جمہوریت کے تحفظ کے لیے شفاف انتخابات اور آزاد میڈیا ناگزیر: مقررین

پریس کلب آف انڈیا میں ‘وائلنس فری انڈیا’ کے اجلاس کا انعقاد، دلت، پسماندہ اور اقلیتی فرقوں کے لیڈران کا ملک کی سیاسی و سماجی صورت حال پر اظہار تشویش نئی دہلی:18 اکتوبر(پریس ریلیز): دلت، پسماندہ اور اقلیتی برادریوں کی تنظیموں کے مشترکہ مہم ‘وائلنس فری انڈیا’ (تشدد سے پاک ہندوستان) مہم کے تحت ہفتے کی سہ پہر پریس کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں ’’ہندوستان میں آئینی جمہوریت کی موجودہ صورت حال اور الیکشن کمیشن آف انڈیا سے متعلق تنازعات‘‘ کے موضوع پر ایک اجلاس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں کثیر تعداد میں مختلف کمیونٹی کے لیڈران، صحافیوں، نوجوانوں اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی، پروگرام میں مقررین نے آئینی جمہوریت کے تحفظ، انتخابی عمل میں شفافیت، میڈیا کی آزادی، شہریوں کے بنیادی حقوق اور جمہوری اداروں کی خودمختاری پر زور دیا۔ پروگرام کو آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، آل انڈیا مومن کانفرنس، کیتھولک ایسوسی ایشن آف آرک ڈایوسیس دہلی، امبیڈکر ایجوکیشن ٹرسٹ، بہوجن ایکتا منچ،آموڈے وغیرہ نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے قومی صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمہوریت کو مضبوط اور صحت مند بنانے میں میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا، کا کردار انتہائی اہم ہے۔ میڈیا عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور مظلوموں کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے حراست میں لیے گئے افراد کے معاملات کو میڈیا میں نمایاں کیے جانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس سے ان کی رہائی کے لیے آواز اٹھانے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سمیت کمزور طبقات کو درپیش مسائل، مبینہ مظالم اور ہجومی تشدد کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پولیس کی کارروائیوں اور قانون کے یکساں نفاذ پر سوالات اٹھائے۔ جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لیے انتخابی عمل شفاف ہونا چاہیے اور قانون کی بالادستی یقینی بنائی جانی چاہیے۔صدر مشاورت فیروز احمد نے عدلیہ کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ غریب اور پسماندہ طبقات کی زمینی مشکلات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کے مکانات تباہ ہو جاتے ہیں اور ضروری دستاویزات ضائع ہو جاتی ہیں، ان کے لیے دوبارہ کاغذات فراہم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں متعلقہ حکام کو متاثرین کے حالات اور عملی دشواریوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔صحافی انیل چمڑیا نے اپنے خطاب میں انتخابی عمل کی شفافیت، عوام کے حق رائے دہی اور جمہوری اداروں پر اعتماد کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پورے ملک اور تمام شہریوں کی نمائندہ ہوتی ہے، اس لیے ہر طبقے کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے سیکولرازم، آزادی اظہار اور پرامن احتجاج کے حق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مزدوروں، طلبہ اور عام شہریوں کو اپنے مسائل اٹھانے کے لیے مناسب مواقع ملنے چاہئیں۔ انتخابی نظام کے حوالے سے انہوں نے بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کی حمایت کی اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال پر پائے جانے والے خدشات کا ذکر کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سمیت جمہوری اداروں کی خودمختاری اور ساکھ برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے راجندر پال گوتم نے اپنے خطاب میں الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے الیکشن کمیشن کام کر رہا ہے، وہ جمہوری اقدار اور اصولوں کے منافی ہے۔ جمہوریت میں الیکشن کمیشن کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے اور اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ غیر جانب دارانہ، شفاف اور منصفانہ انداز میں اپنے فرائض انجام دے۔ لیکن اگر الیکشن کمیشن کا طرزِ عمل غیر جمہوری نظر آئے تو اس سے جمہوری نظام اور عوام کے اعتماد پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ آئینی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری غیر جانب داری اور شفافیت کے ساتھ ادا کریں، تاکہ ملک کے جمہوری نظام اور انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔سپریم کورٹ کے وکیل بلراج ملک نے اپنے خطاب میں عدلیہ کے کردار، شہری آزادیوں اور انتخابی شفافیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں۔ انہوں نے وی وی پیٹ اور انتخابی عمل کے حوالے سے عوام میں پائے جانے والے خدشات کا ذکر کیا اور کہا کہ انتخابی نظام کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا شفاف اور قابل اعتماد جواب دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے آزادی اظہار کو درپیش چیلنجوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ڈاکٹر علیم نے اپنے خطاب میں آزاد صحافت اور قلم کی طاقت کو جمہوریت کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا عوام کی آواز ہے اور معاشرے کے مسائل کو سامنے لانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے اظہار رائے کی آزادی کو محدود کرنے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صحافت کی آزادی اور شہریوں کے اپنے خیالات بیان کرنے کے حق کا تحفظ ضروری ہے۔پروگرام میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوریت کا استحکام صرف انتخابات کے انعقاد سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے شفاف انتخابی عمل، آزاد صحافت، قانون کی بالادستی، شہری آزادیوں کا تحفظ اور اظہار رائے کی آزادی لازمی ہے، مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ، آزاد میڈیا کی حوصلہ افزائی ۔اور آئینی اداروں کی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے وہ ہر طرح کی قربانیاں دیں

*آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس*

*ملک و ملت کو درپیش مسائل پر آل انڈیا کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ* نئی دہلی، 26 جولائی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس اتوار، 26 جولائی 2026ء کو مشاورت کے مرکزی دفتر، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی میں صدر مشاورت جناب فیروز احمد ایڈوکیٹ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز مولانا ڈاکٹر شیث محمد ادریس تیمی کی تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا۔ صدر مشاورت نے افتتاحی خطاب میں ملک کی موجودہ صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی، اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویوں، ماورائے قانون انہدامی کارروائیوں، مسلمانوں کے مکانات و عبادت گاہوں پر بلڈوزر کارروائی، نوجوانوں کو مبینہ جھوٹے مقدمات میں پھنسانے اور پرامن مظاہرین پر پولیس و نیم فوجی دستوں کےذریعے طاقت کے استعمال کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ظلم و ناانصافی کے خلاف تمام انصاف پسند قوتوں کے درمیان اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جنرل سکریٹری جناب احمد جاوید نے ستمبر 2025ء سے جولائی 2026ء تک کی تنظیمی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں رپورٹ میں اجتماعی قیادت کو مضبوط کرنے ، کمیونٹی کی قیادتوں کو انتشار، اضمحلال اور لاتعلقی سے نکالنے اور مشاورت کی ساکھ کو طالع عناصرکی استحصالی ذہنیت سے بچانے پر زور دیتے ہوئے قیادت کے قرآنی ماڈل کو اپنانے اور آگے بڑھانے میں حائل مشکلات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی بحث کے بعد مجلس عاملہ نے متعدد قراردادیں منظور کیں۔ ایک قرارداد میں نیٹ اور دیگر امتحانات میں مبینہ پیپر لیک کے واقعات پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات، تعلیم کی تجارت کو روکنے اور بدعنوان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی قرارداد میں دہلی سمیت مختلف مقامات پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی، طاقت کے استعمال اور پیلٹ گن چلانے کی مذمت کرتے ہوئے ان واقعات کی اعلیٰ سطحی عدالتی جانچ کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ دوسری قرارداد میں ملک کے مختلف حصوں میں مبینہ اہدافی انہدامی کارروائیوں، اقلیتی اداروں کو نشانہ بنانے اور مسلم نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کے رجحان پر تشویش ظاہر کی گئی، جبکہ رامپور کی مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو عمارتوں کے انہدام کانوٹس واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ یہ انتقامی کارروائی ہے جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ ایک اور قرارداد میں گجرات اسٹیٹ انٹیلی جنس بیورو (ایس آئی بی) کی اس مبینہ سفارش کی مذمت کی گئی جس میں اپنے مذہب پر پابندی کے ساتھ زندگی گزارنے والے مسلمانوں کی نگرانی اور ان کے مذہبی اعمال کو انتہاپسندی کی علامت قرار دینے کی بات کہی گئی ہے۔ اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسی کسی بھی سوچ یا طرز عمل کی بیخ کنی کی جائے۔ مجلس عاملہ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ کی پالیسیوں پر تنقید کی اور کہا کہ بھارتی مسلم برادری دنیا بھر کے مظلوم عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔  مشاورت کی مجلس عاملہ نے تنظیمی امور پر بھی اہم فیصلے لیے۔ اجلاس نے مشاورت کے بعض ارکان سے مختلف فیہ امور پربات کرنے کے لیےپانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی جس کے کنوینر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مقرر کیے گئےجبکہ اعجاز مقبول ایڈوکیٹ، انجینئر سکندر حیات، پروفیسر اختر الواسع اور پروفیسر بصیر احمد خاں اس کے ارکان ہوں گے۔مجلس عاملہ نے یہ بھی طے کیا کہ مرکزی دفتر وقتاً فوقتاً ریاستی مشاورتوں کو اہم قومی و ملی مسائل پر رہنمائی فراہم کرے گا تاکہ تمام ریاستی یونٹس یکساں موقف اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ سرگرم عمل رہیں۔ اجلاس کے اہم فیصلوں میں یہ اعلان بھی شامل تھا کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اکتوبر کے اواخر یا نومبر کے پہلے عشرے میں ملک اور ملت کو درپیش اہم مسائل پر ایک آل انڈیا کانفرنس منعقد کرے گی، جس میں مختلف مکاتبِ فکر، سماجی تنظیموں اور ماہرین کو مدعو کیا جائے گا۔اجلاس کا اختتام مشاورت کے نائب صدر اور مرکزی جمعیۃ اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی دعا پر ہوا۔ میٹنگ میں نوید حامد (سابق صدر، مجلسِ مشاورت)، انجینئر سکندر حیات، شیخ منظور احمد، ایڈووکیٹ اعجاز مقبول احمد، ابرار احمد، آئی آر ایس (ریٹائرڈ)، منصور آغا، ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی، ڈاکٹر ادریس قریشی (صدر، دہلی مسلم مجلسِ مشاورت)، خواجہ جاوید یوسف (ورکنگ صدر، مغربی بنگال مسلم مجلسِ مشاورت)، محمد احمد مومن (سیکریٹری جنرل، مہاراشٹر مسلم مجلسِ مشاورت) اور آصف انصاری وغیرہم موجود تھے۔

پیغمبر اسلام ؐ کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت – Copy

  نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے نام نہاد سوامی یتی نرسنگھانند کی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی شان میں گستاخی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بدزبان شخص نے جو گستاخانہ کلمات کہے ہیں، وہ اس کی بدترین اشتعال انگیزی اور ناقابل برداشت حرکت ہے۔صدر مشاورت فیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ایسے بدزبان شخص کو بلاتاخیر گرفتار کرے اور مقدمہ چلاکر سزا دے۔ انہوں نے کہا کہ اس کو آزاد چھوڑنا خطرناک ہے، کسی مہذب معاشرے میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہوسکتی، ایسے بدزبان شخص کی جگہ جیل ہے۔یہ شخص بار بار ملک کے کروڑوں باشندوں کی دل آزاری کر رہا ہے اور اس کی حرکتوں سے ملک کا امن وامان خطرے میں ہے۔ صدر مشاورت نے کہا کہ مسلمان ایک خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور مورتی پوجا اسلام میں بدترین گناہ ہے لیکن یہ اپنے ماننے والوں کو کسی بھی مذہب کی مقدس ہستیوں کی بے حرمتی سے روکتا ہے اور کسی کی بھی دل آزاری کی اجازت نہیں دیتا۔یہاں تک کہ قرآن نے ان دیوی دیوتاؤں کو بھی برا بھلا کہنے سے منع کیا ہے جن کو غیرمسلم پوجتے ہیں، انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ نرسنگھانند کی گستاخی ایک بیہودہ شخص کا فعل بد ہے، ہمیں اس بدزبان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنی چاہیے اورحکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اس شخص کو قرار واقعی سزا دے اور مسلمانوں کو چاہیے وہ جہاں بھی ہوں، اپنے ہم وطنوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی سیرت سے آگاہ کریں اور ان کو بتائیں کہ انسانوں کی آزادی اور برابری کے دشمنوں کو حضور محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے کیا تکلیف ہے اور وہ ان کے کردار کو اس لئے مسخ کرنا چاہتے ہیں تاکہ مظلوموں کو ایک ہونے اور ان کی تعلیمات انصاف و مساوات کو اپنانے سے روکیں۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے اجلاس میں ملک و ملت کو درپیش مسائل پر غوروفکر – Copy

مسلم تنظیموں کے نمائندوں،ممتازرہنماؤں اوردانشوروں کاملک کی سیاسی و سماجی صورتحال پر اظہار تشویش، اقلیتوں اور مظلوموں کے اتحاد پر زور، انصاف کے لیے مل کر لڑنے کاعزم ہجومی تشدد، بلڈوزر راج،نفرت و عداوت کی سیاست، اقلیت مخالف معاشی پالیسی ،سی بی ایس ای کی اردودشمنی، انتخابی حلقوں کی حدبندی،دہلی کے متاثرین فسادات کے لیے انصاف، بےگناہ قیدیوں کی رہائی،مظلومین آسام کی دادرسی اوروقف ترمیمی بل سمیت اہم امور پر 20 سے زائد قراردادیں منظور، پڑوسی ممالک اور فلسطین کے حالات و واقعات اورہندوستان پران کےاثرات بھی زیر بحث آئے نئی دہلی: ملک کی مؤقر مسلم تنظیموں اورممتازاشخاص کے وفاق “آل انڈیامسلم مجلس مشاورت” کا سالانہ اجلاس ہفتے کو نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ مہاراشٹر، جھارکھنڈ، کرناٹک، مغربی بنگال، تلنگانہ، دہلی، اتر پردیش، ہریانہ اور بہار کے نمائندوں کی ایک اچھی تعداد نے اس میٹنگ میں شرکت کی اور ملک وملت کو درپیش مسائل پرغوروفکرمیں حصہ لیا۔مسلم تنظیموں کے نمائندوں، ممتاز قائدین ، ارکان پارلیمنٹ ، دانشوران،علمائے دین اور اصحاب رائے نے اس موقع پر ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ، اقلیتوں اور دیگرکمزور طبقات کے اتحاد پر زور دیا اور انصاف کے لیے مل کر جدوجہد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ہجومی تشدد، نفرت کی سیاست، حکومت کی اقلیت مخالف اقتصادی پالیسی ، سی بی ایس ای کے اردو مخالف فیصلے، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی حالت، انتخابی حلقوں کی حد بندی، وقف ترمیمی بل، ذات برادری کی مردم شماری، بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں بلڈوزر راج، آسام اور یوپی کی تشویشناک صورت حال ،شمال مشرقی دہلی( 2020 ) کےمتاثرین فسادات کے لیے انصاف اوربےگناہ قیدیوں کی رہائی جیسے سلگتے مسائل پر تقریباً 20 قراردادیں منظور کی گئیں۔ اجلاس میں پڑوسی ممالک کی صورتحال ، فلسطین کے لوگوںپراسرائیلی مظالم اور دنیا پر اس کے اثرات بھی زیربحث آئے اوران پرقراردادیںمنظور کی گئیں۔شرکائے اجلاس کی پختہ رائے تھی کہ مسلمانوں کے خلاف حکومت کے دشمنانہ رویے، اقلیتوں اور دلتوں کے خلاف ریاستی ایجنسیوں کے استعمال اور نفرت کی سیاست کا متحد ہوکر مقابلہ کرنا ہے۔ صدرمشاورت فیروز احمد ایڈوکیٹ نے اپنے صدارتی کلمات میںبھی اس عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہاکہ ہم مسلمانوں کوبانٹنے کے لیے “پسماندہ غیرپسماندہ کارڈ” کھیلنےکی اجازت ہرگزکسی کونہیں دیںگے۔ انہوں نےکہا کہ مشاورت اپنی صوبائی یونٹوں کو مضبوط کرےگی اور کم ازکم 20 ریاستوں میں مشاورت کواسی سال فعال کیاجائےگا جبکہ مشاورت کے رکن اور سابق رکن پارلیمنٹ شاہد صدیقی نے اس موقع پرمشاورت کے ماضی کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشاورت ایک بااثر تاریخی تنظیم رہی ہے جس کی ساکھ کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں ارکان مشاورت پرزور دیا کہ آپ اس کی کریڈبلیٹی کو رسٹور کریں ،نہ توافراد کی کمی ہوگی نہ وسائل کی کمی رہےگی ۔انہوں نے کہا کہ مسلم ممبران اسمبلی و پارلیمنٹ کے درمیان آپسی روابط بڑھانےکی ضرورت ہے، مشاورت اس پر کام کرے کہ مسلم ممبران پارلیمنٹ و اسمبلی کم ازکم اسمبلی و پارلیمنٹ کے ہر اجلاس سے پہلے میٹنگ کیاکریں۔مشاورت نےان کی اس تجویزپررکن پارلیمنٹ جناب ای ٹی محمد بشیر ، سابق ممبران پارلیمنٹ جناب شاہد صدیقی، جناب عزیز پاشا، جناب کنور دانش علی ،جناب م افضل اورمشاورت کے سابق صدر جناب نوید حامد پرمشتمل پارلیمانی امورکی ذیلی کمیٹی تشکیل دی۔ اسی طرح مشاورت کے رکن اوراتر پردیش کے معروف سیاسی و سماجی رہنما اخترحسین اختر نے کہا کہ مشاورت کو اوقاف اور دوسرے اہم امور پر مسلمانوں کے لیے گائڈ لائن جاری کرنا چاہیےاور اس کام کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جائےجبکہ مشاورت کے نائب صدر نوید حامد نے کہا کہ ملک بھر سےسیکڑوں میل کا سفر کرکے ارکان و مندوبین کا اس اجلاس میں شریک ہونا ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ ملت کے مسائل میں کتنے سنجیدہ ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مشاورت کواب بھی ملک و بیرون ملک،سیاسی و سماجی حلقوں میں سنجیدگی سے لیاجاتاہے۔اس سے قبل مشاورت کے جنرل سکریٹری (میڈیا) احمدجاویدنے مشاورت کی گذشتہ کارروائیوں کی رپورٹ پیش کی ۔ رپورٹ میں ان صحافیوں کے لیے قانونی امدادکا نظم جو سچائی کو سامنے لانے کے لیے اپنے آپ کواوراپنے مستقبل کو خطرے میں ڈالتے ہیں اوراسی طرح میڈیا مانیٹرنگ سیل اور ڈیٹا سینٹر کے قیام کے منصوبے کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔مشاورت نے ملک وقوم کو درپیش مسائل پر قومی کنونشن بلانےاور سید شہاب الدین کی یاد میں سالانہ لیکچر کرانےکا بھی اعلان کیا ۔پہلا سیدشہاب الدین میموریل لکچر اس سال 4 نومبر کو منعقدکیاجائےگا۔ رپورٹ میں مشاورت کی عمارت کی تعمیر نو اور مشاورت ریفرنس لائبریری کے استحکام کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی گئی اوربتایاگیاکہ دفتر مشاورت میںایک علاحدہ ریڈنگ روم کی سہولت بھی ہے جو مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلباء کے لیےوقف ہے۔مشاورت کےجنرل سکریٹری (فائنانس)جناب احمدرضا نے سال گذشتہ کی آمدوخرچ کا حساب وکتاب اور سال 2024-25کابجٹ پیش کیا۔بنگلور (کرناٹک) سےآئے رکن مشاورت حیدرولی خاں نے مشاورت کے بجٹ میں انتظامی اموراورمیڈیا کےلیےرقوم میں اضافہ کرنے کی تجویز رکھی جس کی حاضرین نے تائید کی اوربجٹ کواتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔میٹنگ کے دوسرے حصے میں ڈاکٹر قیصر شمیم ،سابق سکریٹری سنٹرل وقف کونسل(حکومت ہند) نے وقف ترمیمی ایکٹ 2024 پر قرارداد پیش کی جس پر بحث میں سابق ایم پی عزیز پاشا اور دیگراراکین نےحصہ لیا۔اسی طرح ہجومی تشدد پرقراردادپر خورشید حسن رومی، منظور احمد اورسپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ اعجاز مقبول نےتجاویزپیش کیں۔ دونوں قراردادیں ان مسائل پر مرکزی حکومت اور ریاستوں کی این ڈی اے حکومتوں کی پالیسیوں اور کام کاج کے طریقے کو مسترد کرتی ہیں۔قرارداد میں نشاندہی کی گئی کہ قانون کے نفاذ کے تقریباً تین دہائیوں کے بعد بھی حکومت وقف ایکٹ 1995 کے تحت اوقاف کا سروے کرانے میں ناکام رہی ہے، نئے قواعد و ضوابط کی توضیع ، بورڈ میں کل وقتی سی ای او کی تقرری اور قانون کے دیگر مینڈیٹ پربھی اس نے عمل درآمد نہیںکیا۔ یہ صرف ریاستیں ہی نہیں جو ایکٹ کو نافذ کرنے میں ناکام رہی ہیں، مرکز بھی نگرانی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ سنٹرل وقف کونسل کی میعاد 3فروری2023 کو ختم ہو گئی تھی اور اس کی تشکیل نو نہیں کی گئی ۔ کونسل کے سیکرٹری کو 11اپریل2023 کو رخصت کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے کونسل