جمہوریت کے تحفظ کے لیے شفاف انتخابات اور آزاد میڈیا ناگزیر: مقررین

پریس کلب آف انڈیا میں ‘وائلنس فری انڈیا’ کے اجلاس کا انعقاد، دلت، پسماندہ اور اقلیتی فرقوں کے لیڈران کا ملک کی سیاسی و سماجی صورت حال پر اظہار تشویش نئی دہلی:18 اکتوبر(پریس ریلیز): دلت، پسماندہ اور اقلیتی برادریوں کی تنظیموں کے مشترکہ مہم ‘وائلنس فری انڈیا’ (تشدد سے پاک ہندوستان) مہم کے تحت ہفتے کی سہ پہر پریس کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں ’’ہندوستان میں آئینی جمہوریت کی موجودہ صورت حال اور الیکشن کمیشن آف انڈیا سے متعلق تنازعات‘‘ کے موضوع پر ایک اجلاس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں کثیر تعداد میں مختلف کمیونٹی کے لیڈران، صحافیوں، نوجوانوں اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی، پروگرام میں مقررین نے آئینی جمہوریت کے تحفظ، انتخابی عمل میں شفافیت، میڈیا کی آزادی، شہریوں کے بنیادی حقوق اور جمہوری اداروں کی خودمختاری پر زور دیا۔ پروگرام کو آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، آل انڈیا مومن کانفرنس، کیتھولک ایسوسی ایشن آف آرک ڈایوسیس دہلی، امبیڈکر ایجوکیشن ٹرسٹ، بہوجن ایکتا منچ،آموڈے وغیرہ نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے قومی صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمہوریت کو مضبوط اور صحت مند بنانے میں میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا، کا کردار انتہائی اہم ہے۔ میڈیا عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور مظلوموں کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے حراست میں لیے گئے افراد کے معاملات کو میڈیا میں نمایاں کیے جانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس سے ان کی رہائی کے لیے آواز اٹھانے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سمیت کمزور طبقات کو درپیش مسائل، مبینہ مظالم اور ہجومی تشدد کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پولیس کی کارروائیوں اور قانون کے یکساں نفاذ پر سوالات اٹھائے۔ جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لیے انتخابی عمل شفاف ہونا چاہیے اور قانون کی بالادستی یقینی بنائی جانی چاہیے۔صدر مشاورت فیروز احمد نے عدلیہ کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ غریب اور پسماندہ طبقات کی زمینی مشکلات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کے مکانات تباہ ہو جاتے ہیں اور ضروری دستاویزات ضائع ہو جاتی ہیں، ان کے لیے دوبارہ کاغذات فراہم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں متعلقہ حکام کو متاثرین کے حالات اور عملی دشواریوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔صحافی انیل چمڑیا نے اپنے خطاب میں انتخابی عمل کی شفافیت، عوام کے حق رائے دہی اور جمہوری اداروں پر اعتماد کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پورے ملک اور تمام شہریوں کی نمائندہ ہوتی ہے، اس لیے ہر طبقے کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے سیکولرازم، آزادی اظہار اور پرامن احتجاج کے حق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مزدوروں، طلبہ اور عام شہریوں کو اپنے مسائل اٹھانے کے لیے مناسب مواقع ملنے چاہئیں۔ انتخابی نظام کے حوالے سے انہوں نے بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کی حمایت کی اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال پر پائے جانے والے خدشات کا ذکر کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سمیت جمہوری اداروں کی خودمختاری اور ساکھ برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے راجندر پال گوتم نے اپنے خطاب میں الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے الیکشن کمیشن کام کر رہا ہے، وہ جمہوری اقدار اور اصولوں کے منافی ہے۔ جمہوریت میں الیکشن کمیشن کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے اور اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ غیر جانب دارانہ، شفاف اور منصفانہ انداز میں اپنے فرائض انجام دے۔ لیکن اگر الیکشن کمیشن کا طرزِ عمل غیر جمہوری نظر آئے تو اس سے جمہوری نظام اور عوام کے اعتماد پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ آئینی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری غیر جانب داری اور شفافیت کے ساتھ ادا کریں، تاکہ ملک کے جمہوری نظام اور انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔سپریم کورٹ کے وکیل بلراج ملک نے اپنے خطاب میں عدلیہ کے کردار، شہری آزادیوں اور انتخابی شفافیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں۔ انہوں نے وی وی پیٹ اور انتخابی عمل کے حوالے سے عوام میں پائے جانے والے خدشات کا ذکر کیا اور کہا کہ انتخابی نظام کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا شفاف اور قابل اعتماد جواب دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے آزادی اظہار کو درپیش چیلنجوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ڈاکٹر علیم نے اپنے خطاب میں آزاد صحافت اور قلم کی طاقت کو جمہوریت کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا عوام کی آواز ہے اور معاشرے کے مسائل کو سامنے لانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے اظہار رائے کی آزادی کو محدود کرنے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صحافت کی آزادی اور شہریوں کے اپنے خیالات بیان کرنے کے حق کا تحفظ ضروری ہے۔پروگرام میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوریت کا استحکام صرف انتخابات کے انعقاد سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے شفاف انتخابی عمل، آزاد صحافت، قانون کی بالادستی، شہری آزادیوں کا تحفظ اور اظہار رائے کی آزادی لازمی ہے، مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ، آزاد میڈیا کی حوصلہ افزائی ۔اور آئینی اداروں کی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے وہ ہر طرح کی قربانیاں دیں

ڈاکٹر ادریس قریشی دوسری مرتبہ بلا مقابلہ دہلی مسلم مجلس مشاورت کے صدر منتخب

پروفیسر اخترالواسع کا اتحاد و اتفاق پر زور، احمد جاوید نے مشاورت کے اغراض و مقاصد بیان کیے، ایس آئی آر کے خلاف احتجاج اور ملک کے موجودہ حالات پر بھی گفتگو نئی دہلی، 11 اکتوبر(پریس رییز):ڈاکٹر ادریس قریشی دوسری مرتبہ بلا مقابلہ دہلی ریاستی مسلم مجلس مشاورت کے صدر منتخب ہوگئے۔ اتوار کو آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے مرکزی دفتر میں آئندہ میقات” 2026ء تا 2028ء “کے لیے منعقدہ انتخابی اجلاس میں ان کے انتخاب کا اعلان کیا گیا۔ انتخابی کارروائی ریٹرننگ آفیسر عبدالرشید انصاری کی نگرانی میں مکمل ہوئی، جبکہ اجلاس کی صدارت آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے نائب صدر پروفیسر اخترالواسع نے کی۔ اجلاس کا آغاز ڈاکٹر محمد شیث تیمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔  انتخاب کی کارروائی صبح حسب پروگرام 10:30 بجے شروع ہوئی ۔ امیدواروں کے ناموں کی تجویز پیش کرنے کے لیے صبح 11 بجے سے 11:30 بجے تک کا وقت مقرر تھا۔ ارکان مشاورت کی جانب سے  ایک تجویز موصول ہوئی، تاہم تجویز میں صدارت کے لیے ڈاکٹر ادریس قریشی ہی کا نام پیش کیا گیا۔ انتخابی مراحل کی تکمیل کے بعد دوپہر 1:45 بجے ریٹرننگ آفیسر عبدالرشید انصاری نے ڈاکٹر ادریس قریشی کو بلا مقابلہ منتخب قرار دینے کا اعلان کیا، جس کا حاضرین نے خیرمقدم کیا۔ مشاورت کے دستور کے مطابق ریاستی صدر کا انتخاب دو سالہ میقات کے لیے ریاستی مجلس مشاورت کے ارکان کرتے ہیں، جبکہ صدر اپنی صوابدید سے مجلس عاملہ تشکیل دیتے ہیں، جس میں کم از کم 11 ارکان شامل ہوتے ہیں۔ اس موقع پر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے نائب صدر پروفیسر اخترالواسع، مرکزی مجلس عاملہ کے رکن ڈاکٹر محمد شیث تیمی، رکن مشاورت مولانا اظہر مدنی، جنرل سکریٹری احمد جاوید اور ارکان مشاورت نے نومنتخب صدر کو مبارک باد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر اخترالواسع نے ڈاکٹر ادریس قریشی کو دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلم مجلس مشاورت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں تنظیم کے تمام ارکان کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر اتحاد و اتفاق کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ ذاتی اختلافات اور باہمی تلخیوں کو درگزر کرکے اجتماعی مقاصد کو ترجیح دی جانی چاہیے، تاکہ مشاورت ملت کے مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کرسکے۔ انہوں نے ارکان پر زور دیا کہ وہ باہمی اعتماد، اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دیں اور تنظیم کے وسیع تر مقاصد کے لیے مشترکہ جدوجہد کو  تقویت پہنچائیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی میقات میں مشاورت کی دہلی یونٹ اپنی ذمہ داریوں کو مزید بہتر انداز میں ادا کرے گی۔ مرکزی مجلس عاملہ کے رکن ڈاکٹر محمد شیث تیمی نے اپنے خطاب میں تنظیمی امور میں مشاورت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تنظیم کو مضبوط اور فعال بنانے کے لیے تمام ارکان کی آرا اور تجاویز کو توجہ سے سننا اور ان پر غور کرنا ضروری ہے، تاہم ہر تجویز کو عملی طور پر نافذ کرنا لازمی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کے ذمہ داران مختلف معاملات، حالات اور ان کے عملی تقاضوں سے واقف ہوتے ہیں، اس لیے انہیں تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ ارکان کو اپنی رائے اور مشورے پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے،انہوں نے تنظیمی نظم و ضبط، باہمی تعاون اور ذمہ داران کے فیصلوں کے احترام کو بھی اہم قرار دیا۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے جنرل سکریٹری احمد جاوید نے اپنے خطاب میں تنظیم کے قیام، اغراض و مقاصد، تنظیمی ڈھانچے اور سرگرمیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے مشاورت کے کردار اور اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم ملت کے اجتماعی مسائل پر غور و فکر کرنے، مختلف ملی و سماجی تنظیموں کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کو فروغ دینے اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے اجتماعی کوششوں کو آگے بڑھانے کے مقصد سے کام کرتی ہے۔ انہوں نے ارکان پر زور دیا کہ وہ تنظیم کو مزید فعال اور مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اور باہمی تعاون کے ساتھ اس کے مقاصد کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔ دہلی مسلم مجلس مشاورت کے رکن صنوبر علی قریشی(ایڈو کیٹ سپریم کورٹ) نے اپنے خطاب میں ملک کے موجودہ حالات اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف جاری احتجاج کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتِ حال پر سنجیدگی سے غور کرنے اور عوامی مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ، اتحاد و ہم آہنگی کے فروغ اور جمہوری اقدار کے احترام پر زور دیا۔ دہلی ریاستی مسلم مجلس مشاورت کے نومنتخب صدر ڈاکٹر ادریس قریشی نے اپنے خطاب میں تمام ارکان مشاورت اور آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دوسری مرتبہ اعتماد کا اظہار کیے جانے پر سب کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ دہلی مسلم مجلس مشاورت کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں گے۔ اس موقع پر ڈاکٹر اقبا ل احمد ، ڈاکٹر ریحانہ، سلطان احمد، اشرف علی بستوی، محمد معین الحق خان، محمد فیض الرحمان، محمد معین الدین حبیبی، عابد علی انصاری (سی اے)،ایڈو کیٹ مسرور الحسن صدیقی، محمد الیاس ، مولانا نثار احمد نقشبندی، منصور احمد ، ظہیر الحسن ،محمد خالد، محمد اختر سیفی، انجینئر ایم حفیظ نوشاد، عزیز الرحمن راہی، اے سہیل ، محمد آصف انصاری، قمر  رئیس  ، اطہر ابراہیم خان، فیرو زاحمد صدیقی، سید عشر ت علی ،  شیخ محمد یامین قریشی، زین العابدین ہاشمی ، عبد الجبار، شیر محمد ، تحسین احمد ، محمد ادریس قریشی ، ایم ۔ اطہر الدین عرف منے بھارتی ، محمد اسلم ، بد را ٓفاق ، مہتاب عالم، محمد عرفان اور عبد المعین  وغیرہم شامل تھے۔

*آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس*

*ملک و ملت کو درپیش مسائل پر آل انڈیا کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ* نئی دہلی، 26 جولائی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس اتوار، 26 جولائی 2026ء کو مشاورت کے مرکزی دفتر، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی میں صدر مشاورت جناب فیروز احمد ایڈوکیٹ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز مولانا ڈاکٹر شیث محمد ادریس تیمی کی تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا۔ صدر مشاورت نے افتتاحی خطاب میں ملک کی موجودہ صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی، اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویوں، ماورائے قانون انہدامی کارروائیوں، مسلمانوں کے مکانات و عبادت گاہوں پر بلڈوزر کارروائی، نوجوانوں کو مبینہ جھوٹے مقدمات میں پھنسانے اور پرامن مظاہرین پر پولیس و نیم فوجی دستوں کےذریعے طاقت کے استعمال کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ظلم و ناانصافی کے خلاف تمام انصاف پسند قوتوں کے درمیان اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جنرل سکریٹری جناب احمد جاوید نے ستمبر 2025ء سے جولائی 2026ء تک کی تنظیمی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں رپورٹ میں اجتماعی قیادت کو مضبوط کرنے ، کمیونٹی کی قیادتوں کو انتشار، اضمحلال اور لاتعلقی سے نکالنے اور مشاورت کی ساکھ کو طالع عناصرکی استحصالی ذہنیت سے بچانے پر زور دیتے ہوئے قیادت کے قرآنی ماڈل کو اپنانے اور آگے بڑھانے میں حائل مشکلات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی بحث کے بعد مجلس عاملہ نے متعدد قراردادیں منظور کیں۔ ایک قرارداد میں نیٹ اور دیگر امتحانات میں مبینہ پیپر لیک کے واقعات پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات، تعلیم کی تجارت کو روکنے اور بدعنوان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی قرارداد میں دہلی سمیت مختلف مقامات پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی، طاقت کے استعمال اور پیلٹ گن چلانے کی مذمت کرتے ہوئے ان واقعات کی اعلیٰ سطحی عدالتی جانچ کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ دوسری قرارداد میں ملک کے مختلف حصوں میں مبینہ اہدافی انہدامی کارروائیوں، اقلیتی اداروں کو نشانہ بنانے اور مسلم نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کے رجحان پر تشویش ظاہر کی گئی، جبکہ رامپور کی مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو عمارتوں کے انہدام کانوٹس واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ یہ انتقامی کارروائی ہے جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ ایک اور قرارداد میں گجرات اسٹیٹ انٹیلی جنس بیورو (ایس آئی بی) کی اس مبینہ سفارش کی مذمت کی گئی جس میں اپنے مذہب پر پابندی کے ساتھ زندگی گزارنے والے مسلمانوں کی نگرانی اور ان کے مذہبی اعمال کو انتہاپسندی کی علامت قرار دینے کی بات کہی گئی ہے۔ اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسی کسی بھی سوچ یا طرز عمل کی بیخ کنی کی جائے۔ مجلس عاملہ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ کی پالیسیوں پر تنقید کی اور کہا کہ بھارتی مسلم برادری دنیا بھر کے مظلوم عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔  مشاورت کی مجلس عاملہ نے تنظیمی امور پر بھی اہم فیصلے لیے۔ اجلاس نے مشاورت کے بعض ارکان سے مختلف فیہ امور پربات کرنے کے لیےپانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی جس کے کنوینر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مقرر کیے گئےجبکہ اعجاز مقبول ایڈوکیٹ، انجینئر سکندر حیات، پروفیسر اختر الواسع اور پروفیسر بصیر احمد خاں اس کے ارکان ہوں گے۔مجلس عاملہ نے یہ بھی طے کیا کہ مرکزی دفتر وقتاً فوقتاً ریاستی مشاورتوں کو اہم قومی و ملی مسائل پر رہنمائی فراہم کرے گا تاکہ تمام ریاستی یونٹس یکساں موقف اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ سرگرم عمل رہیں۔ اجلاس کے اہم فیصلوں میں یہ اعلان بھی شامل تھا کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اکتوبر کے اواخر یا نومبر کے پہلے عشرے میں ملک اور ملت کو درپیش اہم مسائل پر ایک آل انڈیا کانفرنس منعقد کرے گی، جس میں مختلف مکاتبِ فکر، سماجی تنظیموں اور ماہرین کو مدعو کیا جائے گا۔اجلاس کا اختتام مشاورت کے نائب صدر اور مرکزی جمعیۃ اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی دعا پر ہوا۔ میٹنگ میں نوید حامد (سابق صدر، مجلسِ مشاورت)، انجینئر سکندر حیات، شیخ منظور احمد، ایڈووکیٹ اعجاز مقبول احمد، ابرار احمد، آئی آر ایس (ریٹائرڈ)، منصور آغا، ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی، ڈاکٹر ادریس قریشی (صدر، دہلی مسلم مجلسِ مشاورت)، خواجہ جاوید یوسف (ورکنگ صدر، مغربی بنگال مسلم مجلسِ مشاورت)، محمد احمد مومن (سیکریٹری جنرل، مہاراشٹر مسلم مجلسِ مشاورت) اور آصف انصاری وغیرہم موجود تھے۔

