امت مسلمہ آج سے بھی زیادہ شدید حالات سے نبر د آزما رہی ہے: قاسم رسول الیاس

علامہ سید سلیمان ندویؒ کے خطباتِ مدراس کی اشاعت کے 100 سال *ہمیں جینے کا حوصلہ رکھناہےاور بحث میں نہیں الجھناہے: ڈاکٹر سید فاروق*مسائل پرغورو فکر اور حل کی تلاش کا بہتروقت یہی ہے : مفتی رضی الاسلام ندوی * آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت میں تجدید فکرو نظر کی ایک صدی اور صورت حال کے موضوع پر قومی کانفرنس* ملک و ملت کے مسائل پرسنجیدہ غورو فکر*علما و دانشوران نے فکر انگیز مقالے پیش کیے نئی دہلی: اسلام اور پیغمبراسلامﷺ کے تعلق سےمعاندین اسلام جو شکوک و شبہات مسلمانوں یا غیر مسلموں کے دل ودماغ میں پیدا کر رہے ہیں،انہیں سنجیدگی، متانت اور تحقیق کے ساتھ دور کیاجانا چاہیے ۔اس خیال کااظہار اتوار کو یہاں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ایک قومی کانفرنس میں ملک کے معروف عالم دین ، محقق ، مصنف اور دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ کے استاد حدیث و فقہ مولانا عتیق احمد بستوی نے کیا۔وہ علامہ سید سلیمان ندویؒ کے خطباتِ مدراس کی اشاعت کے 100 سال مکمل ہونے پر”تجدیدِ فکر و نظر کی ایک صدی اور موجودہ صورتِ حال” کے عنوان سے کانفرنس کا کلیدی خطبہ پیش کر رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ علامہ سید سلیمان ندوی ؒ نے جس ماحول اور پس منظر میں اورجن مقاصد کے لئے خطبات مدراس پیش کئے تھے ، اس کے پیش نظر اس بات کی اہم ضرورت تھی اور ہے کہ اس طرح کے خطبات نہ صرف ایک بار اور ایک ہی بڑے شہر میں پیش کئے جاتے بلکہ ہر اہم اور بڑے شہروں میںہی نہیں متوسط شہروں اور قصبات میں بھی کم از کم سال بہ سال ایسے مؤثر اور فکر انگیر خطبات مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سامنے پیش کئے جاتے جبکہ کانفرنس کے مہمان خصوصی ،آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی سپریم گایڈنس کونسل کے سینئر رکن ڈاکٹر سید فاروق نے کہا کہ ہم کو محبت اور بھائی چارے سے جیناسیکھنا ہے۔ یہ بات خود رسول اللہ ﷺ نے سکھائی۔انہوں نے کہا کہ جب انسان کابچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ روتا ہے اور ہم نے بھی یہی سنا ہے کہ وہ روتا ہے لیکن یہ غلط ہے۔ بچہ روتا نہیں بلکہ وہ پکارتا ہےاور صرف انسان کا بچہ پکارتا ہے۔ جانور کابچہ خاموش پیدا ہوتا ہے۔ہمیں سمجھنا ہوگاکہ انسان کی فطرت میں اچھائی ہے، ایک دوسرے کی پکارہے۔ امن سے رہنا اور ایک دوسرے کی فکر کرناانسان کی فطرت ہے۔ ہمیں جینے کا حوصلہ رکھناہےاور بحث میں نہیں الجھناہے۔وہ کانفرنس افتتاحی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔اجلاس کے صدارتی خطبہ میںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان اور مشہور صحافی و دانشور ڈاکٹر سید قاسم رسول الیا س نےکہا کہ اس وقت کہا جا رہا ہے کہ ہم ایک بڑے شدیددور سے گزر رہے ہیں لیکن پچھلے صدی پر نگاہ ڈالیں تو ہم ا س سے بھی سخت حالات سے نبرد آزما رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ امت  اس طرح کے حالات سے اکثر و بیشتر گزرتی رہی ہے۔ اسلام کی دعوت کے مقابلے پر طرح طرح کے دعوتیں ابھرتی رہی ہیں ۔