یو ایس ٹی ایم کے بانی محبوب الحق کی گرفتاری کی مذمت، سپریم کورٹ اور صدر جمہوریہ سے مداخلت کی درخواست،مشاورت نے معززشہری کی گرفتاری کو انصاف کا خون اورترقی پسند طبقے کا حوصلہ پست کرنے کی سازش کہا، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اقلیتی کوٹے سے چھیڑ چھاڑ بھی ناقابل برداشت
نئی دہلی: بی جے پی کی حکومتیں ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلم تعلیمی اداروں کومسلسل نشانہ بنارہی ہیں جو انتہائی ناقابل برداشت اور قابل مذمت ہے۔ان جذبات کا اظہار آج آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے قومی صدر فیروز احمد ایڈو کیٹ نے کیا۔انہوں نے کہا کہ آسام میں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، میگھالیہ (یو ایس ٹی ایم) کے بانی وچانسلر محبوب الحق کی گرفتاری ایک کھلا سیاسی انتقام اور انصاف کاخون ہے۔اس سے قبل راجستھان میں جے پور کی مولانا آزاد یونیورسٹی کے عتیق احمد کو بھی ہراساں کیا گیا،اترہردیش میں گلوکل یونیورسٹی کے اثاثوں کو ضبط کیا گیا اور رامپور کی مولانا جوہر یونیورسٹی پر اعصاب شکن کارروائیاں جاری ہیں۔ صدر مشاورت نے سپریم کورٹ اور صدر جمہوریہ سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک معزز شہری،نامورماہرتعلیم اورملک وقوم کے بے لوث خادم کی گرفتاری اور قید کا مقصد معاشرے کے ترقی پسند افراد کے ایک خاص حصے کا حوصلہ پست کرنا ہے۔ اعلیٰ تعلیم اور صحت کے جدید سیکولر اداروں کے قیام کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ محبوب الحق کی گرفتاری خالص انتقامی کارروائی ہے۔ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے فرقہ پرست عناصرکی جانب سے این اے اے سی(NAAC) سے اے گریڈ یافتہ اداروں کے لیے بنیاد پرست اور دقیانوسی جیسے الفاظ استعمال کر کے ان کی شبیہ خراب کرناایک بہت بڑی بدبختی ہے جس کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔فیروزاحمدایڈوکیٹ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نئے وائس چانسلرآصف مظہر کو جامعہ کا اقلیتی کردار مسخ کرنے کے لیے استعمال کیے جانے کی خبروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اورکہا ہے کہ جامعہ میں نافذالعمل اقلیتی کوٹے سے چھیڑ چھاڑ ہرگزبرداشت نہیں کیا جائیگا۔
یوایس ٹی ایم کے چانسلر کی گرفتاری سے ابھرے سنگین سوالات:
آسام پولیس نے پچھلے ہفتے یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، میگھالیہ (یو ایس ٹی ایم) کے چانسلر محبوب الحق کو ذات سرٹیفکیٹ میں جعلسازی کے الزام میں جس طرح چھاپہ مارکر گرفتار کیا،وہ بڑے سنگین سوالات پیداکرتاہے۔ محبوب الحق کو سری بھومی ضلع پولیس اور آسام پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کی ایک ٹیم نے گوہاٹی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا تھا۔ ان کے خلاف سری بھومی ضلع میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر ذات کا جعلی سرٹیفکیٹ بنانے کا الزام عائد کیاگیا ہے۔ گزشتہ سال مانسون میں گوہاٹی میں پانی جمع ہوگیا تھا تو وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا شرما نے اس کیلئے یونیور سٹی کو نشانہ بنایا تھا اور یونیور سٹی کے خلاف کیس رجسٹرڈ کرنے کی ہدایت دی تھی۔شرمانے اسے فلڈ جہاد کا نام دیا تھا۔ اس سے پہلے، شرما نے الزام لگایا تھا کہ شہر کو گوہاٹی کے مضافات کی پہاڑیوں میں بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ ا نہوں نے یو ایس ٹی ایم جیسے نجی اداروں کو قرار دیا۔ شرما نے دعوی کیا کہ آسام کے سری بھومی ضلع سے تعلق رکھنے والے بنگالی نژاد مسلمان اور یو ایس ٹی ایم کے بانی محبوب الحق گوہاٹی میں ”فلڈ جہاد“میں مصروف ہیں۔
یوایس ٹی ایم کی خدمات اور حکومت کا مذموم رویہ:
شمال مشرقی ہندوستان میں سپر اسپیشلٹی صحت خدمات کی مانگ کے ساتھ، پی اے سنگما انٹرنیشنل میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل، یو ایس ٹی ایم کا ایک کالج، 150 نشستوں کے ساتھ قائم کیا جا رہا،1100 بستروں پر مشتمل جدید ترین سپر اسپیشلٹی اسپتال کا منصوبہ اعلیٰ درجے کی صحت خدمات کے لیے جدید انفراسٹرکچر سے لیس ہے۔یہ سپر اسپیشلٹی اسپتال شمال مشرقی ریاستوں کے شہریوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کرتا ہے جنہیں ابھی تک اس کے لیے کولکاتہ جانا پڑتا ہے۔ یہ بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال سمیت پڑوسی آسیان ممالک کی صحت کی دیکھ بھال کی ضروریات کو پورا کرکے طبی سیاحت میں بھی حصہ ڈالے گالیکن یوایس ٹی ایم کے بانی ڈاکٹر محبوب الحق کو حکومت آسام نہایت بدبختانہ طور پر نشانہ بنارہی ہے۔ یونیورسٹی اور ڈاکٹر محبوب الحق سے حکومت آسام دست و گریباں ہے،اس نے ان پر گوہاٹی میں ’فلڈ جہاد‘ کا الزام لگایا اورکہ اس یونیورسٹی کے فارغین کو آسام میں ملازمت نہیں دی جائے گی اور وزیراعلی نے ایسا صرف اپنے سیاسی اغراض کے لیے کیا۔