
پروفیسر اخترالواسع کا اتحاد و اتفاق پر زور، احمد جاوید نے مشاورت کے اغراض و مقاصد بیان کیے، ایس آئی آر کے خلاف احتجاج اور ملک کے موجودہ حالات پر بھی گفتگو
نئی دہلی، 11 اکتوبر(پریس رییز):ڈاکٹر ادریس قریشی دوسری مرتبہ بلا مقابلہ دہلی ریاستی مسلم مجلس مشاورت کے صدر منتخب ہوگئے۔ اتوار کو آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے مرکزی دفتر میں آئندہ میقات” 2026ء تا 2028ء “کے لیے منعقدہ انتخابی اجلاس میں ان کے انتخاب کا اعلان کیا گیا۔ انتخابی کارروائی ریٹرننگ آفیسر عبدالرشید انصاری کی نگرانی میں مکمل ہوئی، جبکہ اجلاس کی صدارت آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے نائب صدر پروفیسر اخترالواسع نے کی۔ اجلاس کا آغاز ڈاکٹر محمد شیث تیمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔
انتخاب کی کارروائی صبح حسب پروگرام 10:30 بجے شروع ہوئی ۔ امیدواروں کے ناموں کی تجویز پیش کرنے کے لیے صبح 11 بجے سے 11:30 بجے تک کا وقت مقرر تھا۔ ارکان مشاورت کی جانب سے ایک تجویز موصول ہوئی، تاہم تجویز میں صدارت کے لیے ڈاکٹر ادریس قریشی ہی کا نام پیش کیا گیا۔ انتخابی مراحل کی تکمیل کے بعد دوپہر 1:45 بجے ریٹرننگ آفیسر عبدالرشید انصاری نے ڈاکٹر ادریس قریشی کو بلا مقابلہ منتخب قرار دینے کا اعلان کیا، جس کا حاضرین نے خیرمقدم کیا۔
مشاورت کے دستور کے مطابق ریاستی صدر کا انتخاب دو سالہ میقات کے لیے ریاستی مجلس مشاورت کے ارکان کرتے ہیں، جبکہ صدر اپنی صوابدید سے مجلس عاملہ تشکیل دیتے ہیں، جس میں کم از کم 11 ارکان شامل ہوتے ہیں۔
اس موقع پر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے نائب صدر پروفیسر اخترالواسع، مرکزی مجلس عاملہ کے رکن ڈاکٹر محمد شیث تیمی، رکن مشاورت مولانا اظہر مدنی، جنرل سکریٹری احمد جاوید اور ارکان مشاورت نے نومنتخب صدر کو مبارک باد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر اخترالواسع نے ڈاکٹر ادریس قریشی کو دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلم مجلس مشاورت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں تنظیم کے تمام ارکان کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر اتحاد و اتفاق کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ ذاتی اختلافات اور باہمی تلخیوں کو درگزر کرکے اجتماعی مقاصد کو ترجیح دی جانی چاہیے، تاکہ مشاورت ملت کے مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کرسکے۔ انہوں نے ارکان پر زور دیا کہ وہ باہمی اعتماد، اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دیں اور تنظیم کے وسیع تر مقاصد کے لیے مشترکہ جدوجہد کو تقویت پہنچائیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی میقات میں مشاورت کی دہلی یونٹ اپنی ذمہ داریوں کو مزید بہتر انداز میں ادا کرے گی۔
مرکزی مجلس عاملہ کے رکن ڈاکٹر محمد شیث تیمی نے اپنے خطاب میں تنظیمی امور میں مشاورت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تنظیم کو مضبوط اور فعال بنانے کے لیے تمام ارکان کی آرا اور تجاویز کو توجہ سے سننا اور ان پر غور کرنا ضروری ہے، تاہم ہر تجویز کو عملی طور پر نافذ کرنا لازمی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کے ذمہ داران مختلف معاملات، حالات اور ان کے عملی تقاضوں سے واقف ہوتے ہیں، اس لیے انہیں تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ ارکان کو اپنی رائے اور مشورے پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے،انہوں نے تنظیمی نظم و ضبط، باہمی تعاون اور ذمہ داران کے فیصلوں کے احترام کو بھی اہم قرار دیا۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے جنرل سکریٹری احمد جاوید نے اپنے خطاب میں تنظیم کے قیام، اغراض و مقاصد، تنظیمی ڈھانچے اور سرگرمیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے مشاورت کے کردار اور اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم ملت کے اجتماعی مسائل پر غور و فکر کرنے، مختلف ملی و سماجی تنظیموں کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کو فروغ دینے اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے اجتماعی کوششوں کو آگے بڑھانے کے مقصد سے کام کرتی ہے۔ انہوں نے ارکان پر زور دیا کہ وہ تنظیم کو مزید فعال اور مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اور باہمی تعاون کے ساتھ اس کے مقاصد کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔
دہلی مسلم مجلس مشاورت کے رکن صنوبر علی قریشی(ایڈو کیٹ سپریم کورٹ) نے اپنے خطاب میں ملک کے موجودہ حالات اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف جاری احتجاج کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتِ حال پر سنجیدگی سے غور کرنے اور عوامی مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ، اتحاد و ہم آہنگی کے فروغ اور جمہوری اقدار کے احترام پر زور دیا۔
دہلی ریاستی مسلم مجلس مشاورت کے نومنتخب صدر ڈاکٹر ادریس قریشی نے اپنے خطاب میں تمام ارکان مشاورت اور آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دوسری مرتبہ اعتماد کا اظہار کیے جانے پر سب کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ دہلی مسلم مجلس مشاورت کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں گے۔
اس موقع پر ڈاکٹر اقبا ل احمد ، ڈاکٹر ریحانہ، سلطان احمد، اشرف علی بستوی، محمد معین الحق خان، محمد فیض الرحمان، محمد معین الدین حبیبی، عابد علی انصاری (سی اے)،ایڈو کیٹ مسرور الحسن صدیقی، محمد الیاس ، مولانا نثار احمد نقشبندی، منصور احمد ، ظہیر الحسن ،محمد خالد، محمد اختر سیفی، انجینئر ایم حفیظ نوشاد، عزیز الرحمن راہی، اے سہیل ، محمد آصف انصاری، قمر رئیس ، اطہر ابراہیم خان، فیرو زاحمد صدیقی، سید عشر ت علی ، شیخ محمد یامین قریشی، زین العابدین ہاشمی ، عبد الجبار، شیر محمد ، تحسین احمد ، محمد ادریس قریشی ، ایم ۔ اطہر الدین عرف منے بھارتی ، محمد اسلم ، بد را ٓفاق ، مہتاب عالم، محمد عرفان اور عبد المعین وغیرہم شامل تھے۔
