آستینوں میں چھپالیتی ہے خنجر دنیا اورہمیں چہرے کا تاثر نہ چھپانا آیا
ملک میں اپنی نوعیت کی واحدتاریخی تنظیم” آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت” کا قیام 1964 میں مسلم جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم کے طورپر جن حالات میں ہوا تھا،آج ہمارے سامنے ان سےکہیں زیادہ مشکل حالات ہیں اورکسی ذی شعورمسلمان کو احساس دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اتحادویکجہتی کی قدروقیمت کیاہے۔پھربھی ہمیں مشاورت کے معزز ارکان کو یہ خط لکھنا پڑرہا ہےجوانتہائی تکلیف دہ ہے۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر اور سابق رکن ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں صاحب نےارکان مشاورت کوخط لکھ کرایک بار پھر اختلاف و انتشارکوہوادینے اور غلط فہمیاں پیداکرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ کہ وہ رجسٹرڈ مشاورت کا صدر ہونے کے دعویدارہیں اور لوگوں کو مشاورت کارکن بنانے کے نام پر چندہ کی مہم چلارہے ہیں جوان کا سراسر بےبنیاد دعویٰ اورگمراہ کن فعل ہے۔
اول تو اس گروپ کا جس نےاس وقت کےصدر مشاورت سید شہاب الدین مرحوم کی مخالفت میں مشاورت سےالگ ہوکر 2003میں سوسائٹی رجسٹرڈکرائی تھی، 2013میں اصل مشاورت کے ساتھ باضابطہ انضمام ہوچکا ہے اور رجسٹریشن کے اصل کاغذات ہماری کی تحویل میں ہیں،لہٰذا ایسی کسی سوسائٹی کا کوئی علاحدہ یامتوازی وجود اب کہیں باقی نہیں ہے۔خودراقم السطور شیخ منظوراحمدکوبھی اسی رجسٹرڈمشاورت نے رکنیت دی تھی اوراسی انضمام و اتحادکے نتیجے میں یہ حقیراب آل انڈیامسلم مجلس مشاورت کاحصہ ہے ۔دوم ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں 2022 سے مشاورت کے رکن بھی نہیں ہیں، تادیبی کارروائی کے تحت موصوف کی رکنیت منسوخ ہوگئی تھی کیونکہ انہوں نے مختلف حیلوں بہانوں سے مشاورت اور اس کی جائیدادوں پر مستقل قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی جس کی تفصیلات ارکان مشاورت کے علم میں ہیں۔ مشاورت کے تنظیمی امور میں مداخلت کا کوئی حق آں موصوف کو نہیں پہنچتا، ان کی یہ سرگرمیاں سراسر ناجائز اور قانوناً قابل مواخذہ ہیں۔وہ اور ان کے پیچھے جولوگ بھی ہیں مشاورت میں رجسٹرڈ سوسائٹی کے انضمام واتحاد کوتباہ کرنے کی مذموم سازش اورذاتی مفادات کےحصول کے لیے مشاورت کوناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں جوان شاء اللہ کامیاب نہیں ہوگی۔ضرورت ہے کہ ان عناصر کی سازشوں کا قلع قمع سختی سے کیا جائے ورنہ اتنا تفصیلی خط لکھنا اور آپ کو زحمت توجہ دینا کوئی خوشگوار عمل نہیں ہے۔
ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے مکتوب (مرقومہ29اپریل 2024 ) کے ذریعے ارکان مشاورت کی میٹنگ بلائی ہےاورلوگوں کو ورغلانے کے لیےانہوں نے مشاورت پر اپنےبےبنیادسنسنی خیز الزامات کا اعادہ کیا ہے،مثلاً دستور مشاورت میں منمانی ترمیمات کی گئیں،مشاورت سے 70 ارکان کو نکال باہر کیاگیا اور غیرمعیاری لوگوں کو مشاورت کی رکنیت دی گئی جبکہ ان کا ایک بھی دعوی حقیقت سےقریب نہیں ہے۔ڈاکٹر خان کے دعووں کی دستاویزی تردیدمشاورت کے کاغذات میں موجود ہے ۔وہ اپنے زیرنظر مکتوب میں اپنی تحریروں، تقریروں اور مشاورت کی کارروائیوں میں موجود ان مندرجات کے برخلاف دعوے کررہے ہیں جن پر ان کے دستخط موجود ہیں ۔زیرنظرمکتوب میں آپ ان کی نکات وارتفصیلات د یکھ سکتے ہیں۔
جیساکہ آپ جانتے ہیں،مشاورت کے دستور میں کبھی کوئی منمائی ترمیم نہیں کی گئی اور ایسا کرناممکن بھی نہیں ہے۔اگریہ ممکن ہوتاتو ڈاکٹرصاحب موصوف اپنے دور صدارت کے آخری ایام میں ترمیم لانے کی جوکوشش کررہے تھے، ناکام نہ ہوتی ۔دستورمیں جو ترامیم آخری بار لائی گئی ہیں،ان میں ہرترمیم کو 67 فیصد سے 81 فیصد تک ارکان مشاورت کی تائید حاصل ہے اورترمیم شدہ دستور کے نفاذ کے بعد مشاورت کی مجلس عاملہ کے انتخابات (برائےمیقات 2026-2023 ) میں 85 فیصد سے زیادہ ارکان نے حصہ لیا اور منصب صدارت کے لئے دو امیدواروں کے درمیان دوستانہ مقابلہ میں منتخب امیدوار کو تقریباً 57 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ڈاکٹر صاحب موصوف کااعتراض ان کے آمرانہ مزاج کا اشتہار اورایک انتہائی غیرجمہوری فعل ہے۔
دستور میں ترمیم یا اس کی کسی شق پر اختلاف رائے کو مسئلہ بناکر انتشار کو ہوا دینا ہر گز کوئی دانشمندی نہیں ۔جو لوگ بھی اس طرح کے کام کررہے ہیں،مسلمانوں کے اتحاد اور ملی تنظیموں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ مشاورت ایک جمہوری تنظیم ہے اور دستور مشاورت میں ترمیم و تصحیح کا دروازہ ہر وقت کھلا ہواہے ۔ ارکان مشاورت جب چاہیں دستور میں مذکور ضوابط (Due process)کے تحت ایسا کر سکتے ہیں ۔ اگر دستور کی کسی شق پر کسی کے پاس کو ئی معقول اعتراض ہے تو وہ اپنی تجاویز مشاورت میں پیش کرے نہ کہ لوگوں کو ورغلاکر جتھے بنائے اوران کے دلوں میں وسوسے ڈالے۔
جن ارکان کی رکنیت دستورمشاورت کی روشنی میں ان کی عدم فعالیت اور ڈفالٹ کی بناپر منسوخ ہوئی تھی، ان کے تعلق سےڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب نے اپنے خط میں دعوی کیا ہے کہ 70 ارکان کا مشاورت سے اخراج کردیا گیا جبکہ غیرفعال ارکان کی رکنیت منسوخ کرنے کی قرارداد خود ان کی اپنی صدارت میں منعقدہ مشاورت کی جنرل باڈی اور مجلس عاملہ کی 5 ِ دسمبر 2015ء کی مشترکہ میٹنگ میں منظورکی گئی تھی اوربالآخر 12 فروری 2017 کی جنرل باڈی میٹنگ میں جس میں ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب بنفس نفیس موجود تھے اور اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ ان ایکٹیو ارکان کا اخراج ہو، یہ طے کیا گیا تھاکہ فی الحال ایسے 14 ان ایکٹو (غیر فعال) ارکان کا اخراج کیا جائے۔ غیر فعال ارکان کا معاملہ اکتوبر 2018 کی حیدرآباد میں منعقد جنرل باڈی میٹنگ میں بھی زیر بحث آیا اور پھر27ِ فروری 2021 کوبھی اس معاملے پر آسام سے رکن جناب حافظ رشید احمد چودھری صاحب(جن کی حمایت کےڈاکٹرصاحب دعویدارہیں) کی تحریری قرارداد میٹنگ میں پیش ہوئی۔دستور کی متعلقہ شقوں اور قراردادمشترکہ اجلاس (5دسمبر2015) کی روشنی میں اس پرکارروائی کے نتیجے میں جن غیر فعال ارکان کی رکنیت منسوخ کی گئی، ان کی تعداد صرف 27 ہوتی ہے جن میں 7 ارکان وہ تھے جنھوں نے مشاورت کی رکنیت لینے کے بعد کبھی مشاورت کی کسی ایک میٹنگ میں بھی شرکت کرنا گوارا نہیں کی تھی۔ خیال رہے کہ ان میں بھی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن کااب انتقال ہوچکا ہے۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے رجسٹریشن کا کھوکھلا سہارا لیکر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان بھارت کے مسلمانوں کے واحد وفاقی ادارہ کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور ان کے پیچھے وہ طاقتیں ہیں جو اس ادارہ کو یا تو ختم کرنا چاہتی ہیں یا وہ نادان لوگ ہیں جو مشاورت کے رکن بننے کے قابل بھی نہیں تھے لیکن اب اپنے سیاسی اور کاروباری مفادات کے فروغ کے لئے اس سازش میں ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی پشت پر کھڑے ہیں ۔
امیدقوی ہے کہ ہمارایہ مکتوب لوگوں کے اس خلجان کو دور کرنےمیں مددگار ہوگا جوڈاکٹر صاحب موصوف اور ان کے ساتھیوں نے اپنی سرگرمیوں سے پیداکیاہے۔رب کریم ہمارا حامی و ناصر ہے۔
نئی دہلی 21 مئی 2024
مکرمی ارکان و ہمدردان مشاورت!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
اللہ جل شانہ کی ذات سے پر امید ہوں کہ آپ بخیر ہوں گے۔
خدمت گرامی میں ضروری گزارش یہ ہےکہ
1-چند ارکان مشاورت اور ہمدردان ملت نے توجہ دلائی ہےکہ ان حضرات کو مشاورت کے سابق صدر و سابق رکن جناب ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب(جن کی رکنیت 2021 میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے تادیبی کارروائی کے تحت منسوخ کر دی تھی) کا ایک خط موصول ہوا ہے۔ اس خط میں انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کو محترم محمد جعفر صاحب اور حافظ رشید احمد چودھری صاحب کی حمایت حاصل ہے حالانکہ محمد جعفر صاحب نے مشاورت کی رکنیت سے 2016 میں اور حافظ رشید احمد چودھری صاحب نے 2022میں استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان دونوں حضرات کے تحریری استعفے دفتر مشاورت میں موجود ہیں۔ اسی کے ساتھ انھوں نے یہ مضحکہ خیز دعویٰ بھی کیا ہے کہ وہ رجسٹرڈ مشاورت کے صدر ہیں اور یہ کہ لوگ اس نقلی مشاورت کا رکن بننے کے لئے پیسے بھیجیں۔
: ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کے خلاف تادیبی کارروائی کی مختصر بیک گراؤنڈ
2- آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مجلس عاملہ نے 2014ء میں مشاورت کی گولڈن جوبلی تقریبات منانے کے فیصلے کے ساتھ یہ فیصلہ بھی لیا تھا کہ اس موقع پرتنظیم ایک یاد گاری مشاورت دستاویزات شائع کرے گی۔ اس فیصلے کی روشنی میں بحیثیت صدر مشاورت ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب نے ملک بھر میں ارکان و ہمدردان مشاورت کو آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے لیٹر ہیڈ پر3 فروری 2015 کو خطوط ارسال کر کے ان کے پاس موجود مشاورت کے پرانے خطوط، نیوز کلیپنگ، مضامین، تصاویر،کتابچہ اور دیگر دستاویزات دفتر مشاورت کو دستیاب کرانے کی درخواست کی تھی۔ان تمام دستاویزات کی کتابی صورت میں “مشاورت گولڈن جوبلی” تقریبات میں اس وقت کے نائب صدر جمہوریہ جناب حامد انصاری صاحب کے بدست رونمائی ہوئی۔اسی موقع پریہ بھی معلوم ہوا کہ دفتر مشاورت کو موصول ہونے والے دستاویزات کو بہت خاموشی اور چالاکی کے ساتھ اور “آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت” کے کسی بھی فیصلے کے بغیر ڈاکٹر صاحب موصوف نے ذاتی منفعت کے مقاصد کے تحت نہ صرف اپنے اشاعتی ادارہ ”فاروس میڈیا“ سے شائع کروایا بلکہ اس کے مالکانہ حقوق بھی اپنے اشاعتی ادارہ کو منتقل کر دیے۔
ان دستاویز ات کو دفتر مشاورت کو واپس کرنے کی “آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت” کی جنرل باڈی اور مجلس عاملہ کی مکرر درخواست اور قراردادوں کو ماننے سے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب نے انکار کیا تو مجلس عاملہ نے اپنی 27فروری 2021ء کو منعقد نشست میں یہ فیصلہ لیا کہ ایک آخری کوشش کے طورپر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب کو مکتوب ارسال کیا جائے جس میں اس فیصلہ اور قرارداد سے ان کو آگاہ کیا جائے کہ اگر 15 دنوں میں انھوں نے گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پر شائع ”مشاورت دستاویزات“ تنظیم کو واپس نہیں لوٹایا تو ان کی رکنیت مشاورت منسوخ سمجھی جائے گی۔ اور جب اس فیصلے اور مجلس عاملہ کی قرارداد کے متن کے ساتھ اس وقت کے جنرل سیکرٹری راقم السطور شیخ منظور احمدنے ڈاکٹرصاحب کو اس منشاکا مکتوب بھیجا تو دستاویزات واپس کرنے کے بجائے انھوں نے دھمکی آمیز جواب دیاکہ اگر اس مسئلہ پر ان کی رکنیت ختم کی گئی تو وہ قانونی کارروائی کریں گے۔ ان کے اس غیراخلاقی اور مجرمانہ عمل کی بنا پر 2021 میں ان کی رکنیت ختم ہوگئی تو موصوف نےاپنی رکنیت کی بحالی کے لئے کچھ کرنے کے بجائے خاموشی سے اس فیصلے کو قبول کرلیا۔ چونکہ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ان کے اس غیر اخلاقی، غیر شرعی اور مجرمانہ عمل کا کوئی جواز نہیں تھا۔
3-جناب ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب نے مختلف حیلوں بہانوں سے مشاورت اور اس کی جائیدادوں پر مستقل قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی اور اسی بناپرمشاورت کے سابق صدرسید شہاب الدین مرحوم ان سے شدید اختلاف رکھتے تھے۔ان کے زیر نظر گمراہ کن مکتوب سے مشاورت پر قبضہ کرنے کی ان کی دلی خواہش اور اس تعلق سے ان کے پرانے خواب کا پردہ ایک بار پھرچاک ہوتا ہے۔موصوف نے بڑے مضحکہ خیز انداز میں ہمدردان مشاورت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے جو ان شاء اللہ کامیاب ہونے والی نہیں ہے۔ اس حقیقت سے کون واقف نہیں ہے کہ جھوٹے کی یاد داشت نہیں ہوتی ۔ ڈاکٹر خان کے ماضی کے عمل کے تحریری شواہدمشاورت کے کاغذات میں موجود ہیں اور وہ اپنے زیرنظر مکتوب میں اپنی تحریروں، تقریروں اور مشاورت کی کارروئیوں میں موجود ان مندرجات کے برخلاف دعوے کررہے ہیں جن پر ان کے دستخط موجود ہیں ۔
:ترمیمات دستور مشاورت اور نئے انتخابات
4-ترمیمات دستور اور انتخابات کے تعلق سے یہ گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ دستور مشاورت میں من مانے انداز میں ترمیمات کر دی گئیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ترمیمات کے تعلق سے پچھلے دس برسوں میں مختلف ادوار میں مجلس عاملہ میں سیر حاصل گفتگو ہوتی رہی ہیں اور اس تعلق سے ارکان تحریری تجاویز بھی دفتر مشاورت کو بھیجتے رہے۔ جس کے تمام ریکارڈ دفتر مشاورت میں موجود ہیں۔ آخرکار22 مئی 2022ء میں مشاورت کی جنرل باڈی نے اتفاق رائے سے فیصلہ لیا کہ تنظیم کے آئندہ انتخابات سے قبل ترمیمات کے عمل کو پورا کیا جائے اور اسی میٹنگ میں موجود بہت سے ارکان نے مجوزہ ترمیمات کے تعلق سے رہنمائی اور تجاویز پیش کیں۔جن ارکان مشاورت نے 22مئی 2022 کی منعقدہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی جنرل باڈی میٹنگ میں اپنی گفتگو میں ترمیمات کے عمل کو شروع کرنے کی حمایت کی تھی، ان میں مرکزی جمعیۃ اہل حدیث ہند کے امیرحضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی صاحب، جماعت اسلامی ہند سے تعلق رکھنے والے مشاورت کےانفرادی رکن جناب ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صاحب، انڈین نیشنل لیگ کے جناب محمد سلیمان صاحب، ممبئی سے رکن محترمہ عظمیٰ ناہید صاحبہ، جناب عامر ادریسی صاحب( صدر ایسو سی ایشن آف مسلم پروفیشنلز)، مولانا عبد الحمید نعمانی صاحب، جناب پروفیسر بصیر احمد خاں صاحب (سابق پرو وائس چانسلر اندرا گاندھی اوپن یونیورسٹی،نئی دہلی)،جناب تاج محمد خان صاحب میسور اور محترمہ عابدہ انعامدار صاحبہ پونہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
5-ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صاحب اور جناب محمد سلیمان صاحب نے خاص طور پراپنی گفتگو میں جن نکات کو اٹھایا تھا ،ان میں مشاورت کی وفاقی حیثیت کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ دستور کے حساب سے اس میں انفرادی ارکان کی بہتات کو کم کرنے کی تجاویز بھی شامل تھیں۔ کئی ارکان مشاورت نے جن میں مولانا عبد الحمید نعمانی صاحب، جناب ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صاحب، جناب محمد سلیمان صاحب، محترمہ عابدہ انعامدار صاحبہ اور جناب تاج محمد صاحب شامل تھے، یہ تجویز بھی رکھی تھی کہ چونکہ موجودہ دستور کی رو سے عہدیداران کی دو سالہ میقات کم ہے ،اس لیے 1964ء اور 1990ء میں میں نافذ شدہ دستور کے رہنما اصول کے مطابق مجلس عاملہ کی میقات پانچ سال ہونی چاہئے۔
اس تعلق سے جنرل باڈی کی اس میٹنگ میں ایک ”دستور ری ڈرافٹنگ کمیٹی“ بھی نامزد کی گئی تھی جس نے سابقہ ادوار میں موصول ہوئے مسودوں کے ساتھ ساتھ22 مئی 2022ء میں منعقد جنرل باڈی میں پیش ہوئی تجاویز کی روشنی میں دستور مشاورت کے کچھ آرٹیکل میں ترمیمات کی تجاویزات کا ایک ڈرافٹ تیار کیا جس پر چھوٹے چھوٹے گروپس میں دہلی میں موجود ارکان کی سہولت کے حساب سے سیر حاصل گفتگو ہوئیں اور اس گفتگو کے روشنی میں دوسرا ڈرافٹ تیار کر کےارکان مجلس عاملہ کو روانہ کیا گیا جس پر ان کی رائے بھی مانگی گئی۔ اس وقت کے مجلس عاملہ کے کچھ ارکان نے مسودہ میں معمولی ترمیمات بھیجیں اور عاملہ کے27 ارکان میں سے18ارکان نے حتمی طور پر دفتر مشاورت کو اس بات کی ہدایت دی کہ دستور مشاورت میں موجود ہدایت کی رہنمائی کو سامنے رکھتے ہوئے ترمیمات کے اس مسودہ کو ارکان جنرل باڈی کو منظوری یا نامنظوری کے لئے ان کی حتمی رائے حاصل کرنے کی غرض سے مجوزہ ترمیمات کے مسودہ کو ریفرنڈم کے لئے بھیج دیا جائے۔
مجلس عاملہ کی اکثریتی رائے کی روشنی میں دفتر مشاورت نے ارکان جنرل باڈی کو ایک فائنل مسودہ ریفرنڈم کے لیے بھیج دیا جس میں دستور مشاورت (2006) کے کچھ آرٹیکل کے اصل متن کے ساتھ ساتھ مجوزہ ترمیمی مسودہ اور اِن میں مجوزہ ترمیمات کی ضرورتوں کے نوٹ کے ساتھ ارکان مشاورت سے ہر آرٹیکل کے ترمیمی مسودہ پرالگ الگ منظور یا مسترد کرنے کے لئے ووٹ دینے کی درخواست کی گئی۔
دستور مشاورت کے رہنما اصولوں کے مطابق ترمیمات کے لئے یہ ضروری تھا کہ ریفرنڈم کےاس عمل میں پچاس فیصد سے زیادہ ارکان شرکت کریں اور ریفرنڈم میں شامل ہونے والے ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ارکان ہر شق کے مجوزہ ترمیمی مسودہ کو منظوری دیں اور اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو ترمیمات مسترد مانی جائیں گی۔
ترمیماتی ریفرنڈم کی نگرانی کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کے ارکان میں اس وقت کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے جناب فیروز احمد ایڈوکیٹ (موجودہ صدرمشاورت) کے علاوہ آل انڈیا جمعیۃ اہل حدیث کے سیکریٹری مولانا ڈاکٹر شیث تیمی صاحب،بزرگ صحافی جناب منصور آغا صاحب اورجناب سید تحسین احمد شامل تھے۔ محترم جناب سیدمنصورآغا صاحب نے ناسازی صحت کی بنا پر کمیٹی میں شامل ہونے سے معذرت کا اظہار کر دیا تھا۔ اس لئے تین رکنی کمیٹی نے ریفرنڈم کو سپروائز کیا اور ریفرنڈم کے کاغذات کو دفتر مشاورت کو واپس بھیجنے کی متعینہ تاریخ کے بعددو دن کی محنت اور نہایت شفافیت سے ہر آرٹیکل کے ترمیمی مسودہ پر ملے ووٹ کے اعدادو شمار کی رو سے اس ریفرینڈم کے نتیجہ کا اعلان کیا جس سے معلوم ہوا کہ مختلف ترمیمات کو 67 فیصد سے 81 فیصد تک ارکان مشاورت کی منظوری ملی ہے اور اس کمیٹی کے تینوں ارکان کے دستخطوں سے نتیجہ کا اعلان کیا گیا۔
ترمیم شدہ دستور کے نفاذ کے بعد مشاورت کے مختلف عہدیداروں کے لئے سال 2027-2023 کی میقات کے لئے نئے انتخابات ہوئے جس میں 85 فیصد سے زیادہ ارکان نے حصہ لیا اور منصب صدارت کے لئے دو امیدواروں کے درمیان دوستانہ مقابلہ میں منتخب امیدوار کو تقریباً 57 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔
6-ارکان مشاورت کی کثیر تعداد نے ترمیمات اور مابعدترمیمات انتخابات میں حصہ لیا اور اتنی کثیر تعداد میں ارکان مشاورت کا ریفرینڈم اور انتخابات میں جمہوری انداز میں حصہ لینے کے عمل کو بھی اگر ڈاکٹر ظفرالاسلام صاحب قبول نہیں کر رہے ہیں تو اس سے ان کے غیر جمہوری طرز فکر اور آمرانہ مزاج کی عکاسی ہوتی ہے۔ ویسے بھی ایک ایسا شخص جس کے خلاف اس کے غیر اخلاقی اور مجرمانہ فعل کے لئے مشاورت نے تادیبی کاروائی کی ہے ،اس قسم کے اعتراضات اٹھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں رکھتا۔
7-جہاں تک دستور میں ترمیمات کا تعلق ہے تو مشاورت ایک جمہوری تنظیم ہے اور دستور مشاورت میں ترمیم و تصحیح کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے ۔ ارکان مشاورت جب چاہیں دستور میں مذکور ضوابط (Due process)کے تحت ایسا کر سکتے ہیں ۔ ماضی کی طرح آئندہ بھی ترامیم کی جاسکتی ہیں ۔ دستور کی کسی شق پر اختلاف رائے کو تنازع کی بنیاد بنانا یا انتشار کو ہوا دینا ہر گز کوئی دانشمندی نہیں ہے ۔جو لوگ بھی اس طرح کے کام کررہے ہیں،مسلمانوں کے اتحاد اور ملی تنظیموں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔سوچنا یہ ہے کہ آپ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں گے یا کمیونٹی کے اتحادو یک جہتی کو عزیزرکھتے ہیں۔
:مشاورت سے 70 ارکان کو باہر نکالنے کے گمراہ کن الزام کی حقیقت
8- ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب نے اپنے خط میں بہت دیدہ دلیری سے یہ الزام لگایا ہے کہ 70 ارکان کا مشاورت سے اخراج کردیا گیا (ان کو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا) ہے۔ یہ الزام وہ پچھلے کئی برسوں سے لگاتے آئے ہیں لیکن موصوف کو کبھی یہ توفیق میسر نہیں ہوپائی کہ وہ اس کو ثابت کر سکیں۔ 2022ء تک ان کا یہ بیراگ تھا کہ ایسے ارکان کی تعداد 78 ہے اور ایک زمانہ تک ان کا یہ بھی پروپگنڈہ تھا کہ ایسے ارکان کی تعداد 72 ہے جو اب 70 تک آگئی ہے۔
یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ دستور مشاورت (2006) کے رہنما اصولوں کے مطابق ایسے تمام ارکان جو دو برس تک مشاورت کی سالانہ فیس ادا کرنے سے قاصر رہیں اور اس دوران مشاورت کی میٹنگوں میں بھی شرکت نہ کریں ان کی رکنیت معطل ہو جائے گی۔ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب بہت چالاکی سے اس دستوری ہدایت کا کبھی تذکرہ نہیں کرتے اور اس تاریخی حقیقت کو بھی ذکر کرنے سے پرہیز کرتے ہیں کہ ان کے دورصدارت میں مشاورت کی جنرل باڈی اور مجلس عاملہ کی 5 ِ دسمبر 2015ء کی مشترکہ میٹنگ میں یہ قرارداد منظور ہوئی تھی کہ ایسے ارکان جنھوں نے اپنی سالانہ فیس ادا نہیں کی ہے اور میٹنگوں میں شرکت نہیں کرتے ہیں ان کے ساتھ ساتھ ان ارکان کو بھی خطوط روانہ کئے جائیں جو فیس تو ادا کردیتے ہیں لیکن میٹنگوں میں شرکت نہیں کرتے کہ وہ اگلے تین ماہ میں خطوط کے ذریعہ یہ یقین دہانی کرائیں کہ وہ آئندہ مشاورت کی میٹنگوں میں شرکت کریں گے اور جواب نہ ملنے کی صورت میں ان کی رکنیت منسوخ مانی جائیگی۔اس قرارداد کی روشنی میں ڈاکٹر ظفرالاسلام صاحب نے ارکان مشاورت کے نام ایک مکتوب 7 دسمبر 2015 کو اپنے دستخطوں سے ارسال کیا جس کا متن مندرجہ ذیل تھا ،جس سےیہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے بنائے ہوئے ارکان کی مشاورت میں کتنی دلچسپی رہی ہوگی
“ّمورخہ 5 دسمبر 2015 کو کل ہند مسلم مجلس مشاورت کی مجلس عاملہ اور مرکزی مجلس (General Body) کی مشترکہ میٹنگ میں جو مرکزی دفتر میں منعقد ہوئی، جس میں سابق ریٹنگ آفیسر (مسٹر ای ایس وائی ندیم) کی اس رائے پر غور کیا گیا کہ جن ممبران نے دو سال کی اپنی فیس ادا نہیں کی ہے ان کو رائے دہی کا حق حاصل نہیں ہوگا۔یہ رائے مشاورت کی سابقہ روایات کے منافی ہے چنانچہ غورو فکر کے بعد اتفاق رائے سے یہ طے ہوا کہ
(1) جن ممبران نے دو سال سے زاید مدت (تین سال یا اس سی زیادہ) کی فیس ادا نہیں کی ہے وہ الیکشن میں حصہ لینے/ووٹ دینے کے اہل تصور نہیں کئے جائیں گے۔ البتہ وہ بقایا جات اور رواں سال کی فیس ادا کرکے آئندہ الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔
(2)مجلس عاملہ اور مرکزی مجلس کی مشترکہ میٹنگ میں ان ممبران کے مسئلہ پر بھی غور کیا گیا جنہوں نے فیس تو ادا کر دی ہے مگر ان کا ممبر شپ فارم دفتر مشاورت میں جمع نہیں ہے اور جن کو سابق ریٹرننگ آفیسر نے رائے دہی کا مستحق نہیں قرار دیا ہے۔ ان کے بارے میں اتفاق رائے سے یہ طے پایا کہ:جن ممبران نے فیس تو جمع کردی ہے لیکن انہوں نے ممبر شپ فارم نہیں بھرے ہیں وہ براہ کرم اپنے جملہ کوائف جن میں نام /ولدیت/شوہر کا نام، گھر/دفتر کا پتہ/ فون نمبر/ فیکس نمبر/ ای میل آئی ڈی اور شخصی کوائف ریکارڈ کے لئے فوری طور سے دفتر مشاورت میں جمع کرا دیں تاکہ ریکارڈ مکمل ہو سکے- ایسے ممبران کو 2017-2016 کی مدت کے لئے چناؤ میں حصہ لینے سے روکا نہیں جائے گا۔
(3)مجلس عاملہ اور مرکزی مجلس کی مشترکہ میٹنگ میں یہ بھی طے کیا گیا کہ جن ممبران نے فیس تو ادا کردی ہے مگر دو سال کے مدت سے زیادہ کسی میٹنگ میں شرکت نہیں کی ہے ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ تحریری طور سے تین ماہ کے اندر یہ یقین دہانی کرادیں کہ وہ آئندہ حسب سہولت میٹنگوں میں شرکت کریں گے ورنہ ان کی رکنیت ختم تصور کی جائیگی۔”
مذکورہ بالا 5دسمبر 2015 کی مجلس عاملہ اور جنرل باڈی کی مشترکہ میٹنگ میں تقسیم شدہ روداد میں اس خط کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب نے تحریر کیا کہ:
A letter was sent to all such members and only two members, Prof. Sajjad Ahmad and Mr Anwarul Hoda have responded saying they will try to attend meetings in future
(Page 5 in the Paragraph about ‘Membership’ )
2016- 2017کی میقات کےانتخابات کے بعد اس وقت کے صدر نوید حامد صاحب کو جناب مولانا جلال الدین عمری صاحب امیر جماعت اسلامی ہند نے مشورہ دیا کہ ممبران کے اخراج پر توقف سے کام لیا جائے اور اس بات کو نوٹ کیا جائے کہ ایسے ان ایکٹیو ارکان آنے والے وقت میں مشاورت کی میٹنگ میں شرکت کرتے ہیں یا نہیں۔بالآخر 12 فروری 2017 کی جنرل باڈی میٹنگ میں جس میں ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب بنفس نفیس موجود تھے اور اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ ان ایکٹیو ارکان کا اخراج ہو یہ طے کیا گیا کہ فی الحال ایسے 14 ان ایکٹو (غیر فعال) ارکان کا اخراج کیا جائے۔ جن میں سے بعد میں جناب شاہد صدیقی صاحب اور مرحوم جے ایس بندوق والا نے اپنی رکنیت بحال کروائی اور نئے سرے سے ممبر شپ قبول کی اور انتقال سے قبل جناب بندوق والا صاحب نے اکتوبر 2017 کی بڑودہ میٹنگ میں شرکت بھی فرمائی تھی۔
غیر فعال ارکان کا معاملہ ایک بار پھر اکتوبر 2018 کی حیدرآباد میں منعقد جنرل باڈی میٹنگ میں زیر بحث آیا اور یہ طے ہوا کہ چونکہ ابھی مشاورت کا وہ مقدمہ جس کو ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب نے انیس درانی صاحب کے ذریعہ قائم کروایا ہے اس کے نتیجہ کا انتظار کیا جانا چاہئے اور نئی میقات کے شروع ہونے کے بعد اس مسئلہ پر فیصلہ لینا چاہیے۔
کووڈ کے پہلے دور کے لاک ڈاؤن کے بعد جب نئی میقات میں مجلس عاملہ کی پہلی میٹنگ 27ِ فروری 2021 کو منعقد ہوئی تو غیر فعال ارکان کے معاملہ پر آسام سے رکن جناب حافظ رشید احمد چودھری صاحب کے تحریری اور دستخط شدہ مندرجہ ذیل قرارداد میٹنگ میں پیش کی گئی اور ایک بار پھر غیر فعال ارکان کے مسئلے پر سیر حاصل گفتگو ہوئی:
I would also like to propose to adopt a resolution regarding termination of membership of Mushawarat for those who failed to clear their dues continuously for years
اس قرارداد کی روشنی اور سن 2015 ء کی جنرل باڈی اور مجلس عاملہ کی مشترکہ میٹنگ کے فیصلہ کو یاد کرتے ہوئے فروری 2021 کی مجلس عام کی میٹنگ میں یہ طے پایا کہ اس وقت کے جنرل سیکریٹری مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب ایسے تمام ارکان کو خط لکھیں گے جو گزشتہ 3 برس یا اس سے زیادہ سے فیس جمع نہیں کروا رہے ہیں اور نہ ہی اس مدت میں انھوں نے کسی میٹنگ میں شرکت کی ہے اور یہ درخواست کریں گے کہ ایسے ارکان اپنی سالانہ فیس ادا کریں اور اگر پندرہ دنوں تک ایسے ارکان کی فیس موصول نہ ہو تو ان کی ممبرشپ منسوخ مانی جائے۔ اس میٹنگ میں شرکت کرنے والے اہم ارکان کے ناموں میں اس وقت کے صدر جناب نوید حامد صاحب، حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی صاحب (امیر آل انڈیا جمعیۃ اہل حدیث) نائب صدر مسلم مجلس مشاورت و رکن سپریم گائڈنس کونسل مجلس مشاورت، جناب انجینئر محمد سلیم صاحب (نائب صدر جماعت اسلامی ہند)، جناب مرحوم نصرت علی صاحب جماعت اسلامی ہند،جناب سراج الدین قریشی صاحب( صدر آل انڈیا جمعیۃ القریش)، جناب محمد سلیمان صاحب (صدر انڈین نیشنل لیگ)، جناب شیخ منظور احمد صاحب( کشمیر)، محترمہ عظمی ناہید صاحبہ(ممبئی)، جناب تاج محمد خان صاحب (میسور)،جناب احمد رضا صاحب(دہلی)،ڈاکٹر کوثر عثمان صاحب (لکھنؤ) وغیرہم اور جناب فیروزاحمدایڈوکیٹ (موجودہ صدر مشاورت) شامل تھے۔
چونکہ عاملہ کی اس میٹنگ کے کچھ ہی دنوں بعد مہلک کووڈ لہر کا دوسرا سرکاری لوک ڈاؤن لگ گیا اور ارکان مشاورت کو اسی لیے اس خط کو بھیجنے میں تاخیر ہوئی اور لاک ڈاؤن کھلنے اور حالات نارمل ہونے کے بعد دفتر مشاورت کی طرف سےایک مکتوب ایسے تمام ارکان کو بھیجا گیا اور ان سے سالانہ فیس کے بقایا جات جمع کرنے کی درخواست کی گئی اور اس کے جواب میں بہت سے ارکان نے فیس جمع بھی کروائی اور بہت سے ارکان نے خط کو یکسر نظر انداز کردیا۔ اس تعلق سے یہ یاد رکھنا بھی اہم ہوگا کہ ایسے دو ارکان سے بزرگ صحافی جناب منصور آغا صاحب نے ذاتی طور پر بات کی لیکن ان دونوں نے جناب منصور آغا صاحب کی درخواست کو بھی نظر انداز کر دیا۔ 15 دنوں کے انتظار کے بعد اتمام حجت کے لئے اس وقت کے صدر جناب نوید حامد صاحب نے ایک بار پھر ایک
ریزولیوشن تیار کر کے ارکان مجلس عاملہ کو دستی، ای میل، واٹس ایپ پر ان کی حتمی منظوری کے لئے بھیجا جس کا متن مندرجہ ذیل تھا
In records it is found that there are total of 14 members who have not cleared their annual fees after 2015 (Amongst them there are eight members who have not participated in any meeting since becoming members; there are three members who have not participated in any meeting since 2012, there are 3 members who have not
participated in any meeting after 2015).
It is found that there are three members who have not paid annual fees after 2016 (Two amongst them have not participated in any meeting after the General Body meeting of 31st January 2016).
There are 25 members who have not paid annual dues after 2017 (Overwhelming majority of them had not participated in any meeting after the General Body meeting of February 2017). The constitution of AIMMM clearly guides members not to default in clearing their annual fees for more than two consecutive years also not to fail in attending any meeting during this period. Therefore, in consonance of the mandate Art 25(1) of the constitution of All India Muslim Majlis e Mushawarat taking note of the decision of the General Body meeting of 5th December 2015 and further as per the mandate of the Markazi Majlis e Aamla (MMA) meeting of 27th the 27th February 2021, the Markazi Majlis e Aamla of AIMMM through a Circulated annual fee for more than three years
from 1st January 2022
اس قرارداد پر دستخط کرنے اور اس کو منظوری دینے والے ارکان مجلس عاملہ میں جناب مولانا محمد سفیان قاسمی مہتمم دارالعلوم دیوبند (وقف) اور اس وقت کے رکن سپریم گائڈنس کونسل مشاورت، جناب احمد رشید شیروانی رکن سپریم گائڈنس کونسل مشاورت، جناب ملک معتصم خان جماعت اسلامی ہند،جناب سراج الدین قریشی صاحب،جناب ای ٹی محمد بشیر ایم پی کیرالہ، محترمہ عظمی ناہید، جناب شیخ منظور احمد، جناب احمد رضا صاحب،مولانا عبدالحمید نعمانی، جناب زبیر جبار گوپلانی، جناب تاج محمد خان صاحب، ڈاکٹر کوثر عثمان صاحب،حافظ رشید احمد چوہدری آسام، جناب محمد سلیمان صاحب کانپور،نوید حامد صاحب صدر مشاورت و رکن سپریم گائڈنس کونسل کے علاوہ جناب فیروزاحمدایڈوکیٹ شامل تھے۔
اس طرح ایسے صرف 27 غیر فعال ارکان کی رکنیت منسوخ ہوگئی جنہوں نے یاد دہانی کے باوجود اپنے سالانہ بقایا جات نہ جمع کروائے اور نہ ہی آئندہ مشاورت کی میٹنگوں میں شرکت کرنے پر آمادگی سے مطلع کیا۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ ان 27 ارکان میں ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے ذریعہ بنائے گئے ایسے 6 ارکان بھی تھے جنھوں نے مشاورت کی رکنیت لینے کے بعد کبھی مشاورت کی کسی ایک میٹنگ میں بھی شرکت کرنا گوارا نہیں کی تھی اور ایک ایسے رکن کا نام بھی شامل تھاجن کو جناب نوید حامد صاحب کے دور صدارت میں، سن 2017 میں ارکان کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا لیکن انہوں نے بھی کبھی کسی میٹنگ میں شرکت نہیں کی تھی۔ آپ اس بات سے واقف ہیں کہ مشاورت ملی و ملکی معاملات میں گفت و شنید کے لئے بنائی گئی ہے لیکن جو لوگ رکن بننے کے بعد مشاورت کی کسی نشست میں شرکت نہ کریں اور نہ ہی سالانہ فیس ادا کریں وہ ادارہ یا ملت کے تئیں کتنے سنجیدہ ہو سکتے ہیں اور کیا اتنے طویل پروسیس اور انتظار کے بعد ان کی رکنیت کی منسوخی کسی کی”منمانی” ہے؟
:غیر معیاری لوگوں کو مشاورت کا رکن بنانے کے الزام کی حقیقت
9۔لگتا ہے کہ اپنے ہمنواؤں کے علاوہ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب نے ملت کے باقی تمام سنجیدہ اور باوقار مفکرین اور ہمدردوں کو غیر معیاری افراد کے قبیلہ میں شامل کر رکھا ہے۔ پچھلے کئی برسوں سے موصوف اس طرح کے تبصرے کرتے رہتے ہیں لیکن آج تک توفیق نہیں ہوئی کہ سن 2015 ء کے بعد سے مشاورت میں شامل ہونےوالے کسی ایک غیر معیاری رکن کی نشاندہی کر سکیں کیونکہ وہ بخوبی واقف ہیں کہ حقیقت کیا ہے۔اس الزام پر مزید تبصرہ کرنے کہ بجائےیہ دیکھنابہترہوگاکہ انھوں نے خودکس معیارکے لوگوں کو مشاورت کا رکن بنایا تھا ۔اس سلسلے میں ڈاکٹر موصوف اور پروفیسر نفیس احمد، سابق استاد علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے درمیان اکتوبر 2015 میں ہوئے خط و کتابت کو سامنے رکھاجا سکتا ہے۔
پروفیسر نفیس احمد نے 16 ِ اکتوبر 2015 کو ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب کو ایک مکتوب دفتر مشاورت میں موصول کرایا جس کامضمون مندرجہ ذیل تھا:
This refers to your letter dated 6.10.2015 demanding payment of my membership fee (of Mushawarat) for the
year of 2012-2015
….It (Mushawarat) should not remain confined to an office or to the membership of a few celebrities / intelectuals. It must be a mass movement if really Muslims want justice from Govt. We must not forget that Muslim masses are with Ulama. Senior Ulama have to be taken in the forefront. I am ready to strive, travel to different places or do anything that is required but it needs revival
I beg pardon if it has hurt you…-
اس خط کا ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب کا 22اکتوبر 2015 کا جواب بہت دلچسپ ہے:
As regards membership of senior Ulama the problem is that they are content with whatever they are doing or not doing. Ulama of the stature of Ali Miyan, Qari Tayab sahab, Maulana Manzoor Nomani and Mufti Atiqur Rahman are no longer among us. I had tried to invite them like Maulana Rabey Hasani Nadvi to join Mushawarat but they too remain reluctant Perhaps they think that there position will suffer if they become part of another organisation though Mushawarat is not an organisation in itself but a common platform…. I welcome your readiness to work for the revival of Mushawarat….
تین مستقل میقاتوں کی صدارت اور ایک میقات میں ورکنگ صدر رہنے کے بعد یہ موصوف کا کھلا اعتراف تھا کہ ان کے دور صدارت میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کس صورت حال سے دو چار تھی اور ان کی صدارت میں کوئی سنجیدہ اور معتبر شخصیت یا ملی تنظیم مشاورت کی رکنیت لینے سے گریز کرتی تھی۔اس کے علاوہ مرحوم ملی رہنما جناب سید شہاب الدین صاحب کا موصوف کے نام20 دسمبر 2014 کا مندرجہ ذیل خط بھی ان کی کارکردگی کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا
“I am shocked to know that despite the merger of the rival Mushawarat the membership of the Markazi Majlis is only 68 and most of them have not paid their dues….. We should not present a false picture
:رجسٹرڈ مشاورت کاتنازع اور اس کی حیثیت
10- آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت سے2000 ء میں تقریبا ًدس اہم عمائدین اور اکابرین ملت نے مرحوم ملی قائد سید شہاب الدین صاحب کے مشاورت کا صدر منتخب ہونے کے بعد علیحدگی اختیار کی اور اپنی الگ مشاورت کی بنیاد رکھی ۔مولانا محمدسالم قاسمی صاحب مرحوم کو انھوں نے اپنا صدر منتخب کیا۔ اس وقت مشاورت میں شامل یوپی کی مسلم مجلس کے علاوہ کوئی دوسری معروف تنظیم نے متوازی مشاورت کی رکنیت نہیں لی اور اس طرح مسلم مجلس مشاورت میں شامل باقی سبھی معروف مسلم تنظیموں نے اصل مشاورت میں رہنے کا فیصلہ لیا۔ یہ بات اہم ہے کہ اس زمانہ میں ڈاکٹر ظفرالاسلام خان مشاورت کے رکن نہیں تھے، ان کو 2002ء کے بعد رکنیت دی گئی۔
وقت گزرنے کے ساتھ متوازی مشاورت کے ذمےداران کی یہ کوشش رہی کہ اصل مشاورت کے اثاثوں پر قبضہ کریں اور مشاورت کے بینک کھاتوں پر انکا اختیار ہو جائے۔ اس سلسلے میں کچھ عرصہ کے لئے وہ کھاتوں کو منجمد کرانے میں بھی کامیاب ہوئے لیکن مرحوم سید شہاب الدین صاحب کی کوششوں سے بینک کے ذمےداران سے مذاکرات کے بعد اصلی مشاورت کو ان اثاثوں کا اصل امین تسلیم کیا گیا۔
2003 کے آتے آتے متوازی مشاورت نے حکومتی ادارہ رجسٹرار آف سوسائٹی میں اپنارجسٹریشن کروالیا۔ اس پیشرفت کی معلومات ہوئی تو صدر مشاورت مرحوم سید شہاب الدین صاحب نے عوام کو حقیقی صورتحال سے واقف کرانے کے لئے اخباری بیان جاری کئے اور اخبارات کے لئے مضامین بھی لکھے۔ اس غیر اخلاقی عمل کے خلاف سید صاحب کا ایک مضمون ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اپنے اخبار ” ملّی گزٹ” میں بھی شائع کیا۔
اس کے علاوہ اس وقت کے صدر مرحوم سید شہاب الدین صاحب نے رجسٹرار آفس میں اس رجسٹریشن کو کینسل کرانے کے تعلق سے ملاقاتیں کیں اور اصل تنظیم “آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت” کی میٹنگوں میں اس غیر آئینی اور غیر اسلامی عمل اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے لیے گئے اقدام کے خلاف فیصلوں کی روشنی میں کئی خطوط بھیجے جس میں سے ایک خط کی کاپی جو رجسٹرار آف سوسائٹیز کو بھیجا گیا تھا ،مندرجہ ذیل ہے جس کو پڑھنے کے بعد اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ماضی میں اکابرین مشاورت کا اس رجسٹریشن کے تعلق سے کیا موقف رہا ہے:
The Registrar of Societies
Government of the National Capital Territory of Delhi,
CPC Building, Kashmiri Gate, Delhi-110006
Sir,
On 31.3.2006 in response to our request you were kind enough to provide us the copies of Certificate of Registration No. S/ 46913/ 2003 dated 6.9.2003 given by the then Registrar of Societies, Delhi to the so-called All India Muslim Majlis-e-Mushawarat along with the copy of the Memorandum of society and of its flues and Regulations filed by the said society.
We learnt of this registration only through a casual mention by a journalist in the Urdu daily Qaumi Awaz of 28.03.2005.
From a perusal of the documents supplied by you, it apears that the small dissident group which had separated from the parent body in June-July 2000 and formed a parallel Organization had approached you in Augus 2003 for registration Under a Patently false claim regarding the name of their Society, obviously its intention was to misguide the public, conceal the fact of separation and claim the goodwill which exists in the mind of the people, and particularly the Muslim Community, for our organization which was formed in 1965 and take the credit our heritage, activities and achievements, in order collect funds on tales pretenses.
We realize that since our organization is not a registered society, you registered this fake dissident group as the All India Muslim Majlis e Mushawarat under Registration of Societies Act1860, after the normal checking that no previous registration with the proposed title existed.
The attached annexure gives a brief history of the birth of the dissident group, our comments on and analysis of its Memorandum and Rules and Regulation and a brief report on our activities since June 2000.
We beg to submit that the Act of 1860 is inadequate in the present circumstances and needs to be extensively amended.But the inadequacy of the Act does not provide a license to a new group to misuse and exploit the Act for the purpose of fraudulently and deceptively parading itself in the name of an established and active national organization with 40 years of glorious history behind it. We concede the right of the dissident group to form an organization and to register it as a Society but we object to its false representation of itself as the All India Muslim Majlis e Mushawarat through concealment of material and relevant facts and operating publicly with impunity.
We have consulted eminent lawyers and in accordance with the legal opinion and advice, we formally request you to stop this blatant abuse of law and to call upon the Society registered try you under the above mentioned Certificate to prove its credentials and to deregister it if it fails to do so and, in the meantime, to suspend its registration till you finally decide on our objection.
Yours Faithfully
SYED SHAHABUDDIN
11-ڈاکٹر ظفرالاسلام خان جب تک مشاورت کے صدر رہے وہ اس موقف کے جھنڈا بردار رہے اور 2013 تک جب متوازی مشاورت نے اصل مسلم مجلس مشاورت میں انضمام کرنے کا فیصلہ نہیں لے لیا، وہ اس کوبتکرار دہراتے رہے۔
متوازی مشاورت کا رجسٹرڈ دستور اصل مشاورت سے بالکل مختلف تھا اور سب سے اہم فرق یہ تھا کہ اس کے عہدیداروں کی مدت (اس کے دستور کے مطابق) پانچ سال کی تھی اور اصل مشاورت میں جس کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان تیسری بار منتخب ہوئے تھے، اس کے عہدیداروں کی میعاد دو سال کی تھی۔ شاید اسی لئے جیسے جیسے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب کی صدارت کی میعاد ختم ہونے کا وقت جو دسمبر 2015 ء تھا، قریب تر ہو رہا تھا، موصوف نے مستقبل میں مشاورت پر قبضہ رکھنے کی تگ و دو شروع کردی تھی۔ اس میں ان کے ساتھ غالباًوہ افراد بھی شریک رہے جو ان کے نئے نئے رفیق بنے تھے اور متوازی مشاورت کے اصل مشاورت میں ضم ہونے کے بعد ان کو رکنیت ملی تھی۔
اکتوبر 2015ء کے آتے آتے ہمدردان مشاورت نے مرحوم سید شہاب الدین صاحب کو ثبوت کے ساتھ یہ اطلاع دی کہ خان صاحب موصوف نے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی عاملہ کو اعتماد میں لئے بغیر اپنے ان نئے دوستوں کے ساتھ مل کر مرحوم مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کو منا کر ایک خط رجسٹرار آفس بھیجا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2014ء میں مشاورت کے نئے انتخابات ہوئے ہیں اور اس میں ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو اور ان کے ساتھیوں کو جن میں تین متوازی مشاورت سے آئے اشخاص شامل تھے، رجسٹرار آفس میں بھیجے گئے، اس خط پر حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے ساتھ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے بھی دستخط کئے تھے( جس کی کاپی اب موصوف نے 29 اپریل 2024 کے خط کے ساتھ منسلک کی ہے)۔
مرحوم سید شہاب الدین صاحب نے اس سازش کے پیچھے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی منشاء کو بھانپ لیا تھاکہ اس کا مقصد نئی میقات کے انتخابات کو ملتوی کرنا اور چور دروازے سے اپنی صدارت کی میعاد بڑھانا ہے۔ اس نتیجے پر پہنچنے کی ایک اور وجہ یہ تھی کہ ڈاکٹرصاحب کے ذریعہ ان کی صدارت میں اکتوبر 2015 ء میں ہوئی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں اس بات پر اصرار تھا کہ دستور مشاورت میں ترمیمات کی جائیں اور اس کے لئے ایک سب کمیٹی بھی تشکیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس کی ارکان مجلس عاملہ نے سخت مخالفت کی تھی اور نئے انتخابات کروانے کے اعلان کا فیصلہ لیا تھا۔ 4 اکتوبر 2015 کی مجلس عاملہ کی اس میٹنگ میں بھی ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے ارکان عاملہ کو یہ مطلع نہیں کیا کہ انھوں نے اپنے نئے رفقاء کی مدد سے رجسٹرار آف سوسائٹی کو کوئی خط لکھا ہے جب کہ مشاورت کی یہ روایت رہی ہے کہ صدر مشاورت اپنے تمام خطوط کی کاپیاں مشاورت کی آئندہ نشستوں میں تقسیم کرتا ہے یا اسکے تعلق سے میٹنگوں میں شرکاء کو بریفنگ کرتا ہے۔
ان حقیقتوں کو سامنے رکھ کر مرحوم سید شہاب الدین صاحب نے ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب کو خط لکھ کر سخت باز پرس کی اور یہ دریافت کرنے کی کوشش کی کہ انہوں نےمجلس عاملہ کو اعتماد میں لئے بغیر رجسٹرارآف سوسائٹی کو خط کیوں بھیجا اور یہ دعویٰ کیوں کیا کہ انکا اور ان کے ساتھیوں کاانتخاب متنازعہ رجسٹرڈ مشاورت کے دستور کے مطابق ہواہے۔ اس خط میں مرحوم سید شہاب الدین صاحب نے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان سے منصب صدارت سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا اور نئے انتخابات ایک آزاد باڈی کی رہنمائی میں کرانے پر زور دیا۔
سید شہاب الدین صاحب کے اس خط کے بعد ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے سید صاحب مرحوم کواس کا بہت نازیبا و اذیتناک جواب دیا اور اس تنازع کی خبر اخبارات کی زینت بنی۔ایک اخبار کی مندرجہ ذیل کوریج سے ہمدردان ملت اس تنازعہ کی سنگینی کا اندازہ لگا سکتے ہیں:
ملت اسلامیہ ہند کی اکلوتی وفاقی تنظیم مسلم مجلس مشاورت باہمی چپقلش اور اندرونی خلفشار کا شکارموجودہ صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے سابق صدر سید شہاب الدین پر مشاورت کے دفتر و اسٹاف کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ، مشاورت پر بوجھ بننے اور سازش رچنے کا الزام
نئی دہلی : ملت اسلامیہ ہند کی اکلوتی وفاقی تنظیم سمجھی جانے والی 51 سالہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ان دنوں اندرونی خلفشار اور باہمی چپلقش کے دور سے گزر رہی ہے ۔صدارتی انتخاب کی مہم نے انتشار کی کیفیات کو اور نمایاں کر دیا ہے اور اس کا اثر محسوس کیا جارہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق یہ گھمسان اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ مشاورت کے موجودہ صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے سابق صدر سید شہاب الدین پر سنگین حملے کرتے ہوئے ان پر مشاورت کا دفتر ،املاک اور اسٹاف کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ مشاورت ان دنوں کئی گروپوں میں منقسم ہے اورہر گروپ اپنی بالادستی قائم کرنے کے لئے ہر طریقہ اپنا نے سے دریغ نہیں کر رہا ہے ۔ کئی دستاویزت اس کے مظہر ہیں ، جن پر آئندہ گفتگو کی جائے گی ۔
بزرگ مسلم رہنما، 07-2000اور 11-2010 میں صدر، قائم مقام صدر اور نائب صدر کے طور پر طویل خدمات انجام دینے والے شہاب الدین سردست مشاورت کی 7 رکنی سپریم گائیڈنس کونسل کے رکن ہیں ۔ موجودہ صدر مشاورت نے نومبر2015 کو اپنے لکھے گئے غیر معمولی خط میں (جس کی کاپی روزنامہ خبریں کی تحویل میں ہے)وفاق کی گولڈن جبلی کے موقع پر دو درجن مرحوم اور با حیات شخصیات کو ان کے کار ہائے نمایاں کے لیے دیے گئے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ یافتگان میں سے ایک شہاب الدین پر مشاورت کی عمارت ، اس میں موجود اشیاء اور اسٹاف کے استعمال پر روک لگاتے ہوئے ان پر سازش رچنے اور مشاورت پر بہت سارا بوجھ ڈالنے کا بھی الزام ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ سید شہاب الدین نے اپنی سفارتی ، پارلیمانی ، عملی و سیاسی سرگرمیوں سے فراغت کے بعد خود کو مشاورت کے لیے وقف کر رکھا ہے ۔ مشاورت کو اپنی عمارت کا مالک بنانے میں دیگر اہم شخصیات کے ساتھ ان کا بڑا اہم رول رہا ہے ۔ مشاورت کے سو وینیئر کے مطابق مذکورہ عمارت کو خرید نے میں 79 لاکھ روپے میں سے 17 لاکھ روپے خود انھوں نے اور ان کے خاندان کے افراد نے دیے ، علاوہ ازیں ان کے حلقہ احباب کا بڑا حصہ ہے ۔ خرابی صحت کے باوجود وہ مشاورت میں سرگرم رہے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ان پر عتاب اس وقت نازل ہوا، جب انھوں نے3 نومبر 2015 کو خط لکھ کر صدر مشاورت کےبعض غیر جمہوری اقدامات”پر اعتراض کیا جس پر ڈاکٹر ظفر الاسلام نے انتہائی سخت الفا ظ میں (جس کا وہ خود اعتراف کرتے ہیں) ایک خط لکھ کر کئی الزام لگائے اور ان پر کی گئی ‘نوازشات’کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ “ان سب تلخیوں کے باجود میں نے آپ کو گولڈن جبلی میں پوری عزت دی ۔ ڈائس پر نائب صدر جمہوریہ کے ساتھ آپ کے بیٹھنے کا انتظام کیا اور خود دور بیٹھا ، کانفرنس کے اختتامی کلمات کے لیے آپ کو موقع دیا اور لائف ٹائم اچیو منٹ ایوارڈ بھی آپ کو پیش کیا۔ لیکن آپ کے دل میں میرے لیے ،وہ جگہ نہیں رہ گئی تھی جو پہلے تھی ۔اب آپ اس وہمی شکایت کا بدلہ مجھ کو ذلیل کرکے لینا چاہتے ہیں “۔
وہ یہیں پر نہیں رکے چار صفحاتی خط میں جو چارج شیٹ معلوم ہوتا ہے ایک جگہ لکھا ہے کہ”آپ نے بہت سارا بوجھ مشاورت پر ڈالا، مشاورت کے عملہ سے ذاتی کام لیتے رہے اور اب بھی مشاورت کے دفتر کے بڑے حصہ پر قابض ہیں جس میں صدر کا دفتر بھی شامل ہے۔ آپ مشاورت کے کمپیوٹر ،پرنٹر ،ایئر کنڈیشنز ،ہیٹر وغیرہ کو بلا دریغ استعمال کرتے ہیں۔ براہ کرم !آپ فوری طور پر میرا کمرہ (الفاظ قابل غور ہیں)خالی کر دیں ۔ پچھلی مدت کا بھی کرایہ اور مشاورت کی سہولتوں کو استعمال کرنے کا معاوضہ ادا کریں۔
اندرونی ذرائع سے معلوم ہوا کہ مذکورہ متنازع خط لکھنے کے پانچ روز بعد یعنی گیارہ نومبر 2015 کو مشاورت کے دفتر میں منعقد عہدیداران کی ہنگامی میٹنگ میں اس خط کو سنایا گیا اور اس کی کاپی بھی ان کے درمیان تقسیم کی گئی تاکہ مستقبل میں اٹھنے والے کسی سوال کا جواب دیا جاسکے۔ میٹنگ میں ٖظفر الاسلام خان کے علاوہ منظور احمد (سابق آئی پی ایس )،ایس ایم وائی ندیم ، احمد رشید شیروانی ، مولانا عطاء الرحمن قاسمی ، محمد سلیمان ، معصوم مرادآبادی ،مجتبیٰ فاروق اور ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس موجود تھے ۔ کسی نے بھی خط کے متن اور اس میں استعمال الفاط اور اس کے لب و لہجہ پر اعتراض نہیں کیا۔ خود صدرمشارت معروف دانشور، اسکالر اور سلجھے ہوئے رہنما ہیں ، ان سے ایسی توقع نہیں کی گئی تھی۔ سید شہاب الدین کے طریقہ کار سے اختلاف کا حق رکھنے کے ساتھ یہ کہا جا رہا ہے کہ سینئر سطح پر تعلقات کی نوعیت اور ادب و احترام کی یہ صورت حد درجہ تشویشناک ہے۔
