قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان میں موجود تعطل پر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے اجلاس میں منظور شدہ قرار داد

تاریخ:21 ستمبر2024 قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان حکومت ہند وزارت تعلیم کا ایک خود مختار ادارہ ہے۔  جو اردو کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ قومی اردو کونسل کی جنرل باڈی  کو اس کی میعا د کے ختم  ہونے کے دو سال بعد بنائی ہے ۔وہ  بھی آدھی ادھوری بغیر وائس چیئرمین کے ۔ جنرل باڈی کے ساتھ ایگیزکیٹو بورڈ اور فائنانس کمیٹی بھی سرکار ہی بناتی ہے۔لیکن سرکار نے ابھی تک اس کی کمیٹی کو تشکیل نہیں کیا  ہے۔ جس سے  قومی اردو کونسل کا کام پوری طرح  سے متاثر ہورہا ہے۔ Full Coverage & Credits

Resolution on Jammu & Kashmir

Adopted at the National Meeting of All India Muslim Majlis-e-Mushawarat Date: 21st September, 2024 The All India Muslim Majlis-e-Mushawarat (AIMMM), the only confederation of   Muslim organizations and personalities of eminence in India, calls upon the Government of India to consider a progressive roadmap for Jammu and Kashmir following the upcoming elections. While we commend the government and the Election Commission that so far it has ensured free, fair and independent conduct elections and a level playing field has been ensured for all the parties, there is need to look a road map after the elections. There have been allegations of pre-poll manipulations that have ensured that a majority Muslim population will have lesser voice in the forthcoming Assembly. Such an impression needs to be addressed. Like the Delimitation Commission, granting more seats to Hindu minority population regions, and giving Lt. Governor power to nominate five more members, out of which three will be definitely Hindus, two Kashmiri Pandits and one refugees, who migrated from Pakistani territories in 1947. While it is commendable to allow more minority voices in the forthcoming assembly, it does not serve purpose to have a disproportionate representation. As per population of Jammu and Kashmir, where minority Hindu population comprises 28%, they should get their due share that is in 95-member assembly their share should be 29. But the way Delimitation Commission has favored Hindu majority regions and seats there have been increased from 24 to 31 and along with nominated members this number becomes disproportionate to their population. If this formula is to empower minority population, then it needs to be implemented all over India, so that minorities in other states are also politically empowered. Currently there are just 24 Muslim MPs, who should have been 74. And with the Kashmir formula implanted all over the country, their number could be around 200. Apart from this, we believe that a collaborative approach will pave the way for lasting peace, prosperity, and democratic integrity in Jammu and Kashmir. We recommend: 1.  Restoration of Statehood: Immediate Action: Reinstate Jammu and Kashmir’s status as a full-fledged state to honor the aspirations of its people. Rationale:  Statehood will empower local institutions and facilitate better governance aligned with the unique needs of the region. 2.     Empowerment of the Elected Government: Reduce Governor’s Powers:  Limit the administrative powers of the Governor to allow the elected government to function effectively. Strengthen Democracy: Ensuring that elected representatives have the authority to make decisions will reinforce democratic values. 3.     Reduction of Surveillance:  Scale Back Monitoring:  Reevaluate and reduce excessive surveillance measures imposed on the populace. Promote Trust: Alleviating the atmosphere of scrutiny will help rebuild trust between citizens and authorities. 4.     Restoration of Political Freedom: Release Detainees: Free political leaders and activists who have been detained without substantial charges. Encourage Dialogue:  Open political space is essential for healthy discourse and conflict resolution. 5.     Freedom of the Press:  Lift Media Restrictions: Remove limitations imposed on local and national media in the region. Ensure Transparency: A free press is vital for accountability and informed citizenry. 6.     Socio-Economic Development:  Invest in Infrastructure: Prioritize projects that generate employment and improve living standards. Inclusive Growth: Economic development should benefit all communities, fostering unity and progress. 1.     Community Engagement: Promote Civil Society Initiatives: Support organizations working towards social cohesion and peace-building. Educational Programs: Encourage educational exchanges and programs that bridge cultural and communal gaps. The AIMMM stand committed to the welfare of Jammu and Kashmir and believes that these steps are crucial for creating a harmonious and prosperous future. We urge the government to take these recommendations into serious consideration and work collaboratively with all stakeholders.  We envision a Jammu and Kashmir where: Communities live together in peace, mutual respect, and understanding. Every individual enjoys fundamental rights and freedoms. Democratic institutions function without undue interference. The media operates freely, contributing to transparency and accountability. The All India Muslim Majlis-e-Mushawarat is dedicated to promoting justice, democracy, and communal harmony throughout India. We believe in constructive dialogue and collaboration to address the challenges facing our nation. (Proposed by:  Mr. Iftikhar Gilani)

جموں و کشمیر پر قرارداد

آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت کے قومی اجلاس میں منظور کی گئی تاریخ:21 ستمبر2024 آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت,جو بھارت میں مسلم تنظیموں اور ممتاز شخصیات کا واحد وفاق ہے، حکومتِ ہند سے مطالبہ کرتی ہے کہ جموں و کشمیر کے لیے انتخابات کے بعد ایک ترقی پسند روڈ میپ بنایا جائے۔ ہم حکومت اور الیکشن کمیشن کی اس بات پر تعریف کرتے ہیں کہ انہوں نے آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا ہے، اور تمام جماعتوں کے لیے مساوی میدان فراہم کیا ہے۔ تاہم، انتخابات کے بعد کے روڈ میپ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ انتخابات سے پہلے کی بے ضابطگیاں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ اکثریتی مسلم آبادی کی آواز آئندہ اسمبلی میں کمزور ہوگی۔ اس تاثر کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر حد بندی کمیشن نے ہندو اقلیتی آبادی والے علاقوں کو زیادہ نشستیں دی ہیں اور لیفٹیننٹ گورنر کو مزید پانچ ارکان نامزد کرنے کا اختیار دیا ہے، جن میں سے تین یقینی طور پر ہندو ہوں گے، دو کشمیری پنڈت اور ایک  1947 میں پاکستان سے ہجرت کر کے آیا مہاجر۔اگرچہ اقلیتی آوازوں کو اسمبلی میں شامل کرنا قابلِ تحسین ہے لیکن غیر متناسب نمائندگی کا کوئی فائدہ نہیں۔ جموں و کشمیر کی آبادی کے مطابق، چونکہ اقلیتی ہندو آبادی 28% ہے، انہیں 95 رکنی اسمبلی میں 29 نشستیں ملنی چاہئیں۔ لیکن حد بندی کمیشن نے ہندو اکثریتی علاقوں کی نشستوں کو 24 سے بڑھا کر 31 کر دیا۔ نامزد ارکان کے ساتھ یہ تعداد ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ اگر یہ فارمولا اقلیتی آبادی کو بااختیار بنانے کے لیے ہے، تو اسے پورے بھارت میں نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ دیگر ریاستوں میں بھی اقلیتوں کو سیاسی طور پر مضبوط کیا جا سکے۔ اس وقت پارلیمنٹ میں صرف 24 مسلمان ایم پی ہیں، جبکہ ان کی تعداد 74 ہونی چاہیے اور اگر کشمیر کا فارمولا پورے ملک میں نافذ کیا جائے، تو یہ تعداد تقریباً 200 تک پہنچ سکتی ہے۔اس کے علاوہ، ہم سمجھتے ہیں کہ مشترکہ حکمت عملی جموں و کشمیر میں دیرپا امن، خوشحالی اور جمہوری استحکام کی راہ ہموار کرے گی۔ ہم درج ذیل سفارشات پیش کرتے ہیں: ریاستی حیثیت کی بحالی فوری کارروائی: جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت بحال کی جائے تاکہ عوام کی امنگوں کا احترام کیا جا سکے۔  کیونکہ: ریاستی حیثیت مقامی اداروں کو مضبوط کرے گی اور خطے کی منفرد ضروریات کے مطابق بہتر حکمرانی کو ممکن بنائے گی۔  منتخب حکومت کو بااختیار بنانا:  گورنر کے اختیارات کم کرنا: گورنر کے انتظامی اختیارات کو محدود کیا جائے تاکہ منتخب حکومت مؤثر طریقے سے کام کر سکے۔  جمہوریت کو مضبوط کرنا: منتخب نمائندوں کو فیصلے کرنے کا اختیار دینا جمہوری اقدار کو مضبوط کرے گا۔ نگرانی میں کمی:  مواصلات میں کمی: عوام پر عائد نگرانی کے سخت اقدامات پر نظرثانی کی جائے اور انہیں کم کیا جائے۔  اعتماد کو فروغ دینا: نگرانی کے ماحول میں نرمی سے شہریوں اور حکام کے درمیان اعتماد بحال ہوگا۔  سیاسی آزادی کی بحالی:  قیدیوں کی رہائی: ان سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کیا جائے جنہیں بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے حراست میں لیا گیا ہے۔  مذاکرات کی حوصلہ افزائی: صحت مند مباحثے اور تنازعات کے حل کے لیے کھلی سیاسی فضا کا ہونا ضروری ہے۔ پریس کی آزادی:    میڈیا پر پابندیوں خاتمہ: خطے میں مقامی اور قومی میڈیا پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔   شفافیت کو یقینی بنانا: آزاد میڈیا احتساب اور باخبر شہریت کے لیے ناگزیر ہے۔  سماجی و اقتصادی ترقی:   انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری: ان منصوبوں کو ترجیح دی جائے جو روزگار پیدا کریں اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنائیں۔   ہمہ گیر ترقی: اقتصادی ترقی کا فائدہ تمام کمیونٹیز کو ہونا چاہیے تاکہ اتحادواتفاق اور ترقی کو فروغ دیاجاسکے۔  کمیونٹی کی شمولیت:  سول سوسائٹی کی کوششوں کو فروغ دینا: ان تنظیموں کی حمایت کی جائے جو سماجی ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔  تعلیمی پروگرام: ایسے تعلیمی تبادلے اور پروگراموں کو فروغ دیا جائے جو ثقافتی اور سماجی تفریق کو کم کریں۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت جموں و کشمیر کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے اور سمجھتی ہے کہ یہ اقدامات ایک پرامن اور خوشحال مستقبل کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان سفارشات پر سنجیدگی سے غور کرے اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرے۔ ہم جموں و کشمیر کا ایک ایسا منظرنامہ دیکھتے ہیں جہاں:  ہر فرد کو بنیادی حقوق اور آزادی حاصل ہو۔  جمہوری ادارے بغیر کسی مداخلت کے کام کریں۔  میڈیا آزادی سے کام کرے اور شفافیت اور احتساب میں اپنا کردار ادا کرے۔  تمام کمیونٹیز امن، باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے ساتھ رہیں۔ آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت پورے بھارت میں انصاف، جمہوریت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تعمیری مکالمہ اور تعاون ہماری قوم کو درپیش چیلنجوں کا حل فراہم کر سکتے ہیں۔ (پیش کردہ: جناب افتخار گیلانی) Full Coverage & Credits