آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے قومی اجلاس میں منظور کی گئی
Date: 21st September, 2024
این ڈی اے حکومت کی کارکردگی تقریباً تمام میکرو اکنامک پیرامیٹرز میں خراب رہی ہے۔ لوک نیتی-سی ایس ڈی ایس(CSDS) پری پول سروے (دی ہندو، اپریل 11، 2024) کے مطابق، بےروزگاری اور مہنگائی دو بڑے مسائل نےجہاں لوک سبھا انتخابات 2024 کے نتائج کو متاثر کیا،وہیںاس بجٹ میں مہنگائی اور بے روزگاری کے چیلنجز سے نمٹنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ وزیر اعظم کے پیکیج کے حصے کے طور پرایمپلائمنٹ لنکڈ انسینٹیو(روزگارپر مبنی حوصلہ افزائی) کے لیے موجود اسکیمیں کام نہیں کر رہی ہیں کیونکہ یہ سپلائی سائیڈ مداخلت ہے اور صرف اجرت میں کمی اورلیبر کی ہنر مندی موجودہ بے روزگاری کے بحران کو حل نہیں کرسکتی۔ بے روزگاری کی شرح میں 2000 اور 2012 میں 2 فیصد سے تھوڑا سا اضافہ ہوا جو 2019 میں 5.8 فیصد تک پہنچ گیا۔
ایک بڑی تشویش یہ ہے کہ مردم شماری/ذات برادری کی مردم شماری کے اعداد و شمار کی دستیابی کی کمی ہے جو پالیسی سازی اور بجٹ سازی کے لیے ضروری ہے۔ مردم شماری 2021 کا کام ابھی شروع نہیں ہوا۔ ریاستوں اور پسماندہ طبقات کے درمیان وسائل کی تقسیم پر اس کے مضمرات کارفرماہوتے ہیں لیکن ہمارے پاس مختلف خطوں اور برادریوں کی آبادی اور سماجی اقتصادی اور ترقیاتی حیثیت کی حقیقی تصویریں نہیں ہیں۔
یونین بجٹ اور اقلیتیں
اقلیتوں کی ترقی کے اشاریےنیچےآئے ہیں،اس کے باوجود 2023-24میںوزارت اقلیتی امور کے پچھلے سال کے بجٹ میں2022-23سے 1913کروڑ روپے کی کمی کردی گئی(جو 38 فیصد کی زبردست تخفیف ہے) اور اس باراس میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ رواں مالی سال میں اقلیتوں کے لیے بجٹ مختص کرنے میں درحقیقت کل مرکزی بجٹ کے تناسب میں وزارت کا بجٹ 2022-23(BE) میں 0.12 فیصد سےگھٹ کر 2024-25 میں 0.06 فیصد رہ گیا ہے۔وزارت اقلیتی امور کے لیے اس سال کی کل رقم 2012-13میں مختص کی گئی رقم کے تقریباً برابر ہے۔ پچھلے کچھ سالوں سےوزارت اقلیتی امور بجٹ میں مختص رقم استعمال کی اہل نہیں ہے۔
وزارت اقلیتی امور کےبجٹ مختص رقوم میں کمی کی بڑی وجہ متعدد اسکیموں/ اداروں کا بند ہونا ہے جیسے اقلیتی طلبہ کے لیے مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ، بیرون ملک مقیم طلبہ کے لیے تعلیمی قرضوں کے سود پر سبسڈی، مفت کوچنگ اسکیمیں، پری میٹرک کی کوریج میں تخفیف، کلاس 9-10 کے لیے اسکالرشپ، مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن (MAEF)/بیگم حضرت محل اسکالرشپ اسکیم، اور مدارس اور اقلیتوں کے لیے اسکیمیں۔ بہت سی بڑی اسکیموں کے لیے مختص رقم میں بھی کمی آئی ہے جیسے میرٹ کم مینس، پری میٹرک اسکیم، مفت کوچنگ اور اس سے منسلک
اسکیمیں، مدارس اور اقلیتوں کے لیے تعلیمی اسکیم، اور پردھان منتری جن وکاس کاریاکرم (PMJVK)
مدارس اور اقلیتوں کے لیے تعلیمی اسکیم میں مرکزی حصہ میں کمی اور اس کے بعد اسکیم کے بند ہونے سے ریاستوں میں کئی سالوں سے اساتذہ کو اعزازیہ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے مدارس میں بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔
جیسا کہ محکمہ سے متعلق قائمہ کمیٹی برائے سماجی انصاف( 2023-24)نے روشنی ڈالی ہےکہ اسکالرشپ سکیموں کے فنڈز کا ناقص استعمال، کوٹہ سسٹم کی وجہ سے فائدہ اٹھانے والوں کی ناکافی کوریج، فنڈز کی ناکافی اختصاصی کی وجہ سے کم یونٹ لاگت اور کچھ اسکیموں کو ختم بھی کردیاجاناقابل ذکرعوامل ہیں، طلباء کو وظائف کے طور پر دی جانے والی رقم ان کے تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہےاور اقلیتوں کے لیے پری میٹرک، پوسٹ میٹرک اور میرٹ کم مینس اسکیموں میں اسکالرشپ کی یونٹ لاگت میں اسکیموں کے آغاز (2007-08)کے بعد سے نظر ثانی نہیں کی گئی ہے۔
سفارش
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کا مطالبہ ہے کہ یونین بے روزگاری اور مہنگائی سے متعلق مسائل کو فوری طور پر حل کرے۔ مردم شماری/ذات کی مردم شماری جلد از جلد کرائی جائے۔ اقلیتوں کے تعلیمی حصول اور معاشی طور پر بااختیار بنانے میں محرومی کی سطح کو دیکھتے ہوئےوزارت اقلیتی امور کے لیے بجٹ میں مختص رقوم میں نمایاں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ تمام اسکالرشپ اسکیموں کو مطالبہ پر مبنی بنایا جانا چاہیے اور والدین کی آمدنی سے متعلق اہلیت کے معیار میں نظرثانی کے ساتھ یونٹ کے اخراجات کو بڑھانے کے لیے اضافی مالی وسائل فراہم کیے جانے چاہیے۔ جو اسکیمیں بند کی گئی ہیں ان کو بحال کیا جائے۔ 15 نکاتی پروگرام کی روسے وسائل کی تقسیم مختلف شعبوں میں اقلیتی برادریوں کی متنوع ضروریات کے مطابق کی جانی چاہیے۔
تجویز کردہ:
ڈاکٹر جاوید عالم خان، ایگزیکٹو ڈائریکٹر
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اینڈ ایڈوکیسی، نئی دہلی۔