مشاورت کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سب کافی دنوں سے چل رہا ہے ۔ صدر مشاورت کی طرف سے وقتاً فوقتاًاٹھائے جانے والے اقدامات پر قانونی نقطہ نظر سے سید شہاب الدین کے اعتراضات پر کشیدگی نے اس وقت نیاموڑ لیا ہے جب محترم صدر مشاورت اوران کے حامیوں کی جانب سے صدارتی انتخابات میں منظور احمد کو مبینہ طور پر امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا جانا ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ صدر مشاورت کو اس کا فریق نہیں بننا چاہیے، اس سے غیر جانبدارانہ انتخاب متاثر ہونے کا اندیشہ خارج از امکان نہیں ۔ وہ پہلے ہی انہیں اپنی ذاتی پسند بتا چکے ہیں ۔ بہر حال اس صورت حال نے مشاورت کے خیر اندیش کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔ خاص طور سے ان لوگوں کو جو مشاورت کی شاندار گولڈن جبلی کے بعد سے مثبت اور ٹھوس فیصلوں کی توقع کی شمع جلائے بیٹھے ہیں۔
24 ِ نومبر 2015 (روزنامہ خبریں ،نئی دہلی)
اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور تشویشناک صورتحال سے نبٹنے کے لئے اور اپنا موقف پیش کرنے کے لئے ڈاکٹر صاحب موصوف نےعین انتخابات کے عمل کے درمیان 5 دسمبر 2015 کو مشاورت کی جنرل باڈی کی میٹنگ بلائی اور رجسٹریشن کے تعلق سے اپنی تحریری تقریر میں جس کو میٹنگ میں ارکان کو تقسیم کیا گیا، صفائی دی جس کا متن مندرجہ ذیل تھا:
“مشاورت کا رجسٹریشن: مسلم مجلس مشاورت (مولانا سالم گروپ) نے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے نام سےایک سوسائٹی کا رجسٹریشن کرایا تھا۔ اکتوبر ۲۰۱۳ میں دونوں دھڑوں کے انضمام کے بعد میں نے کچھ رفقاء کے مشورے سے مذکورہ رجسٹریشن کو مشاورت کے نام منتقل کرانے کے لئے مولانا محمد سالم قاسمی صاحب سے رجسٹرار آف سوسائٹیز کو خط لکھوایا کہ مشاورت کے نئے انتخابات کے لئے نئے منتخبہ عہدیداران کو تسلیم کر لیا جائے۔ اس کا واحد مقصد مذکورہ رجسٹریشن کو اپنی طرف منتقل کرنے کا تھا اور یہ نیت تھی کہ رجسٹریشن کی منتقلی کے بعد سوسائٹی کے ضوابط ( بائی لاز )کو مشاورت کے موجودہ دستور سے ہم آہنگ کر لیا جائے۔ مولانا سالم گروپ کی رجسٹرڈ ڈیڈ کے مطابق مشاورت کے عہدیداروں کی کی مدت چار سال ہے۔ اس نکتہ کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ظفرالاسلام چور دروازے سے اپنی مدت کار دو سال اور بڑھانا چاہتا ہے۔”
استعفے کا مطالبہ: چور دروازے سے اپنی مدت کار بڑھانے کے دعویٰ کے ساتھ مجھ سے دو ممبران نے استعفے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگلا الیکشن سینئر موسٹ نائب صدر کی نگرانی میں ہونا چاہئے۔ چونکہ مدت کار بڑھانے کا دعویٰ بالکل بے بنیاد تھا، اس لئے استعفے مانگنے یا دینے کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔
ملّی رہنما مرحوم سید شہاب الدین صاحب : ملی رہنما مرحوم سید شہاب الدین صاحب پر گفتگو گرتے ہوئے اپنی تقریر میں شہاب الدین صاحب کے ذریعہ اٹھائے گئے اعتراضات پر اپنے موقف کا دفاع اور اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے موصوف نے اپنی تقریر میں دوسری باتوں کے علاوہ مندرجہ ذیل الزامات لگائے:
۔۔۔۔۔عرصہ دراز سے مشاورت کے کچھ کمرے سید صاحب کے تصرف میں ہیں جن کا کوئی کرایہ مشاورت کو نہیں ادا کرتے۔ اس کے بارے میں ان کو گوش گزار کیا گیا ہے کہ ان کمروں کا جائز کرایہ ادا کریں کیونکہ کسی کو مشاورت کے دفتر کو ذاتی طور پر استعمال کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق نہیں ہے۔ یہ بات بھی میں نے صرف اس وقت کہی جب موصوف نے وہمی بنیاد پر مجھ سے نہ صرف استعفے مانگا بلکہ یہ ہدایت دی کہ اب سے “مشاورت کے فنڈز کو ہینڈل نہ کرو” جبکہ عملا ًجلد بازی میں مشاورت ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں منتقل کر کے وہ خود ان پر برسوں سے قابض ہیں، اپنی مرضی سے خرچ کرتے ہیں اور شدید مالی نقصان کا سبب بن چکے ہیں۔ اس مسئلہ کو میں اگلے صدر پر چھوڑتا ہوں کہ دوسرے ممبران سے مشورہ کرکے اس کو بطور احسن نبٹائیں۔۔۔۔۔”
ما بعد جنرل باڈی میٹنگ(5 دسمبر 2015) ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب نے میٹنگ کی روداد اپنے ذاتی دفتر میں تیار کروائے اور دفتر مجلس مشاورت کو بھیجے، ان میں بھی رجسٹریشن کے تعلق سے روداد کے صفحہ (5) – (2) پر اپنی تقریر کو شامل کیا ہے۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی ان تینوں وضاحتوں میں جھول تھا اور حقیقت سے دور معلوم ہوتی ہیں۔ موصوف نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مولانا سالم گروپ کی رجسٹرڈ ڈیڈکے مطابق مشاورت کے عہدیداروں کی مدت چار سال ہے جو حقیقت کے بر خلاف ہے۔ یہ مدت چار سال نہیں، پانچ سال ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر انکی نیت رجسٹریشن کے تعلق سے بالکل صاف تھی تو دو سال کے عرصہ تک انہوں نے اس کو مخفی کیوںرکھا اور یہ اپنی مدت کی آخری مجلس عاملہ کی نشست میں دستور ریڈرافٹنگ کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت کیوں محسوس کی، اس حقیقت سے واقف ہوتے ہوئے کہ نئے انتخابات کے بعد دستور مشاورت (2006) کے ضابطہ کے مطابق پچھلی میقات کی تمام سب کمیٹیاں از خود ختم ہو جاتی ہیں۔ اگر مجلس عاملہ کے ارکان اس پر اعتراض نہ کرتے تو نئے انتخابات کے اعلان پربھی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو پاتا کیونکہ از خود مندرجہ بالا تقریر میں موصوف نے اقرار کیا ہے کہ رجسٹرار سوسائٹی کو خط لکھنے کا ان کا مقصد کیا تھا۔
محترم سید شہاب الدین صاحب 5 دسمبر 2015 کو منعقد جنرل باڈی میٹنگ میں خرابی صحت کی وجہ سے شریک نہیں تھے اور انکی غیر موجودگی میں اس معصوم ملی قائد پر یہ الزام موصوف نے لگائے جس نے ذاتی طور پر اور اپنے احباب سے مشاورت دفتر بلڈنگ میں تقریباً سترہ لاکھ روپےعطیہ دیا اور دلوایا۔ یہ الزام حقیقت سے کوسوں دور تھا کہ مرحوم کے تصرف میں دفتر مشاورت کے کچھ کمرے ہیں۔ دفتر مشاورت میں موجود تین قابل استعمال کمروں میں سے سید صاحب صرف ایک چھوٹے روم میں آکر بیٹھتے تھے اور ایک دوسرے روم میں مشاورت لائبریری قائم کرنا چاہتے تھے جس میں وہ مستقل کتابیں لالاکر رکھتے رہتے تھے۔ ان کے خلاف اس بیہودہ الزام کا نقصان یہ ہوا کہ مرحوم اپنی حیات میں ہی تمام کتابوں کو اٹھا کر لے گئے اور مشاورت ایک عظیم علمی سرمائے سے محروم ہو گئی۔رہی بات مشاورت ٹرسٹ جو ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اپنے دور صدارت میں بنایا تھا اور بہت ہوشیاری سے اس کا کوئی تعلق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت سے نہیں رکھا تھا،اس بابت بھی مرحوم سید شہاب الدین صاحب اور موصوف کے درمیان شدید اختلاف تھا۔ سید شہاب الدین صاحب کو غریق رحمت ہوئے آٹھ برس ہونے جا رہے ہیں لیکن بارہا اصرار کے باوجود وہ اس بات کے لئے راضی نہیں ہوتے کہ اس ٹرسٹ میں موجود مشاورت کی خطیر رقم کو جس کا وہ مرحوم سید صاحب پر الزام لگاتے تھے اور مسلم مجلس مشاورت کو واپس کرنے کا مطالبہ کرتے تھے، اب خود واپس کرنے کے لئے رضامندنہیں ہو رہےہیں اور اس بابت موجودہ صدر محترم فیروزاحمد ایڈوکیٹ کےخط کے جواب میں بھی کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ جبکہ موصوف اس کوشش میں ہیں کہ “مشاورت ٹرسٹ” کا مینجنگ ٹرسٹی وہ خود بن جائیں، جس کے لئے وہ محترم اے آر شیروانی صاحب پرلگاتاردباؤ ڈال رہے ہیں جبکہ انہوں نے ان کے ایلچی کو صاف منع کردیا ہے۔
2016-2017 کی میقات کے لیے جب موصوف کے منصب صدارت کے امیدوار کامیاب نہ ہو پائے تو موصوف کے ایک قریبی معتمد 2016ء میں حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے اصرار کیا کہ 2013 میں مشاورت میں انضمام ہوئے دھڑے کو یعنی رجسٹرڈ سوسائٹی کو از سر نو زندہ کیا جائے۔ اس حقیقت کا انکشاف مرحوم مولانا سالم قاسمی صاحب نے اپنے چھوٹے صاحب زادہ کی موجودگی میں کچھ ارکان مشاورت سے ملاقات کے درمیان کیا اور یہ بھی اس ملاقات میں معلوم ہوا تھا کہ مولانا مرحوم کے چھوٹے صاحب زادہ نے اس تجویز کو لے جانے والے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے ہمراز رفیق کی سختی سے تنبیہ کی تھی اور خود مولانا سالم قاسمی صاحب نے موصوف کو اس بات کو سمجھانے کی کوشس کی تھی کہ ان کو اور ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو انتخابات جمہوری انداز میں منصب صدارت کے لئے جناب نوید حامدکے منتخب ہونے کو قبول کرنا چاہیے۔
:مشاورٹ ٹرسٹ کاقضیہ
12-یہاں “مشاورت ٹرسٹ” اور مرحوم سید شہاب الدین صاحب کے درمیان اختلاف اور تنازعہ کے تعلق سے ارکان مسلم مجلس مشاورت کو یہ آگاہ کرنا بھی ضروری ہے کہ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان اس سے انکارنہیں کر سکتے کہ مرحوم سید شہاب الدین صاحب پر موصوف زور ڈال رہے تھے کہ دفتر مشاورت کی ملکیت اس متنازعہ ٹرسٹ کو منتقل کر دی جائے جس کے سیٹلر اورفرسٹ ٹرسٹی دونوں ڈاکٹر صاحب موصوف ہیں اوراس کے لئے مرحوم سید صاحب تیار نہیں تھے۔ اس بابت سابق صدر مسلم مجلس مشاورت نوید حامد صاحب نے بھی “مشاورت ٹرسٹ” کے چیئرمین جناب جلال الدین عمری صاحب کو بتاریخ یکم ستمبر 2016ء خط لکھ کر مخالفت درج کرائی تھی اور اس پرتوجہ دلائی تھی کہ:
۔۔۔۔آپ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ پبلک ٹرسٹ کے قوانین کو جاننے والوں کی رائے ہے کہ موجودہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے نظم سے آزاد “مشاورت” کے نام سے بنائےگئے اس ٹرسٹ کے بہت سے ضوابط ایسے ہیں جو پرائیویٹ ٹرسٹ کے ضوابط سے بہت قریب ہیں۔ میرے صدر بننے کے بعد محترم سید شہاب الدین صاحب نے خود مجھ سے بارہا اس بات کا اصرار کیا ہے کہ موجودہ ٹرسٹیز میں بدلاؤ ہونا چاہیے اور ضوابط بھی بدلے جانے چاہئیں۔ رمضان سے قبل ایک نشست میں آپ کے ساتھ جناب نصرت علی صاحب، جناب سید قاسم رسول الیاس صاحب، جناب عبدالرشید اگوان صاحب اور سید تحسین احمد موجود تھے۔ اس نشست میں لئے گئے فیصلے کی روشنی میں اورآپ کی ہدایت کے مطابق اگوان صاحب نے چند تجاویز ٹرسٹ کے تعلق سے آپ کو ارسال کی ہیں ،مجھے امید ہے کہ آپ نے ان تجاویز کو بغور دیکھا ہوگا۔۔۔۔۔میرا خیال ہے کہ یہ بات ہمیشہ ہمارے ذہوں میں رہنی چاہیے کہ مشاورت کی بلڈنگ مورخہ ۳ مارچ ۲۰۰۵ء کو لی گئی تھی اور ٹرسٹ کا قیام سن ۲۰۰۹ء میں ہوا ہے۔ اس طرح بنیادی طور پر یہ بلڈنگ مشاورت ٹرسٹ کی نہیں ہوسکتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔مزید مجھے یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ مشاورت ٹرسٹ نے مورخہ ۲۷ دسمبر ۲۰۱۰ء کو “آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت” کے ایک اکاؤنٹ سے بذریعہ چیک نمبر 1954523 ایک خطیر رقم مبلغ بائیس لاکھ پچاس ہزار روپیہ مشاورت ٹرسٹ کےاکاؤنٹ میں منتقل کی جو صریحاً غیر اخلاقی اور مشاورت کے مفادات کے خلاف ہے۔ مشاورت کے اس وقت کے ذمےداران کے فیصلے پر نظرثانی کا وقت آگیا ہے کہ کوئی مشاورت کے اوپر سپر باڈی کے طور پر کام نہ کر سکے۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ مذکورہ رقم کو فوری طور سے مشاورت کو واپس کیا جائے کیونکہ یہ رقم عطیہ دہندگان نے مشاورت کو دی ہے نہ کہ مشاورت ٹرسٹ جس کا قیام ۲۲ ِ مارچ ۲۰۰۹ ء کو ہوا؟جبکہ یہ رقم 1986 کے بعد سے ریلیف اور ۔۔۔۔۔ کے لئے رکھی گئی ہے۔”
اس خط کے متن کو سید شہاب الدین صاحب کی تائیدحاصل تھی لیکن سن ۲۰۱۷ کے شروع میں ہی مرحوم مالک حقیقی سے جا ملے۔
فروری 2017ء کی جنرل باڈی میٹنگ میں اس بابت سیر حاصل گفتگو ہوئی اور ڈاکٹر ظفرالاسلام خان سے زور دیکر کہا گیا کہ وہ ٹرسٹ میں موجود مشاورت کی رقم کو واپس کریں اور اس تعلق سے ایک متفقہ قرارداد بھی پاس ہوئی لیکن ڈھاک کے تین پات۔ یہ رقم مشاورت کو آج تک واپس نہیں لوٹائی گئی۔
:رجسٹریشن کی موجودہ حیثیت
13- اگر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کا سابقہ دعوی ٰجو انہوں نے مسلم مجلس مشاورت کی 5 دسمبر 2005 کو منعقدہ جنرل باڈی میں رکھا تھا کہ رجسٹرار آف سوسائٹی کو خط لکھنے کا “واحد مقصد مذکورہ رجسٹریشن کو اپنی طرف منتقل کرنا اور یہ نیت تھی کہ رجسٹریشن کے بعد سوسائٹی کے ضوابط مشاورت کے موجودہ دستور سے ہم آہنگ کر لیا جائے” تو مشاورت کا رجسٹریشن ان کی ذاتی ملکیت کیسے ہو گئی۔ یہ اس اصل مشاورت کی ملکیت ہے جو 1964 میں قائم ہوئی تھی اور جس اصل مسلم مجلس مشاورت میں مولانا محمد سالم قاسمی صاحب گروپ کی متوازی مشاورت نے سن 2013 ء میں انضمام کیا تھا اور یہ کہ اگر یہ رجسٹریشن ان کے پاس موجود تھا (جو یقینی طور پر حقیقت پر مبنی نہیں ہے) تو اس درمیان انہوں نے رجسٹرڈ مشاورت کے دستوری تقاضوں کے مطابق 2019 میں اس مشاورت کے انتخابات اس لئے نہیں کرائے کہ وہ مسلم مجلس مشاورت کے نام سے مستقل فائدہ اٹھاتے رہنا چاہ رہے تھے؟اس لئے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ سالم گروپ کی مشاورت کے رجسٹریشن کا اصل امین وہی آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ہے جس میں متوازی مشاورت نے انضمام کیا تھا اور ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کا دعویٰ کھوکھلا، غیر آئینی، غیر اخلاقی اور غیر شرعی ہے۔ یہاں شرعی پہلو کا ذکر اس لئے اہم ہے کہ موصوف ایک اسلامی اسکالر ہونے کا دعوٰی بھی کرتے ہیں۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے رجسٹریشن کا کھوکھلا سہارا لیکر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان بھارت کے مسلمانوں کے واحد وفاقی ادارہ کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور ان کے پیچھے وہ طاقتیں ہیں جو اس ادارہ کو یا تو ختم کرنا چاہتی ہیں یا وہ نادان لوگ ہیں جو مشاورت کے رکن بننے کے قابل بھی نہیں تھے لیکن اب اپنے سیاسی اور کاروباری مفادات کے فروغ کے لئے اس غیر اسلامی عمل اور مشاورت کو تقسیم کرنے کی سازش میں ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی پشت پر کھڑے ہیں اور اس کے لئے ان نادانوں نے جون میں دہلی میں میٹنگ بلاکر اپنی مشاورت کے انتخابات کا اعلان کیا ہے۔ اس سازش سے ارکان مسلم مجلس مشاورت اور محبان ملت کو ہوشیار رہنا ہے۔ ان کا اصل مقصد تو مشاورت کے اثاثوں پر قبضہ کرنا ہے۔اس تعلق سے جو بھی قانونی تدابیر ہو سکتی ہیں ان پر غور کیا جارہاہے۔
:رجسٹرڈ مشاورت کے نام پر چندہ جمع کرنے کی مہم
14- ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اپنے 29 اپریل 2024 کے خط میں اس فرضی مشاورت کے رکن بننے کے لئے انفرادی ارکان سے ایک ہزار روپیہ اور تنظیموں سے پانچ ہزار روپے منگوائے ہیں جبکہ اصل رجسٹریشن والی مشاورت جس کے تمام اصل کاغذات ہمارے پاس موجود ہیں، اس کے ضوابط میں ہدایت ہے کہ :
The admission fee and the subscription shall be as under otherwise revised…:
a) Admission fee Rs.100/- at the time of admission
b) Subscription Rs 25/- per month.
Article 3 of Rules And Regulations) )
غورطلب ہے کہ مولانا محمدسالم گروپ کی سوسائٹی(قائم شدہ 2003) جس کے رجسٹریشن کے کاغذات 2013 میں 1964 سے قائم اصل مشاورت کو سپرد کردئے گئےتھے، اس کے دستور میں تبدیلی کے لیےکبھی کوئی نشست نہیں ہوئی۔پھر اس کی رکنیت فیس ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں کے مکتوب (مرقومہ29اپریل 2024) کے مطابق 5000 روپےتک کیسے پہنچ گئی؟ یاتو رجسٹرڈ سوسائٹی کے روابط کو آمرانہ انداز میں توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے یا پھر موصوف کی صدارت میں یہ سوسائٹی متوازی طور پر چل رہی تھی جبکہ وہ دوسری طرف 2015 اور 2019 میں بطور امیدوار اصل مشاورت کے انتخابات میں بھی حصہ لیتے رہےاور 2022 تک مشاورت کے عہدیداران و ارکان کو مراسلات لکھ لکھ کران سے اپنے مزعومات و موقفات منوانے کی کوشش کرتے رہے جن سے مشاورت کی مجلس عاملہ، مجلس عام اور سپریم گائڈنس کونسل کے ارکان بشمول مولانا سیدجلال الدین عمری صاحب امیرجماعت اسلامی ہند نے کبھی اتفاق نہیں کیا۔دونوں صورتیں صریح غیراخلاقی و غیرقانونی فعل اور قابل مواخذہ خیانت
ہیں ۔جولوگ بھی اس فعل میں ڈاکٹر ظفرالاسلام خان اور ان کےکھلے چھپے ساتھیوں کا تعاون اور ان کی بلائی گئی میٹنگ میں شرکت کریں گے ،وہ ملت میں انتشار اور مشاورت کے منشور کو نقصان پہنچانے کی سازش کا حصہ بنیں گے۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب کی نیت کااس سے بڑا اشتہار اور کیا ہوگاکہ موصوف اپنے ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کی غرض سے ارکان مشاورت کو گمراہ کرنے کے لئےکسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹرصاحب اور ان کے رفقاکی سرگرمیاںرجسٹرڈسوسائٹی کے
قضیے کو زندہ کرکے مشاورت میں2013 کے انضمام و اتحاد کو تباہ اوراس کے وفاقی کردارکومسخ کرنے کی سازش کاحصہ ہیں جوکسی بھی قیمت پربرداشت نہیں کی جانی چاہیے۔ارکان و ہمدردان مشاورت کو مسلمانان ہند کے اس تاریخی اثاثہ (آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ) کے خلاف کی جارہی سازشوں سے ہوشیار رہنے اورذاتی منفعت پر قومی وملی مفادات کو بھینٹ چڑھانےکےعزائم کامقابلہ مضبوطی سےکرنے کی ضرورت ہے۔فقط والسلام
خیراندیش
(شیخ منظور احمد)
جنرل سکریٹری،آل انڈیامسلم مجلس مشاورت،نئی دہلی
سابق ڈپلومیٹک ایڈیٹر،یو این آئی (انگلش سروس )
سابق ایڈیٹر ،یو این آئی (اردو)
معروف انگریزی قومی نیوز ایجنسی ”یو این آئی“ کے 30 برسوں تک ڈپلومیٹک ایڈیٹر رہے