مسلم مجلس مشاورت میں صحافی و سیاستداں شاہدصدیقی کی کتاب’آئی وٹنس‘ پر مذاکرہ، حالات کی سنگینی پربحث،پڑوسی ممالک میں بڑھتی فرقہ پرستی پربھی تشویش کا اظہار، اقلیتوں کی بین الاقوامی کانفرنس بلانے کی تجویزبھی زیربحث آئی

نئی دہلی25جنوری (پریس ریلیز): شاہدصدیقی نے آئی وٹنس(میری آنکھوں دیکھی) لکھ کر اس فرض کو ادا کیا ہے جو ہم سب پر قرض تھا۔ اس خیال کا اظہار ہفتے کو یہاں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت میں شاہد صدیقی کی کتاب پر مذاکرہ کے دوران مشہور اسلامی اسکالر پروفیسر اخترالواسع نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ حالات کی سنگینی کا رونا روتے ہیں لیکن ہم حالات سے مایوس نہیں ہیں۔جو امت کربلا کے بعد ختم نہیں ہوئی، سقوط بغداد کے بعد  ختم نہ ہوئی، 1857کے بعد بھی باقی رہی اور1992کے بعد بھی باقی ہے، وہ آئندہ بھی زندہ رہے گی جبکہ زیربحث کتاب ”آئی وٹنس: انڈیا فرام نہروٹو نریندر مودی“کے مصنف سینئر صحافی و سیاستداں شاہد صدیقی نے کہا کہ اس وقت پورے ساؤتھ ایشیابلکہ دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی اقلیتیں خطرات میں گھری ہوئی ہیں،ان کو ظلم و زیادتی اور نفرت و عداوت کا سامنا ہے لیکن مایوس ہونے کے بجائے اسی عزم و ہمت اور حکمت ودانائی سے حالات کا سامنا کرنا ہوگاجس سے تحریک آزادی کے دوران اور اس کے بعد ہمارے بزرگوں نے کام لیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں اپنے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش، پاکستان اور خطہ کے دوسرے ملکوں کی اقلیتوں کے ساتھ بھی کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو اقلیتوں کے حقوق اور ان کے ساتھ انصاف کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانے کا مشورہ بھی دیا۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ اقلیتوں کی لڑائی سیاسی جماعتیں نہیں، سماجی تنظیمات لڑتی ہیں۔کتاب کے مواد کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ میری خوش قسمتی ہے کہ ان کرداروں کو زیادہ قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے مواقع ملے اور ایسے بہت سے واقعات کا گواہ ہوں جنھوں نے ملک کی سیاست اور سماج کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروز احمدایڈوکیٹ نے اپنے صدارتی کلمات میں یقین دہائی کرائی کہ شاہد صدیقی صاحب کا مشورہ قابل عمل ہے اور مشاورت اس پر پوری سنجیدگی سے کام کریگی۔انہوں نے زور دیا کہ سیکولرزم ہی اس ملک کا مستقبل ہے جبکہ مشاورت کے سابق صدر نوید حامدنے حالات کی سنگینی کو تاریخ کی روشنی میں دیکھنے پر زور دیتے ہوئے زیربحث کتاب کو ایک گرانقدر دستاویز بتایا۔ اس سے قبل کتاب کے مندرجات کے حوالے سے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مرکز برائے سماجی وسیاسی شمولیت کے استاد ڈاکٹر مجیب الرحمٰن نے نئی نسل کو متوجہ کیا کہ یہ ایک قابل مطالعہ کتاب ہے جس سے ہندوستان کی سیاست، سماج اور اس کی باریکیوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے بعض نکات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے اپنامطالعہ بھی شیئر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی تخلیق کا سہرا اندرا گاندھی کے سر باندھا جاتا ہے لیکن اس کے اصل آرکیٹکٹ ششانک بنرجی تھے جن کو یہ ذمہ داری اندراجی سے بہت پہلے پنڈت نہرو نے سونپی تھی۔

 مذاکرے کے تعارفی کلمات مشاورت کے جنرل سکریٹری احمد جاوید نے پیش کیے۔وہی مذاکراے کی نظامت بھی کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حال  کے برسوں میں کئی خود نوشتیں منظر عام پر آئی ہیں جن میں وی پی سنگھ سے منی شنکر ایر تک کی کتابین شامل ہیں لیکن اپنے مواد، اسلوب اور واقعات کی توجیہ کی وجہ سے آئی وٹنس ان سب پر سبقت لے گئی، سال کی بیسٹ سیلر اورسب سے زیادہ زیربحث کتاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہد صدیقی ہندوستانی مسلمانوں کی اس نسل کے نمائندہ ہیں جو آزادی کے بعد پیدا ہوئی اور ان نشیب و فراز کو بہت قریب سے دیکھا اور آزمائشوں کا سامنا کیاجن سے گذر کر آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے نئی نسل کی جانب سے حاضرین کو یقین دلایا کہ ہم نہ مایوس ہیں نہ شکست ماننے والے ہیں۔ ہمارے بہت سے نوجوان آج بھی اسی پامردی کے ساتھ آزمائشوں کا سامنا کررہے ہیں اورجیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہیں جو ہماری روشن تاریخ کا حصہ ہے۔

مذاکرے میں کثیر تعداد میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ارکان، دیگر اہل علم و دانش، سماجی و سیاسی کارکنان اور میڈیا کے نمائندے شریک تھے جن میں پروفیسر بصیراحمدخاں، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس، ڈاکٹر عارف اقبال، ڈاکٹر ادریس قریشی(صدر، دہلی مسلم مجلس مشاورت)،سیدشرف ایڈوکیٹ، اسلم احمد جمال ایڈوکیٹ، سردار گربچن سنگھ، ڈاکٹر سید اویس، ڈاکٹر ایس ایم مکرم، پروفیسر جی ایم بھٹ، ڈاکٹر سعدیہ، مولانا مقصود الحسن قاسمی، شفیق الحسن اورمشاورت کے جنرل سکریٹری شیخ منظور احمد،ڈاکٹر اقبال احمد، محمد معیز قدوائی، نوراللہ خان،محمداشرف بستوی،محمد اختر (ریٹائرڈ، ڈپٹی ایس پی)، انجینئر محمد نافس، انجینئر سہیل اجمیری اور دیگر معززین شامل رہے۔       

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *