اسماعیل ہنیہ کے دہشت گردانہ قتل کی مذمت

آل انڈیامسلم مجلس مشاورت کے صدرفیروزاحمدایڈوکیٹ نے مشرق وسطی کی صورتحال پرگہری تشویش کااظہارکیا نئی دہلی:فلسطین کی جہادی تنظیم حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اورفلسطینی انتظامیہ کےسابق وزیراعظم اسماعیل ہنیہ کا ایران کے دارالحکومت تہران میں دہشت گردانہ قتل دنیاکی عسکری اورسیاسی تاریخی کاایک انتہائی اندوہناک واقعہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہوگی۔یہ بات جمعرات کویہاں ملک کی مسلم تنظیموں کی وفاق ”آل انڈیامسلم مجلس مشاورت“ کے صدرفیروزاحمدایڈوکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہی۔صدرمشاورت نے مشرق وسطیٰ کی دھماکہ خیزصورتحال پرگہری تشویش ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ قتل کی اس واردات سے خطہ میں امن کی کوششوں کوناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔انہوں نے کہاکہ اسماعیل ہنیہایک ایسے فلسطینی سیاست دان تھے جوخطہ میں قیام امن میں کلیدی کرداراداکرسکتے تھے اور وہ نہ صرف فلسطین کے مقبول ترین لیڈرتھے، فلسطینی حکومت کے وزیراعظم بھی رہ چکے تھے۔ واضح رہے کہ 62 سالہ اسماعیل ہنیہ کو 2017 میں خالد مشعل کی جگہ حماس کے سیاسی شعبے کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔ 2006کے پارلیمانی انتخابات میں حماس کی حیرت انگیز کامیابی کے بعد فلسطینی اتھارٹی میں جب انھوں نے حکومت کی سربراہی سنبھالی تھی،اس وقت وہ حماس کے بانی اورفلسطین کے مشہورروحانی پیشواشیخ احمدیاسین شہیدکے معتمدخاص ومعاون خصوصی کی حیثیت سے شہرت ومقبولیت رکھتے تھے۔ جاری کردہ  شہاب الدین  آفیس سکریٹری، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت

 فلاح و بہبود اور تعلیم کے بجٹ میں تخفیف پر اظہار تشویش 

عام بجٹ میں اقلیتوں کو نظر انداز کرنے پر صدر مشاورت فیروز احمد ایڈوکیٹ کااحتجاج،2022-23میں اقلیتی وزارت کی بند کی گئی اسکیموں کو دوبارہ بحال کا مطالبہ نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے قومی صدرجناب فیروز احمد ایڈوکیٹ نے عام بجٹ میں اقلیتی طبقہ کو پوری طرح نظر انداز کیے جانے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اقلیتوں کے ترقی سے متعلق کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔ اقلیتوں کے لئے مجموعی بجٹ 3183 کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے جوکہ عبوری بجٹ کے برابر ہے۔ عبوری بجٹ پیش کرنے کے دوران وزارت برائے اقلیتی امور کا مجموعی بجٹ پہلے ہی کم کر 3183 کروڑ روپے ہوگیا تھا جوکہ مالی سال2022-23 میں 5020 کروڑ روپے تھا۔ جبکہ مشاورت کے رکن اور ماہر اقتصادیات جناب ڈاکٹر جاوید عالم خان نے اس سلسلے میں کہا کہ بجٹ تخفیف کے بارے میں مرکزی وزارت برائے خزانہ کا یہ کہنا تھاکہ ضلعی اور صوبوں کے سطح پر نافذ کی جارہی اسکیمیں بہتر ڈھنگ سے مختص بجٹ خرچ نہیں کر پارہی ہیں،اسی لئے مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور کے بجٹ میں تخفیف کی گئی ہے۔ دراصل مجموعی بجٹ تخفیف کی اہم وجہ کئی ساری اقلیتی اسکیموں کو بند کردینا ہے جیسے کہ پری میٹرک اسکالرشپ جو پہلے درجہ 1 سے 10 تک دی جارہی تھی وہ اب 9 اور 10 کے طلباء کو ہی فراہم کی جارہی ہے۔ مدرسہ جدید کاری اسکیم، مولانا آزاد فیلوشپ، نئی اڑان اور مولانا آزاد فاؤنڈیشن کو مکمل طور سے بند کردیا گیا ہے۔ ان ساری وجوہات کی بنا پر اقلیتی امور کی وزارت کا بجٹ 2022-23 کے مقابلے تقریباً 40 فیصد کم ہوگیاہے۔   صدر مشاورت نے کہا ہے کہ اقلیتی طبقے کو یہ امید تھی کہ 23 جولائی کو مکمل بجٹ پیش کرنے کے وقت مرکزی وزیر خزانہ اپنی تقریر میں ملک کے عوام کے سامنے 2047 تک ہندوستان کو’وکست بھارت‘ بنانے کا ایجنڈا ضرور پیش کریں گی لیکن ’وکست بھارت‘ کے اعلانات میں ملک کی کل آبادی میں 20 فیصد اقلیتی طبقے کی ترقی کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے اور اقلیتوں کے بجٹ کا تناسب مجموعی بجٹ میں اس سال مزید  کم ہو کر.06 0فیصد سے بھی کم ہوگیا ہے۔ اس بجٹ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اقلیتوں کو’وکست بھارت‘ کی مہم میں شامل کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی ہے۔ اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے وزارت برائے اقلیتی امور کے بجٹ میں اضافہ کرکے دلتوں اور آدی واسیوں کے مختص بجٹ کے برابر رکھنا ضروری ہے۔ صدر مشاورت جناب فیروز احمد ایڈو کیٹ نے مطالبہ کیا کہ2022-23 میں اقلیتی وزارت کی جن اسکیموں کو بند کیا گیا تھا ان کو فی الفور بحال کرنی کی اشدضرورت ہے۔ اسکالرشپ اسکیموں میں اہلیت، مالی تعاون کی مقدار اور کوٹہ یا اسکالرشپ کے نمبرات میں 2008 سے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اس لیے اس میں مزید اصلاح کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کے 15 نکاتی پروگرام کو دلتوں اور آدی واسیوں کیلئے چلائے جارہے سب پلان کے طرز پر شروعات کی گئی تھی لیکن اس کے نفاذ کی صورتحال بہت خراب ہے۔ لہٰذا 15 نکاتی پروگرام کے بہتر نفاذ کیلئے مختص بجٹ میں اضافہ اور مانیٹرنگ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