لوک سبھا سے وقف ترمیمی بل کی منظوری پر مشاورت کا اظہار افسوس

بی جے پی اوراس کی حلیف پارٹیاں انصاف کے تقاضوں اور ملک کے آ ئین کی روح کو پامال کررہی ہیں:فیروز احمد ایڈوکیٹ  نئی دہلی:آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے لوک سبھا سے وقف ترمیمی بل 2024 کی منظوری پراظہار افسوس کر تے ہوئے کہاہے کہ بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتیں انصاف کے تقاضوں اور ملک کے آئین و قانون کی روح کو پامال کررہی ہیں۔ مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہ بل دستور میں دی گئی مذہبی آزادی، مساوات اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہے اور دستور کی بنیادی حقوق کی دفعات14،25 اور26 کوپامال کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بل وقف کی خودمختاری اوراوقاف کے انتظام و انصرام میں صریح مداخلت ہے،بطور خاص بورڈ میں ممبران کے لئے مسلمان ہو نے کی شرط کا ہٹایا جانا اور دوغیر مسلموں کی شرکت کو لازمی قرار دینا، دراصل مسلمانوں سے ان کی مذہبی و خیراتی اداروں کے معاملات کو انجام دئے جانے کی خودمختاری کو سلب کرناہے۔اسی طرح وقف ٹربونل میں شریعت کے جانکار کا التزام ختم کیا جانا، بدترین درجے کی فرقہ پرستی ہے اوریہ سنگین مشکلات پیدا کرے گا۔  آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے ملک کے انصاف پسندلوگوں سے اپیل کی ہے کہ ان ترمیمات کے نفاذ کو روکنے کی ہر ممکن تدبیر کی جائے کیونکہ ان کے سماجی و اقتصادی نقصانات اوراوقاف پرپڑنے والے اثرات بالکل واضح اور بدیہی ہیں۔مشاورت کے صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اپنی ممبرجماعتوں، دوسری تمام ملی تنظیموں اورسیکولرجماعتوں اور رہنماؤں کو ساتھ لے کر اوقاف کو درپیش خطرات کے خلاف ایک کل ہند تحریک شروع کرے گی۔  انہوں نے کہاکہ بی جے پی نے اپنے سراسرجھوٹے اور گمراہ کن پروپگنڈے کو پھیلانے کے لیے پارلیمنٹ کو استعمال کیا اور اس کا پالتومیڈیا ملک میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ ماحول بنا رہا ہے اگر اسے روکا نہ گیا تو یہ ملک کو شدید نقصان سے دوچار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی مسلمانوں کوبھی گمراہ کرنے اور آپس میں لڑانے کی سازشیں کر رہی ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے پس ماندہ طبقات کی فلاح کے لئے لایا گیا ہے۔ انہوں نے جنتادل (یو نائٹیڈ)، تلگو دیشم پارٹی اور بی جے پی کی دیگر حلیف پارٹیوں کو متنبہ کیا ہے کہ اس متنازعہ اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر لائے گئے بل کی حمایت کی انہیں بھاری قیمت ادا کر نی پڑے گی۔

سنبھل کی جامع مسجد کے صدرظفرعلی ایڈوکیٹ کی گرفتاری کی مذمت

یوپی میں خودپولیس کے ذریعے ریاست کے نظم و قانون اور سماج کے امن کو خطرے میں ڈالاجا رہا ہے: فیروزاحمد ایڈوکیٹ  نئی دہلی: سنبھل کی شاہی جامع مسجدکی انتظامیہ کمیٹی کے صدر ظفر علی ایڈوکیٹ پرفرضی مقدمات اور ان کی گرفتاری انتہائی قابل مذمت کارروائی ہے۔پولیس کی ذمہ داری قانون وانصاف کی پاسداری اور سماج کے امن وامان کی حفاظت ہے لیکن بدقسمتی سے اتر پردیش کی پولیس باربار خود ہی ریاست کے نظم و قانون اور سماج کے امن و اتفاق کو نقصان پہنچا رہی ہے اور سنبھل میں شہر کی ایک معززشخصیت، مشہورو معروف وکیل اور جامع مسجد کی انتظامیہ کے صدرکی گرفتاری اس سلسلے کی تازہ مثال ہے۔ یہ بات آج یہاں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدرفیروزاحمد ایڈوکیٹ نے کہی۔انہوں نے کہا کہ سنبھل پولیس کے ایک افسر نے ہولی کے موقع پر جس قسم کا بیان دیا، اس کی چوطرفہ مذمت ابھی ہوہی رہی تھی کہ اب اس نے ظفرعلی ایڈوکیٹ کو گرفتار کرکے بے چینی پھیلادی اورشہر کے وکلاء میں زبردست غصہ پھیل گیا۔یوپی پولیس بار بار ریاست کے مسلمانوں کے صبر کا امتحان لے رہی ہے۔فیروزاحمدنے کہا کہ سنبھل میں شاہی مسجدکے سروے کی آڑ میں فرقہ پرستوں کے ساتھ مل کر پولیس نے جس طرح تشدد کا بازار گرم کیااور معصوم نوجوانوں کو قتل کیا،اس نے ساری دنیا میں ہندوستان کی جمہوریت کو رسوا کیاہے۔  سنبھل کی جامع مسجد کمیٹی کے سربراہ کو 24 نومبر کے فسادات کی سازش اوردوسرے الزامات میں اتوارکوگرفتار کیا گیا۔اس کے لیے شہرکو چھاونی میں تبدیل کیا گیا تھا۔  سنبھل تھانے میں کئی تھانوں سے فورسز کو بلایا گیا تھا۔ پی اے سی اور آر آر ایف کی کئی کمپنیاں کو تعینات طلب کر لی گئی تھیں۔ شہر کے اہم مقامات پر فورس تعینات کرکے خوف و دہشت کا ماحول بنایا گیا۔پولیس اور حکومت یہاں جو ماحول بنا رہی ہے، اس سے ریاست میں سماجی امن و استحکام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