نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے وقف ایکٹ میں ترمیم کرنے کے حکومت کے فیصلہ کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا ہے کہ حکومت کسی نہ کسی بہانہ سے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کررہی ہے جس سے ملک کے سیکولر جمہوری نظام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ مشاورت کے جنرل سکریٹری شیخ منظور احمد نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت وقف بورڈوں کے اختیارات کو محدود کرنا چاہتی ہے اور کسی نہ کسی طریقے سے ان جائیدادوں پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو ہمارے آباء و اجداد نے مذہبی اور فلاحی کاموں کے لیے وقف کیا ہے۔ حکومت کا کام اس کو ریگولیٹ کرنے کا ہے لیکن وہ ان کو ہڑپنا چاہتی ہے اور وقف املاک پر قابض غاصبوں کے لئے قانون میں دروازے کھولنا چاہتی ہے۔
شیخ منظور احمد نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ وقف ایکٹ میں ترامیم کرنے سے پہلے کسی بھی مسلم تنظیم، دانشوروں، ماہرین قانون اور اسلامی اسکالر سے کوئی بھی مشورہ نہیں کیا گیا۔ اس سے حکومت کی نیت صاف نظر آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ وقف بورڈوں کی حیثیت کو برقرار رکھا جائے اور وقف املاک کا استعمال شریعت کے حساب سے ہونا چاہیے۔اس وقت 8لاکھ 70ہزار سے زیادہ املاک اور جائیدادیں وقف بورڈوں کی تحویل میں ہیں اور اس کا استعمال رفاہی کاموں اور فلاح و بہبود کے لیے کیا جائے نہ کہ کسی دوسرے کاموں کے لیے۔ مشاورت نے حکومت کے اس رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ وہ نہ صرف ملک کے فلاحی کردار کو کمزور کررہی ہے بلکہ ہندوستانی سماج میں موجود روایات خیر و فلاح کو بھی نقصان پہنچانا چاہتی ہے، نہایت افسوس کا مقام ہے کہ محتاجوں اور غریبوں کے لئے وقف املاک اور بھوکوں اور یتیموں کے نوالوں پر اس کی نظر بد ہے۔
جاری کردہ
شہاب الدین
آفیس سکریٹری، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت