علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف اور آئین کی جیت

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے کہا کہ اقلیتوں کو ناروا قانونی لڑائی میں گھسیٹ کر ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے نئی دہلی: ملک کی مؤقر مسلم تنظیموں کے وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے سپریم کورٹ آف انڈیا کے اس تاریخی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے اقلیتی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے 1967 کے سید عزیز باشا مقدمہ کے فیصلے کو کالعدم کر دیا گیا۔ مشاورت کے صدر اور معروف قانون دان فیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ یہ آئین و انصاف کی جیت ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اب اقلیتوں کو ناروا قانونی لڑائی میں گھسیٹ کر ملک و قوم کی بہترین صلاحیتوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرقہ پرست عناصر ابے اپنے گریبانوں میں منھ ڈالیں۔ سپریم کورٹ کی سات رکنی آئینی بینچ نے جس کی سربراہی چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کر رہے تھے، عدالت کی اکثریتی رائے سے فیصلہ دیا کہ پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے قائم اداروں کا اقلیتی کردار ختم نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے عزیز باشا کیس میں سپریم کورٹ کے سابقہ موقف اور استدلال دونوں کو غلط قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ اس پر ایک نئی بنچ ہدایات تیار کرے گی۔ اب چونکہ سپریم کے اس فیصلے کی روشنی میں اب سپریم کورٹ کی نئی بنچ مسلم یونیورسٹی کے مقدمے کا فیصلہ کرے گی،مشاورت نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو جلد از جلد ہمیشہ کے لیے ختم کرے، قانون کی اس ناروا کشمکش کا سلسلہ کا سلسلہ بند ہونا چاہیے جس میں دہائیوں سے ہماری بیش قیمت توانائیاں ضیا ع ہورہی ہیں۔ صدر مشاورت فیروزاحمد ایڈو کیٹ نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ ملک میں صرف مذہبی اقلیتی ادارے ہی نہیں ہیں، لسانی اقلیتی اداروں کی بھی کثیر تعداد ہے اور ہندوؤں کے اقلیتی ادارے بھی ہزاروں کی تعداد میں ہیں لیکن مسلمانوں کی نفرت و عداوت میں گرفتار عناصر کی آنکھوں پر پٹیاں پڑی ہوئی ہیں۔ صدرمشاورت فیروز احمد ایڈوکیٹ نے میڈیا کے لیے جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بلکہ ملک بھر کے دیگر اقلیتی اداروں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے سے اقلیتوں کے تعلیمی ادارے قائم کرنے کے حق اور ان کے اقلیتی کردار کے تحفظ کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہے، جو ملک کے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ ابھی حتمی فیصلہ آنا باقی ہے اس لئے سپریم کورٹ میں پوری قوت اور حکمت عملی کے ساتھ اس لڑائی کو انجام تک پہونچانے کی ضرورت ہے۔
مشاورت نے مدرسہ بورڈ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا

بی جے پی کی حکومتیں دینی مدارس کو ہراساں کرنابندکریں: فیروزاحمدایڈوکیٹ نئی دہلی: اترپردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈکوالٰہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعے غیرآئینی قراردئے جانے کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ فرقہ پرست فاشسٹوں کے لیے سبق آموزہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اس کا خیرمقدم کرتی ہے۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب بی جے پی کے زیراقتدار ریاستوں میں مدارس اسلامیہ کوطرح طرح سے ہراساں کیاجارہاہے۔ ان خیالات کا اظہارمنگل کو یہاں ملک کی مسلم تنظیموں اور ممتازشخصیتوں کے وفاق(مشاورت) کے صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کیا، انہوں نے کہاکہ بی جے پی کی حکومتیں اورسرکاری ایجنسیاں مدارس کو ہراساں کرتی ہیں اوراس سے حوصلہ پاکر فرقہ پرست عناصربھی دینی مدارس کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، الٰہ آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھاجس میں کہا گیا تھا کہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ غیرآئینی ہے۔واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بچوں کو دینی تعلیم و تربیت دینا کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہے۔عدالت نے بڑی وضاحت کے ساتھ کہا ہے کہ سیکولرزم کا مطلب ہے ”جیو اور جینے دو“۔ اس سے ہندوستان کے تکثیری معاشرے میں متنوع تعلیمی نقطہ نظر کے ساتھ بقائے باہمی کے اصولوں اور ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔ اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدرسہ ایکٹ ریاست کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے، لہٰذا اس میں تعلیم کو معیاری بنانا اور طلبا کو اس قابل بنانا کہ ان میں سماجی اور معاشی سطح پر شراکت داری کی اہلیت پیدا ہو، حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ سپریم کوٹ نے آرٹیکل 21 اے اور رائٹ ٹو ایجوکیشن کو مذہبی و لسانی اقلیتوں کے حقوق سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ مدارس اپنے مذہبی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے سیکولر تعلیم دے سکتے ہیں۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈو کیٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مدارس میں زیر تعلیم بچوں کی اکثریت خط افلاس کے نیچے جینے والوں کی ہے اور یہ مدارس بلاتفریق سب کوفری تعلیم دیتے ہیں، ملک کی شرح خواندگی میں ان کاگرانقدرتعاون ہے، حکومت اترپردیش غیررسمی جزوقتی دینی درسگاہوں کوبھی مدارس میں شمار کرکے سنسنی پھیلاتی آئی ہے، مدارس کی سرگرمیوں میں مداخلت آئین و قانون کے منافی ہے،مسلمانوں کے آئینی حقوق، مذہبی آزادی،تعلیمی خودمختاری اوربچوں کی ہمہ گیرنشوونما کوپامال کر نے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جاسکتی۔ مدارس کو انکوائری کے نام پر ہراساں کیا جانا بھی ملک اور سماج کے مفادات کی پامالی ہے۔حق تعلیم ایکٹ مرکز اور ریاستوں کو بچوں کی پسند کے تعلیمی اداروں میں ہی معیاری تعلیم مہیا کرانے کا پابند بناتاہے اوراس قانون میں دینی مدارس کو تحفظ حاصل ہے اور یہ مدارس ملک کے ایک کروڑ سے زائداورریاست اترپردیش کیلاکھوں بچوں کی تعلیم کا بوجھ اٹھاتیاوریہ ملک کی شرح خواندگی میں گرانقدرتعاون کرتے ہیں۔
اردو کے تعلق سے سی بی ایس ای کی معاندانہ پالیسی پر مشاورت کا احتجاج

روزنامہ سیاسی تقدیر، اردو بتاریخ:02 نومبر،2024
اردو کے تعلق سے سی بی ایس ای کی معاندانہ پالیسی پر مشاورت کا احتجاج

، روزنامہ انقلاب اردو بتاریخ:02 نومبر،2024
اردو کے تعلق سے سی بی ایس ای کی معاندانہ پالیسی پر مشاورت کا احتجاج

سی بی ایس ای کے چیئرمین کے نام عرضداشت، اردو میں امتحانات لینے سے انکار بچوں کے آئینی حقوق اور قانون کی کھلی خلاف ورزی، مرکزی وزیر تعلیم سے مداخلت کا مطالبہ، مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ سی بی ایس ای کو تجارتی خطوط پر چلانا جمہوریت کی روح اور کثیرلسانیت کی قومی تعلیمی پالیسی پر حملہ ہے نئی دہلی:ملک کی مؤقرمسلم تنظیموں اور ممتاز رہنماؤں کے وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کی امتحانات سے متعلق پالیسی میں اردو کے ساتھ بورڈ کے معاندانہ رویے پر بورڈ کے چیئرمین مسٹر راہل سنگھ (آئی اے ایس) کے نام عرضداشت میں کہا ہے کہ اردو میڈیم اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے امتحانات اردو میں لینے سے انکار اردو لسانی بچوں کے آئینی حقوق اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مشاورت نے گزشتہ دنوں اپنے سالانہ مشترکہ اجلاس میں اس سلسلے میں ایک تفصیلی قرارداد منظور کرکے بھی بورڈ کے فیصلے پر سخت احتجاج کیا تھا۔ پس منظراور خدشات عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (MANUU) نے 2010 میں حیدرآباد، نوح (ہریانہ) اور دربھنگہ (بہار) میں اردولسانی بچوں کے لیے تین ماڈل اسکول قائم کیے تھے۔ ان اسکولوں کوسی بی ایس ای نے اردو بنیادی ذریعہ تعلیم کے ساتھ تسلیم کرتے ہوئے منظوری دی تھی۔ 2020 تک بورڈ ان اداروں کے طلباء کے لیے انگریزی، ہندی اور اردو میں امتحانات کے پرچہ سوالات فراہم کرتا رہا لیکن2021 سیاس نے اردو کو سوالات کے پرچوں کے آپشن کے طور پر بغیر کسی پیشگی مشورے کے ختم کر دیا جس سے مانو کے اسکولوں اوردوسرے اردو میڈیم اسکولوں کے طلبا ء وطالبات متاثر ہوئے۔ اس کے بعد سے ان بچوں کو مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ انہیں صرف ہندی اور انگریزی میں فراہم کردہ سوالات کے جوابات دینے پر مجبور کیا گیاہے۔ مزید برآں، جون 2024 میں، بورڈ (CBSE) نے ایک اضافی پالیسی متعارف کروائی جس کے تحت ہندی یا انگریزی کے علاوہ کسی اور زبان میں لکھے گئے پرچوں کی جانچ کے لیے سوائے قومی دارالحکومت دہلی کے پیشگی اجازت کی شرط رکھی گئی ہے۔ اس سے ملک بھر میں اردو میڈیم طلباء کے لیے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ اثرات کی سنگینی مشاورت نے اپنی قرارداد اور اس عرضداشت میں یہ بھی کہا ہے کہ اس پالیسی نے نہ صرف مانو سے ملحقہ اداروں کو متاثر کیا ہے بلکہ ملک گیر سطح پر اردو میڈیم تعلیم کی رسائی اور استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے، یہاں تک کہ مانو جیسی مرکزی یونیورسٹی بھی اس کی زد میں آگئی ہے۔ طلباء کو ان کی مادری زبان میں امتحانات لکھنے سے روک کرسی بی ایس ای، نئی قومی تعلیمی پالیسی 2024 میں اپنائی گئی کثیر لسانیت و جامعیت کی پالیسی کو نقصان پہنچا رہا ہے جو علاقائی زبانوں میں تعلیم کو فروغ دینے پر زور دیتی ہے۔ یہ عرضداشت زور دے کر باور کراتی ہے کہ اردو ہمیشہ سے ملک کی درج فہرست قومی زبانوں میں سے ایک ہے اور ہندوستان کے چھ کروڑ سے زائد شہریوں کی مادری زبان ہے، نیز یہ کئی ریاستوں کی سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ سوالات کے پرچے اردو میں جاری کرنے پر پابندی اور اردو میں امتحانات لینے سے انکار کرنا آئین اور قانون کے ذریعے دیے گئے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مطالبات مندرجہ بالا حقائق کے پیش نظر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے مطالبہ کیا ہے کہ سابقہ پالیسی کو فوری طور پر بحال کیا جائے جس کے تحت طلباء کو اردو میں سوالات کے پرچے ملیں اور وہ اردو میں اپنے جوابات لکھ سکیں۔ مشاورت کے صدرفیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ سی بی ایس ای کو تجارتی (کمرشیل) خطوط پر چلانا جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ مرکزی وزیر تعلیم کو مداخلت کرنی چاہیے۔کثیر لسانیت کو فروغ دینا حکومت کا فرض ہے۔ امتحانات میں اردو کے استعمال کو محدود کرنے کی پالیسی پر فوری نظرثانی کی جائے اور متاثرین کو سڑکوں پر اترنے اور قانون کی لڑائی چھیڑنے کے لیے مجبور نہ کیا جائے۔
