانیاں دیں گے: سردار دیا سنگھ روزنامہ قومی بھارت، نئی دہلی بتاریخ: 21 دسمبر،2025