असम के प्रमुख रहनुमाओं और संगठनों के साथ मुस्लिम मजलिस ए मुशावरत की मुलाक़ात

प्रेस विज्ञप्ति गुवाहाटी में बैठक , प्रतिभागियों ने राजनीतिक और सामाजिक मुद्दों पर चर्चा की, एकता के लिए काम करने की प्रतिबद्धता दोहराई, चुनावों में ईवीएम के उपयोग और असम में मुसलमानों पर सरकारी अत्याचार और पीड़ितों के पुनर्वास के मुद्दे पर भी चर्चा की गई गुवाहाटी 23 अक्टूबर 2023: ऑल इंडिया मुस्लिम मजलिस ए मुशावरत के एक प्रतिनिधिमंडल ने अध्यक्ष फिरोज अहमद एडवोकेट के निर्देश पर असम का दौरा किया और राज्य के प्रमुख नेताओं और संगठनों से मुलाकात की। शनिवार को गुवाहाटी में हुई बैठक में मुशावरत के केंद्रीय प्रतिनिधियों ने राज्य के शीर्ष नेताओं के साथ राजनीतिक और सामाजिक मुद्दों पर चर्चा की। प्रतिभागियों ने समाज में एकता और सद्भाव को बढ़ावा देने की दिशा में काम करने की अपनी प्रतिबद्धता दोहराई। उन्होंने ई वी एम के द्वारा चुनाव में कथित धांधली पर चिंता व्यक्त की और असम के मुसलमानों पर हो रहे सरकारी अत्याचार और पीड़ितों के पुनर्वास पर भी विचार किया गया। देश एवं राष्ट्र की सामाजिक, राजनीतिक एवं आर्थिक समस्याएँ, विशेषकर अल्पसंख्यकों के प्रति पक्षपातपूर्ण व्यवहार तथा उत्तेजक एवं तिरस्कारपूर्ण व्यवहार इस यात्रा का मुख्य विषय था। मुशावरत के महासचिव और प्रतिनिधिमंडल के प्रमुख श्री सैयद तहसीन अहमद ने इस अवसर पर कहा कि कुछ विभाजनकारी ताकतों की प्रवृत्ति देश में अराजकता पैदा करने की है, उनकी योजना को विफल करने के लिए लोगों को एकजुट होना जरूरी है। उन्होंने कहा कि इस उद्देश्य को प्राप्त करने के लिए, परिषद ने सामाजिक संगठनों और कई समूहों के सहयोग से देश में शांति और सद्भाव को बढ़ावा देने के लिए “हिंसा मुक्त भारत” अभियान शुरू किया है। जबकि मुशावरत के युवा विंग के सचिव श्री शम्सुजजुहा ने कहा कि ऑल इंडिया मुस्लिम मजलिस ए मुशावरत बहुत जल्द असम और उसके जिलों में मुशावरत को मुनज़्ज़म करेगी। इस प्रश्न पर भी विचार किया गया कि मुसलमानों को अन्य अल्पसंख्यकों, जिनकी कुल संख्या 20% से अधिक है, के साथ मिलकर काम करना चाहिए जबकि एक अन्य राय यह थी कि इस समय देश के कुछ राज्यों में ‘कास्ट सर्वे ‘ किए जा रहे हैं और चूँकि मुसलमान भी भारतीय मूल के लोग हैं। इसलिए हम देश की 80% आबादी का हिस्सा हैं, वहीं बैठक में शामिल कई प्रतिभागियों ने मुस्लिम समुदाय में वर्गों और संप्रदायों के अंतर को लेकर चिंता व्यक्त की और समुदाय के भीतर समीक्षा करने और काम करने का सुझाव दिया۔ हाज़िरीन की राय थी कि जिस तरह दुनिया के विकसित देशों में बिना ईवीएम के चुनाव होते हैं, उसी तरह भारत में भी पारदर्शी और निष्पक्ष चुनाव सुनिश्चित करने के लिए बिना ईवीएम के चुनाव होने चाहिए और मुशावरत से इस मांग को आगे बढ़ाया जाना चाहिए। स्थानीय रहनुमाओं ने मुशावरत के केंद्रीय प्रतिनिधियों का ध्यान असम के उन मुसलमानों की ओर आकर्षित किया जो पीढ़ियों से सरकारी भूमि पर रह रहे हैं और वर्तमान भाजपा सरकार द्वारा विस्थापित किए जा रहे हैं, जबकि मुशावरत ने इस मुद्दे पर स्थानीय संगठनों और रहनुमाओं के साथ सहयोग करने का आश्वासन दिया। इस बैठक में प्रमुख राजनीतिक रहनुमा और पूर्व सांसद श्री सैयद अजीज पाशा उपस्थित थे। इस बैठक में जमीयत उलेम ए हिंद, जमीयत अहले हदीस असम, अल्पसंख्यक शगरून परिषद, चार्च पुरी सत्य परिषद, असम सिविल सोसाइटी और जस्टिस फोरम असम जैसे प्रमुख सामाजिक संगठनों के प्रतिनिधियों ने भाग लिया। इन संगठनों के प्रतिनिधियों के अलावा, कुछ जिलों के प्रमुख नेताओं, बुद्धिजीवियों और पूर्व नौकरशाहों आदि ने भी भाग लिया, जिनमें प्रोफेसर अब्दुल मनान (पूर्व प्रोफेसर, गुवाहाटी विश्वविद्यालय), मुहम्मद अलाउद्दीन आईएएस (सेवानिवृत्त), श्री अज़ीज़ुल रहमान (पूर्व प्रिंसिपल एवं पूर्व अध्यक्ष ऑल आसाम मुस्लिम स्टूडेंट्स यूनियन) और श्री लश्कर अली के प्रिय नाम उल्लेखनीय हैं। बैठक का संचालन श्री अब्दुल बातिन खान (विधायक) ने किया। द्वारा जारी शहाबुद्दीन आफिस सेक्रेट

