اقلیتی امور اور اقلیت کی تعلیمی بہبود کے بجٹ میں تخفیف پر اظہار تشویش

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے مرکزی بجٹ کو اقلیتوں کے لیے مایوس کن بتایا نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے مرکزی بجٹ کو ملک کی اقلیتوں کے لیے مایوس کن اور بی جے پی کے سیاسی مقاصد سے متاثر کہا ہے۔ مشاورت کے قومی صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے بجٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتوں کی تعلیمی بہبود کے لیے مختص رقوم میں بھاری تخفیف اور اقلیتی امور کے بجٹ میں اعدادو شمار کا کھیل اور ہاتھ کی صفائی سے کام لینا انتہائی مایوس کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے اس عمل سے سماج میں انتہائی بد بختانہ پیغام جائیگا اور بی جے پی کا مقصد بھی یہی ہے۔واضح رہے کہ مرکزی بجٹ میں وزارت اقلیتی امور کے لیے مالی سال 2025-26 میں 3,350 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ2024-25 کے بجٹ تخمینہ 3,183.24 کروڑ روپے کے مقابلے میں صرف پانچ فیصد اوپر ہے۔ مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ ریاستوں کو دی جانے والی گرانٹس میں تقریباً 1,000 کروڑ کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے لیکن یونین ٹریٹریزحکومتوں کو دی جانے والی گرانٹس کو30.06 کروڑ سے کم کر کے10.06 کروڑ کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح قبائل، خواتین اور سماجی بہبود کے بجٹ میں 35 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ اقلیت کی تعلیمی بہبود کے بجٹ میں ایک بار پھر بھاری کٹوتی کی گئی ہے۔ 2024-25میں مائناریٹی ایجوکیشنل ویلفیئر کے بجٹ کو کم کر کے صرف ایک ہزار پانچ سو بہترکروڑ کردیا گیا تھا جو اس بارصرف 678.03 کردیا گیا۔ اسکولی طلبہ و طالبات کے لیے اسکالرشپس، مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ، فری کوچنگ اور تعلیمی قرضوں کے سود پر سبسڈی اقلیتی تعلیمی بہبود کے بجٹ میں شامل ہیں اور حکومت کا یہ رویہ اقلیت کے بچوں کی تعلیمی ترقی کو متاثر کریگا۔ حکومت نے مرکزی سکیموں اور منصوبوں کے لیے فنڈز میں بھی کٹوتی کی ہے جن میں ہنر کی ترویج و ترقی، روزگار، اقلیتوں کے لیے خصوصی پروگرام اور وزیراعظم وراثت وکاس اسکیم شامل ہیں۔2024-25میں ان کے لیے بجٹ 2,120.72 کروڑ تھا، جو کہ 2024-25میں گھٹا کر1,237.32 کروڑ کردیا گیا ہے۔ جبکہ2025-26 میں، پردھان منتری جن وکاس پروگرام کے لیے فنڈز میں ایک بڑا اضافہ کیا گیا ہے۔ 2024 میں اس کا بجٹ 910 کروڑ تھا اور اب یہ بڑھ کر 1,913.97 کروڑ ہو گیا ہے۔ اقلیتوں کی ترقی کینام پر علاقائی ترقی کے پروگراموں کے لیے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاسکے۔