بہرائچ کے فسادات اور کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے پر مشاورت کا سخت ردعمل

ملک کے سماجی تانے بانے کو سنگین خطرات لاحق، نفرت اور تشدد کی سیاست ناقابل قبول: فیروز احمد ایڈوکیٹ نئی دہلی: بہرائچ کے مہسی اور دوسرے مقامات پر پولیس کی پشت پناہی میں اتوار سے جاری فسادات پر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرقہ وارانہ منافرت اور تشدد کی سیاست سے ملک کے سماجی تانے بانے کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے اترپردیش کی یوگی حکومت کو اس کے لیے براہ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے، وزیر اعلی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ یوپی پولیس بلوائیوں کی پشت پناہی کررہی ہے، تصویروں اور ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اقلیتی آبادی پر حملہ کرنے والی بھیڑ میں کبھی پولیس آگے آگے اور دنگائی پیچھے پیچھے چل رہے ہیں جبکہ کبھی دنگائی پیچھے پیچھے اور پولیس آگے آگے چل رہی ہے۔صدر مشاورت نے کہا کہ بہرائچ میں تشدد کی جو کارروائیاں ہوئیں وہ اتفاقی نہیں، منصوبہ بندکارروائیاں ہیں، پہلے فساد کرایا گیا اور اب بے گناہوں پر ظلم ڈھایا جارہا ہے۔سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ فیروز احمد نے کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بھی انتہائی افسوسناک بتایا ہے جس میں اشتعال انگیزی کے ان ملزمین پر درج کردہ مقدمہ کو منسوخ کردیا گیا ہے جنھوں نے ایک مسجد میں گھس کر جے شری رام کا نعرہ لگایا اور علاقے کی سماجی ہم آہنگی اور امن و قانون کو تباہ کرنے کی سازش کی تھی۔انہوں نے کہا کہ عدالت کا یہ ریمارکس زیادہ قابل افسوس ہے کہ مسجد کے اندر جے شری رام کا نعرہ لگانے سے کسی کے مذہبی جذبات مجروح نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور ججوں کے اسی رویے سے شرپسندوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ درگا پوجا کے جلوس کے دوران ایک مسلمان کے گھر پر چڑھ کر اس پر موجود سبز مذہبی پرچم کو ہٹانا، بھگوا پرچم لہرانا اور جلوس کے ساتھ ڈی جے پر اشتعال انگیز گانا چلانا علاقہ میں فساد پھوٹ پڑنے کا سبب بنا کیونکہ پولیس نے شر پسندوں کو اس سے باز رکھنے کی کوشش نہیں کی۔یوپی کی حکومت و انتظامیہ فساد پر قابو پانے میں ہنوزناکام ہے، لگاتار دوسرے تیسرے دن بھی اقلیتی علاقوں پر حملے ہوئے، جمعرات کو ایک فرضی انکاؤنٹر میں پولیس نے مسلم نوجوانوں کو شدید زخمی کردیا اور اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یک طرفہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بہرائچ کی مہسی تحصیل کے مہراج گنج میں اتوار کی شام پھوٹ پڑنے والے فساد کا دائرہ دیہاتوں تک پھیل گیا اور شرپسندوں نے بے روک ٹوک اقلیتی فرقہ کے مکانوں، دکانوں اور عبادت گاہوں کو دن بھر نشانہ بنایا۔ شرپسندافرادگروپ کی شکل میں آس پاس کے مواضعات میں سرگرم رہے اور جابجا اب بھی حملے کررہے ہیں کیونکہ ان کو پولیس اور حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ صدر مشاورت نے کہا کہ یہ سلسلہ اس وقت تک رک نہیں سکتا جب تک کہ یوگی آدتیہ ناتھ اقتدار میں ہیں۔مقامی باشندے پولیس اور انتظامیہ کی بے حسی کی تنقید کر رہے ہیں لیکن ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے۔ بلوائیوں کا گروپ جب گاؤں میں توڑ پھوڑ، آتشزنی اور لوٹ مار کرکے چلا جاتا ہے تب پولیس آتی ہے اور وہ الٹے مظلوموں کو نشانہ بناتی ہے۔ضلع میں انٹر نیٹ خدمات بند ہیں۔ پولیس نے حالات قابو میں آجانے کا دعویٰ کیاہے لیکن سچائی یہ ہے کہ بلوائیوں کو لوٹ مار کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے اور پولیس بھی مظلوموں پر ہی ظلم ڈھارہی ہے۔ پورے متاثرہ علاقہ میں پولیس فورس تعینات ہے۔ایس ٹی ایف کے کمانڈو دستے اور سی آر پی ایف کے جوانوں نے مورچہ سنبھال لیا ہے لیکن صورت حال بدستور سخت کشیدہ اور دھماکہ خیز بنی ہوئی ہے۔ اتوار کو درگا پوجا کی مورتی وِسرجن کے جلوس کے دوران مسلم علاقوں سے گزرتے ہوئے ڈی جے پر انتہائی اشتعال انگیز گانے بجائے گئے اور پھر مسلمانوں کے ایک مکان پر چڑھ کر زبردستی سبز پرچم ہٹا کر بھگوا پرچم لہرایاگیا۔اس کے بعد پھوٹ پڑے تشدد کا سلسلہ آئندہ دو دنوں تک جاری رہا اور تشدد کی وارداتیں اب بھی ہو رہی ہیں۔ضلع کے فخرپور، قیصر گنج، گائے گھاٹ اور شہرکے مختلف علاقوں میں مورتی وِسرجن کے جلوس کے دوران شرپسندوں نے ہتھیاروں کا مظاہرہ کیا، ایک مزار میں آگ لگا دی۔ مدرسوں اور عبادت گاہوں پر پتھراؤ کیا، شہر کے چوک بازار سے متصل گنج تالاب مارکیٹ میں مسلمانوں کی دکانوں کو نشانہ بنایا، گاڑیوں کو آگ کے حوالے کیا اور پولیس یاتو اس میں شریک تھی یا تماشائی بنی رہی۔ مشاورت کا ماننا ہے کہ صدر جمہوریہ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس میں مداخلت کریں اور معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرائی جائے تاکہ مظلوموں کو انصاف مل سکے۔
مولانا ندیم الواجدی کی رحلت ملک و ملت کے لئے ایک ناگہانی صدمہ ہے: نوید حامد

نئی دہلی: ملک کے معروف عالم دین، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن، ماہنامہ ترجمان دیوبند کے ایڈیٹر، متعدد کتابوں کے مصنف و مؤلف، دینی و علمی کتابوں کے ناشر دارالکتاب اور لڑکیوں کے مدرسہ معہد عائشہ صدیقہ دیوبند کے بانی مولانا ندیم الواجدی کی اچانک رحلت پر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر نوید حامد نے اپنے گہرے رنج و ملال کا اظہار کیا اور کہا کہ مرحوم کا انتقال ان کے خاندان کے لیے ہی نہیں، ملک و ملت کے لیے بھی ایک ناگہانی صدمہ ہے۔ تعزیتی پیغام کا متن حسب ذیل ہے: منگل کی صبح یہ خبر انتہائی افسوس اور رنج کے ساتھ امریکہ کے شکاگو سے موصول ہوئی کہ مولانا ندیم الواجدی اب اس دار فانی میں نہیں رہے۔ مولانا اپنے صاحبزادے مفتی یاسرندیم الواجدی کے پاس گئے ہوئے تھے جہاں ان پر دل کا دورہ پڑا، نہایت نازک حالت میں ان کو اوپن ہارٹ سرجری سے گزارا گیا لیکن وہ جاں بر نہ ہوسکے۔مولانا مرحوم اپنی طالب علمی کے زمانے سے مسلمانوں کے سیاسی، سماجی اور تعلیمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔نوجوانی میں وہ دیوبند میں مسلم مجلس یوتھ سے وابستہ تھے۔آگے چل کر کتب خانہ قائم کیا جو صرف دارالاشاعت نہ تھا، نوجوان اہل قلم اور طالب علموں کی تربیت گاہ بھی تھا۔انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے دیوبند میں معہد عائشہ صدیقہ قائم کیا۔ وہ ایک بڑے مقبول کالم نگار اور جہاندیدہ صحافی بھی تھے۔مرحوم کی دینی، علمی اور سماجی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مولانا ندیم الواجدی نے صحیح معنوں میں اپنی زندگی دین کی خدمت اور ملت کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دی تھی۔ انہوں نے امام غزالی کی مشہور کتاب احیاء العلوم کا سلیس اردو میں ترجمہ کیا جو ان کے ذہن و فکر کی عکاسی ہے۔ ان کے علمی مقالات، کالم، اور تحریریں اسلامی شعور و آگاہی کو فروغ دینے کی نمایاں خدمت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی وفات نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ میں مولانا ندیم الواجدی کے اہل خانہ، متعلقین اور تمام چاہنے والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
مولانا ندیم الواجدی کا انتقال ملک و ملت کا ناقابل تلافی نقصان: فیروزاحمد ایڈوکیٹ

مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور مصنف و صحافی مولانا واجدی کی موت پر مسلم مجلس مشاورت کا پیغام تعزیت نئی دہلی: ملک کے معروف عالم دین، ماہنامہ ترجمان دیوبند کے ایڈیٹر، متعدد کتابوں کے مصنف و مؤلف اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا ندیم الواجدی کی اچانک رحلت ملک و ملت کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ منگل کی صبح یہ خبر انتہائی افسوس اور رنج کے ساتھ امریکہ کے شکاگو سے موصول ہوئی جہاں وہ اپنے صاحبزادے مولانا یاسرندیم الواجدی کے پاس گئے ہوئے تھے۔ ان جذبات کا اظہار آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے مولانا ندیم الواجدی کے انتقال پرملال پر اپنے تعزیتی پیغام میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مرحوم کی دینی، علمی اور سماجی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مشاورت نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مولانا ندیم الواجدی نے اپنی زندگی دین کی خدمت اور ملت کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دی تھیں۔ امام غزالی کی مشہور کتاب احیاء العلوم کا سلیس اردو ترجمہ ان کے کاموں میں ایک نمایاں کام اور ان کے ذہن و فکر کا عکاس ہے۔ ان کے علمی مقالات، کالمز، اور تحریریں اسلامی شعور و آگاہی کو فروغ دینے میں ان کے نمایاں خدمات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی وفات نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت مولانا ندیم الواجدی کے اہل خانہ، متعلقین اور تمام چاہنے والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور دعا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ اللہ ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کی طاقت دے۔ جاری کردہ:
دہلی مسلم مجلس مشاورت کی مشترکہ میٹنگ

سیاسی و سماجی مسائل پر سنجیدہ غوروفکر، مجلس عاملہ اور ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل پیغمبراسلام ﷺکی شان میں گستاخی کی مذمت، مجرموں کو سزا دلانے کا مطالبہ، متاثرین فسادات کیلئے انصاف اور اوقاف کے تحفظ کے لیے عزم کا اعادہ، عہدیداروں کا تعارف کرایاگیا اوردہلی مشاورت کے ممبران کو قومی صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ اور دیگر معززین کے دست مبارک سے رکنیت کی سند پیش کی گئی نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی نومنتخب مجلس عاملہ اور جنرل باڈی کی پہلی مشترکہ میٹنگ اتوار کو یہاں مشاورت کے مرکزی دفتر میں منعقد ہوئی جس کی صدارت دہلی مشاورت کے صدر ڈاکٹر ادریس قریشی نے کی۔ اپنے خیرمقدمی کلمات میں انہوں نے کہا کہ ہم دہلی کے مسلمانوں کے مسائل کا سامنا پوری مضبوطی سے کریں گے اور اس کے لیے ریاست میں مشاورت کو زیادہ فعال اور منظم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہر کے تمام اضلاع میں مشاورت کے ارکان، مسلم تنظیموں کے نمائندوں اور ائمہ مساجد سے رابطہ کررہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ہرضلع میں کم ازکم ۵ افراد کو مشاورت سے جوڑنا ہے جبکہ مشاورت کے قومی صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے اس موقع پر کہا کہ کسی بھی آل انڈیا تنظیم کے لیے اس کی صوبائی یونٹ اس کے دست و بازو کا درجہ رکھتی ہے، اس لیے ہماری پوری توجہ ریاستی مجلس مشاورت کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنے پر ہے اور اس کے لیے ریاستی یونٹ کو ہم ہرممکن تعاون دیں گے۔ اس سے قبل میٹنگ میں سیاسی و سماجی مسائل پر قراردادیں پیش کی گئیں جن پر بحث میں شرکائے اجلاس نے کھل کر حصہ لیا، تجاویز پیش کیں اور تمام قراردادیں اتفاق رائے سے منظور کی گئیں۔ مشاورت نے پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں فرقہ پرستوں کی گستاخی پراپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اس مسئلے پر انجینئر ابوسعید نے قرارداد پیش کی جس میں خاص طور پر ڈاسنا کے دریدہ دہن نام نہاد سوامی یتی نرسنگھانند کی سخت مذمت کی گئی۔ اس بدزبان شخص کے گستاخانہ کلمات کو بدترین اشتعال انگیزی اور ناقابل برداشت حرکت بتاتے ہوئے مطالبہ کیاگیا کہ ایسے شخص کو پولیس بلاتاخر گرفتار کرے اور مقدمہ چلاکر سزا دے۔ اس کو آزاد چھوڑنا خطرناک ہے،وہ بار بار ملک کے کروڑوں باشندوں کی دل آزاری کر رہا ہے اور اس کی حرکتوں سے ملک کا امن وامان خطرے میں ہے۔مشاورت نے زوردیا ہے کہ کسی بھی مذہب کی مقدس ہستی کی توہین کرکے لوگوں کی دل آزاری کرنے والے شخص / اشخاص کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ قائم کیا جائے اور اگر پولیس ہماری شکایت پر کارروائی نہیں کرتی ہے تو براہ راست عدالت سے رجوع کریں اور پولیس کو مقدمہ درج کرنے پر مجبور کریں جبکہ شمال مشرقی دہلی (2020) کے فرقہ وارانہ تشدد کے شدید اثرات کومحسوس کرتے ہوئے، جس کے نتیجے میں تقریباً 55 معصوم افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے اوربڑے پیمانے پر بے گناہ لوگ بے گھر ہوئے،مشاورت نے اس اجلاس میں ایڈوکیٹ محمد طیب خاں کے ذریعے پیش کردہ قرار داد میں متاثرین کے لیے فوری امداد اور انصاف کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انصاف میں تاخیر انصاف کی نفی ہے۔مشاورت نے قرارداد میں کہا ہے کہ عمر خالد، خالد سیفی، گل افشا ں فاطمہ اور ان جیسے دیگر کارکنوں کی مسلسل قید کی تشویشناک صورت حال کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے جنہیں ان کے پرامن سرگرمیوں کے باوجود ناجائز طور پر قید میں رکھا گیا ہے۔ انصاف میں یہ تاخیر متاثرین کے درد میں اضافہ کرتی ہے اور عدالتی عمل کی صحت پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔آمدو خرچ کا حساب و کتاب اور2024-25کا بجٹ جناب ایس ایم یامین قریشی (سی اے)نے پیش کیا۔ دہلی مشاورت نے میٹنگ میں اپنی مجلس عاملہ کے ارکان کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے حاضرین سے ان کا تعارف بھی کرایا۔مولانا نثار احمد نقشبندی، مسرورالحسن صدیقی ایڈوکیٹ اور انجینئر ابو سعید نائن صدر، ڈاکٹر اقبال احمدجنرل سکریٹری، رئیس احمد ایڈوکیٹ اور سید عشرت علی سکریٹری اور عزیزالرحمٰن راہی، اشرف علی بستوی، اطہر ابراہیم، بدرالاسلام کیرانوی، ڈاکٹر ریحانہ، فیروزاحمد صدیقی، کبیرخان ایڈوکیٹ، محمد الیاس سیفی، محمد تقی، محمد رئیس الاعظم فیضی، رئیس اعظم خان، صنوبر قریشی ایڈوکیٹ، تقی حیدر اور ذیشان خالق ارکان عاملہ بنائے گئے ہیں۔جبکہ جناب اسلم احمد جمال ایڈوکیٹ کوقانونی امور کی کمیٹی کا کنوینر اور معین الدین حبیبی (سابق رجسٹرار جامعہ ملیہ اسلامیہ) کو تعلیمی کمیٹی کا کنوینر نامزد کیا گیا ہے۔میٹنگ کا افتتاح حافظ عاطف کی تلاوت سے ہوا، نظامت کے فرائض ڈاکٹر اقبال احمد نے انجام دئے، شکریے کی تحریک منصور احمد نے پیش کی۔ میٹنگ کے اختتام سے قبل دہلی مشاورت کے ارکان کومرکزی مجلس مشاورت کے صدرفیروزاحمد ایڈوکیٹ، دہلی مشاورت کے سابق صدر سیدمنصورآغا اور دیگر معززین کے ہاتھوں سند رکنیت پیش کی گئی۔ جاری کردہ:
پیغمبر اسلام ؐ کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت:مشاورت

روزنامہ راشٹریہ سہارا، دہلی بتاریخ:06 اکتوبر،2024