آسام کے سرکردہ رہنماؤں اور تنظیموں سے مسلم مجلس مشاورت کی ملاقاتگوہاٹی میں میٹنگ

تاریخ:23اکتوبر،2023(پریس ریلیز)آسام کے سرکردہ رہنماؤں اور تنظیموں سے مسلم مجلس مشاورت کی ملاقاتگوہاٹی میں میٹنگ، شرکا نے سیاسی و سماجی امور پر غوروفکر، اتحاد کے لیے کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، الیکشن میں ای وی ایم کے استعمال اور آسام کے مسلمانوں کو درپیش سرکاری مظالم اور متاثرین کی بازآبادکاری کا مسئلہ بھی زیرغورآیا گوہاٹی /نئی دہلی:آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ایک وفد نے صدرمشاورت فیروزاحمد ایڈوکیٹ کی ہدایت پرآسام کا دورہ کیا اور ریاست کے سرکردہ رہنماؤں اور تنظیموں سے ملاقات کی۔ مشاورت کے مرکزی نمائندوں نے گوہاٹی میں ہفتے کو منعقدہ ایک میٹنگ میں ریاست کے سرکردہ رہنماؤں سے سیاسی و سماجی امور پرتبادلہ خیال کیا، شرکا نے سماج میں اتحادو اتفاق کے فروغ کے لیے کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، ای وی ایم کے ذریعے الیکشن میں کی جانے والی مبینہ دھاندلیوں پرتحفظات و تشویش کا اظہارکیا اور آسام کے مسلمانوں کو درپیش سرکاری مظالم اور متاثرین کی بازآبادکاری کا مسئلہ بھی زیر غور آیا۔ ملک و ملت کے سماجی، سیاسی اور اقتصادی مسائل خصوصاً اقلیتوں کے ساتھ متعصبانہ برتاؤ اور اشتعال انگیزوتحقیرآمیز سلوک اس دورے کا مرکزی موضوع تھا۔مشاورت کے سکریٹری جنرل اور وفد کے سربراہ جناب سید تحسین احمد نے اس موقع پرکہا کہ کچھ تفرقہ باز طاقتیں ملک میں انتشار پیدا کرنے کا رجحان رکھتی ہیں، ان کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے لوگوں کو متحد کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے سماجی تنظیموں اور کئی گروپوں کے تعاون سے مشاورت نے ”تشدد سے پاک ہندوستان” مہم شروع کی ہے تا کہ ملک میں امن اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جاسکے جبکہ مشاورت کی یوتھ ونگ کے سکریٹری جناب شمس الضحیٰ نے بتایا کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت بہت جلد آسام اور اس کے اضلاع میں مشاورت کو منظم کریگی۔ یہ سوال بھی زیر غور آیا کہ مسلمانوں کو دیگر اقلیتوں کے ساتھ مل کرکام کرنا چاہیے جن کی مجموعی تعداد20 فیصد سے اوپر ہوتی ہے جبکہ ایک دوسری رائے یہ تھی کہ اس وقت ملک کی بعض ریاستوں میں کاسٹ سروے کیے جارہے ہیں اور چونکہ مسلمان بھی ہندوستانی نسلوں کے لوگ ہیں اس لیے ہم ملک کی 80 فیصد آبادی کا حصہ ہیں جبکہ کئی شرکائے میٹینگ نے مسلم کمیونٹی میں افتراق طبقات ومسالک پر اظہار تشویش کیا اور اندرون کمیونٹی جائزہ لینے اور کام کرنے کا مشورہ پیش کیا۔ حاضرین کی رائے تھی کہ جس طرح دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بغیرای وی ایم کے الیکشن ہوتے ہیں، ہندوستان میں شفاف و غیرجانبدانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے بغیرای وی ایم کے الیکشن ہونا چاہیے اور مشاورت کو چاہیے کہ اس مطالبہ کو آگے بڑھائے۔ مقامی رہنماؤں نے مشاورت کے مرکزی نمائندوں کی توجہ آسام کے ان مسلمانوں کی طرف مبذول کرائی جو نسلوں سے سرکاری زمینوں پر آباد ہیں اور ان کو بی جے پی کی موجودہ حکومت بے گھرکررہی ہے جبکہ مشاورت نے مقامی تنظیموں اور رہنماوں کے ساتھ اس مسئلے میں تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس میٹنگ میں سرکردہ سیاسی رہنما اور سابق ایم پی جناب سید عزیز پاشا موجود تھے۔ جمعیۃ علماء ہند، جمعیت اہل حدیث آسام، مائنارٹی شاگرون پریشد، چارچپوری ستیہ پریشد، آسام سول سوسائٹی اورجسٹس فورم آسام جیسی سرکردہ سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے اس میٹنگ میں حصہ لیا۔ ان تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ کچھ اضلاع کے سرکردہ رہنماؤں، دانشوروں اورسبکدوش بیوروکریٹس وغیرہ بھی شریک تھے جن میں پروفیسرعبدالمنان (سبکدوش پروفیسر،گوہاٹی یونیورسٹی)، محمد علاوالدین آئی اے ایس (ریٹائرڈ)، جناب عزیزالرحمن(سابق پرنسپل و سابق صدرآل آسام مسلم اسٹوڈینٹس یونین) اور جناب لشکرعلی کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔ میٹنگ کی نظامت جناب عبدالباطن خان (ایم ایل اے) کررہے تھے۔جاری کردہشہاب الدینآفس سکریٹری، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت

فلسطین و اسرائیل میں غیرمعمولی تشدد پر تشویش

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی عالمی برادری سے مثبت کردار ادا کرنے کی اپیل نئی دہلی : آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نےمغربی کنارے میں اسرائیل کی اشتعال انگیز کارروائیوں اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی وجہ سے اسرائیلی افواج اور فلسطینی عوام کے درمیان تشدد میں غیرمعمولی اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں سے تشدد نہ کرنے، عام شہریوں کی حفاظت کرنے اور حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کا مطالبہ کیا۔ ٓآل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (AIMMM) بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کو اراضی پر قبضے کی غیر منصفانہ پالیسی پرعمل کرنے اور مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی توسیع سے روکنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرے تاکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور امن کی عرب پیشرفت کے مطابق دو ریاستی حل کو یقینی بنایا جا سکے۔

The AIMMM appeals to the international community to play a positive role in preventing Israel from implementing the unjust policies of land grab

New Delhi: Deeply concerned over the escalation of violence between the Israeli forces and the Palestinian people due to the Israeli provocative actions in the West Bank and sacrilege of the Holy Al-Aqsa Mosque, the All India Muslim Majlis-e-Mushawarat calls upon all the parties concerned to eschew violence, protect civilians, and prevent further deterioration of the situation. The AIMMM appeals to the international community to play a positive role in preventing Israel from implementing the unjust policies of land grab and expanding settlements in the occupied territories of the West Bank to ensure a two-state solution as per the United Nations resolutions and the Arab Peace Initiative. Released by Shahabuddin Office Secretary (AIMMM)