ضرورت حالات سے گھبرانے اورمایوس ہونے کی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے سنجیدگی اور صبرو استقامت سے حالات کا مقابلہ کیا تو اس کا حل بھی نکلے گا اور حالات بھی بہتر ہوں گے لیکن مشکل یہ ہے کہ جس قوم کو ہزارہاگروہوں میں بانٹ کر رکھا گیا تھا وہ متحد ہو رہی ہے اور ہم انتشار کا شکار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کام کا شعبہ صرف سیاست نہیں ہے، فیصلہ سازی میں آج سول سوسائٹی کازیادہ اہم اور مؤثررول ہے لیکن اس میں ہندوستانی مسلمانوں کا کوئی رول نہیں ہے ۔ ملک کی تعمیر نو کے لیے مسلمانوں کو آگے بڑھنا چاہیےجبکہ خطبہ افتتاحی کلمات پیش کرتے ہو ئے کانفرنس کے کنوینر اور مشاورت کے سینئر رکن پروفیسر اخترالواسع نے علامہ سید سلیمان ندوی کی عہدساز خدمات پر روشنی ڈالی اور خطبات مدارس کو ایک تاریخ ساز واقعہ بتایا۔ اس سے قبل مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ ملت کی ساری تنظیموں اور ہر مکتبہ فکر کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے ۔ اجلاس کا افتتاح مولانا محمد اظہر مدنی نے آیات قرآن پاک کی تلاوت اور ترجمے سے کیا۔اجلاس سےانسٹی ٹیو ٹ آف آبجیکٹیو اسٹیڈیز کے چیئرمین پروفیسر محمد افضل وانی اور مشاورت کے سینئر رکن مشہور اسلامی اسکالر اور سیاست داں پروفیسر بصیر احمد خاںنے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی کے صدر مفتی ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی نے عہد حاضر کے سنگین مسائل اور ان کا حل کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علامہ سید سلیمان ندوی ؒ کو یاد کیا جانا اور ان کی معرکہ آرا تصنیف خطبات مدراس کے 100 برس مکمل ہونے پر علمی مجلس کا انعقاد ایک بہت خوش آئند قدم ہے ۔انھوں نے عہد حاضر کے پانچ سنگین مسائل، پہلا مسئلہ الحاد اور انکار خد ا ، دوسرا اخلاقی بحران ،تیسر ا خاندانی نظام کا انتشاور ،چوتھا معاشی نا انصافی اور پانچواں سماجی فتنہ و فساد پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ خطبات مدراس کے 100 بر س مکمل ہونے پر ان مسائل پر غورو فکر کیے جانے سے زیادہ مناسب اور ضروری دوسری بات نہیں ہو سکتی ہے،جبکہ اپنے صدارتی خطاب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر شعبہ اسلامیات و ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹی پروفیسر اقتدار محمد خاں نے زور دیا کہ مسائل سے الجھنے کے بجائے ہمیں اپنی اصلاح اور مستقبل کی تعمیر و ترقی پر توجہ دینی چاہیے انھوں نے کہا کہ نئی نسل کو مایوسی اور انتشار فکرو نظر سے بچانے کی فکر کرنی ہوگی ۔ واضح رہے کہ افتتاحی اجلاس کے بعد کانفرنس کے تین اجلاس میں 15مقالے پیش کیے گئے ۔پہلے اجلاس کی صدارت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے صدر شعبہ سنی دینیات پروفیسر راشد اصلاحی   نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مولانا شمس تبریز قاسمی نے انجام دیے۔ مقالے پیش کرنے والوں میں ڈاکٹر جاوید جمیل ، مولانا شیخ محمد اظہر مدنی ،ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی (الہٰ آباد)،دوسرے اور تیسرے اجلاس کی صدارت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدرشعبہ اسلامیات و ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹی پروفیسر اقتدار محمد خاںنے کی ، اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر