پیغمبر اسلام ؐ کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت:مشاورت – Copy

روزنامہ قومی بھارت، دہلی بتاریخ:06 اکتوبر،2024
डॉ. इदरीस कुरैशी दिल्ली राज्य मुस्लिम मजलिस ए मुशावरत के अध्यक्ष नियुक्त – Copy

निर्विरोध चुनाव में सदस्यों ने बड़ी संख्या में भाग लिया, नए चुने हुए अध्यक्ष का गर्मजोशी से स्वागत नई दिल्ली: तयशुदा कार्यक्रम के अनुसार, रविवार को, ऑल इंडिया मुस्लिम मजलिस ए मुशावरत दिल्ली राज्य के अध्यक्ष का चुनाव सम्पन्न हुआ। चुनाव की कार्यवाही केंद्रीय कार्यालय में सुबह 10 बजे शुरू हुई, उम्मीदवारों के नाम दोपहर 3 बजे तक सुझाए गए, मुशावरत के सदस्यों द्वारा तीन सुझाव दिए गए थे, लेकिन तीनों में अध्यक्ष पद के लिए एक ही नाम प्रस्तुत किया गया था। वर्तमान दिल्ली के अध्यक्ष सैयद मंसूर आगा ने अगले दो वर्षों के लिए डॉ इदरीस कुरैशी के पक्ष में एलान किया और सदस्यों ने उनका गर्मजोशी से समर्थन किया। जिसके बाद, निर्वाचन अधिकारी अब्दुल राशिद अंसारी और ऑब्जर्वर मोहम्मद आकिफ ने परिणामों की घोषणा की।गौरतलब है कि मुशावरत के नियम व क़ायदे के अनुसार, डॉ. इदरीस कुरैशी एक गवर्निंग कॉउंसिल का गठन करेंगे, जिसमे कम से कम 11 सदस्य शामिल होंगे, डॉ. इदरिस कुरैशी को दो वर्ष के लिए दिल्ली राज्य मुस्लिम मुशावरत का अध्यक्ष चुना गया है।मुशावरत के राष्ट्रीय अध्यक्ष एडवोकेट फिरोज़ अहमद, दिल्ली मुशावरत के पूर्व अध्यक्ष सैयद मंसूर आगा, रिटर्निंग ऑफिसर अब्दुल रशीद अंसारी, पर्यवेक्षक मोहम्मद आकिफ, डॉ. तसलीम रहनी, दिल्ली के पूर्व अल्पसंख्यक आयोग के अध्यक्ष ज़किर खान और मुशावरत के सभी सदस्यों ने बधाई दी।इस अवसर पर, मुशावरत के राष्ट्रीय अध्यक्ष एडवोकेट फिरोज़ अहमद ने डॉ. इदरीस कुरैशी को बधाई दी और कहा कि दिल्ली राज्य मुशावरत को और अधिक सक्रिय बनाने के लिए हर संभव तरीके से सहयोग करेगी। इसके साथ ही महाराष्ट्र, बिहार, पश्चिम बंगाल, झारखंड और दिल्ली इकाई और अब तमिलनाडु और केरल में एक मुशावरत इकाई स्थापित करने के लिए प्रयास चल रहे हैं। पुराने और नए सदस्यों को जोड़ने में सैयद मंसूर आगा द्वारा सहयोग किया गया।दिल्ली राज्य मुशावरत के पूर्व अध्यक्ष सैयद मंसूर आगा ने कहा कि डॉ. इदरीस कुरैशी को हमारा हमेशा पूरा समर्थन व सहयोग मिलेगा, जबकि केंद्रीय मुशावरत के वरिष्ठ सदस्य डॉ. तसलीम अहमद रहमानी ने अपने संबोधन में कहा कि आज के हालात में मुशावरत को मजबूत करना बेहद ज़रूरी है।इस चुनाव प्रक्रिया में केंद्रीय मुशावरत के अलावा विभिन्न संगठनों के प्रतिनिधियों ने भी भाग लिया। जिसमे मरकज़ी जमीयत अहले हदीस, इंडियन यूनियन मुस्लिम लीग, ऑल इंडिया एजुकेशनल मूवमेंट, ऑल इंडिया जमीयतुल क़ुरैश, ऑल इंडिया मोमिन कॉन्फ्रेंस, मूवमेंट फ़ॉर एम्पावर्मेंट ऑफ मुस्लिम इंडियनस, ऑल इंडिया मुस्लिम ओबीसी आर्गेनाईजेशन, क़ुरैश कॉन्फ्रेंस(रजि), एएमयू ओल्ड बॉयज एसोसिएशन-केंद्रीय व दिल्ली यूनिट, ऑल इंडिया मुस्लिम बैकवर्ड क्लासेज फेडरेशन, ऑल इंडिया मुस्लिम एजुकेशनल सोसायटी, यूनाइटेड वेलफेयर एसोसिएशन, कारवां फाउंडेशन, वॉलंटियर्स ऑफ चेंज, ओखला प्रेस क्लब (रजि.) और अन्य संगठन भी शामिल रहे।इस अवसर पर, मुशावरत के सदस्य डॉ. मुहम्मद शीश तैमी, डॉ. मुहम्मद फेयाज़, डॉ. जावेद आलम खान, अहमद जावेद, एडवोकेट रईस अहमद, मोहम्मद रईसुल आज़म, मोहम्मद मोइनुद्दीन, डॉ. नबील सिद्दीकी, मोहम्मद इलियास सैफी, मौलाना निसार अहमद हुसैनी-अध्यक्ष इंडियन यूनियन मुस्लिम लीग-दिल्ली स्टेट, आसिफ अंसारी-राष्ट्रीय अध्यक्ष यूथ इंडियन यूनियन मुस्लिम लीग, ज़ीशान खलीक, इमलाक अहमद, शेख यामीन कुरैशी, रईस आज़म खान, अज़ीज़ुर -रहमान राही, मेहताब आलम, डॉ. सैयद मुहम्मद फैसल, मोहम्मद मोईनुद्दीन हबीबी, मोहम्मद फैज़ान रहमान, मोहम्मद मोइनुल हक खान, अब्दुल जब्बार, मोइन कुरैशी, रईस अहमद, अधिवक्ता मोहम्मद तेयब खान, असलम अहमद (अधिवक्ता सुप्रीम कोर्ट), बद्र आफाक़, डॉ. अतहर इलाही खान, शेर मोहम्मद, मसरूर हसन सिद्दीकी अधिवक्ता, सैयद रोमान हाशमी, डॉ. एम. अथरुद्दीन (मुन्ने भारती), अजमेरी सोहेल, मलिक तहसीन अहमद, मोहम्मद इरफान, सनोबार अली एडवोकेट, अब्दुल रहमान , मोहम्मद आतिफ, सैयद इशरत अली, मोहम्मद खालिद, मुदस्सर हयात और कबीर खान इत्यादि मौजूद थे।
پیغمبر اسلام ؐ کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت:مشاورت – Copy

روزنامہ راشٹریہ سہارا، دہلی بتاریخ:06 اکتوبر،2024
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے اجلاس میں ملک و ملت کو درپیش مسائل پر غوروفکر – Copy

مسلم تنظیموں کے نمائندوں،ممتازرہنماؤں اوردانشوروں کاملک کی سیاسی و سماجی صورتحال پر اظہار تشویش، اقلیتوں اور مظلوموں کے اتحاد پر زور، انصاف کے لیے مل کر لڑنے کاعزم ہجومی تشدد، بلڈوزر راج،نفرت و عداوت کی سیاست، اقلیت مخالف معاشی پالیسی ،سی بی ایس ای کی اردودشمنی، انتخابی حلقوں کی حدبندی،دہلی کے متاثرین فسادات کے لیے انصاف، بےگناہ قیدیوں کی رہائی،مظلومین آسام کی دادرسی اوروقف ترمیمی بل سمیت اہم امور پر 20 سے زائد قراردادیں منظور، پڑوسی ممالک اور فلسطین کے حالات و واقعات اورہندوستان پران کےاثرات بھی زیر بحث آئے نئی دہلی: ملک کی مؤقر مسلم تنظیموں اورممتازاشخاص کے وفاق “آل انڈیامسلم مجلس مشاورت” کا سالانہ اجلاس ہفتے کو نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ مہاراشٹر، جھارکھنڈ، کرناٹک، مغربی بنگال، تلنگانہ، دہلی، اتر پردیش، ہریانہ اور بہار کے نمائندوں کی ایک اچھی تعداد نے اس میٹنگ میں شرکت کی اور ملک وملت کو درپیش مسائل پرغوروفکرمیں حصہ لیا۔مسلم تنظیموں کے نمائندوں، ممتاز قائدین ، ارکان پارلیمنٹ ، دانشوران،علمائے دین اور اصحاب رائے نے اس موقع پر ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ، اقلیتوں اور دیگرکمزور طبقات کے اتحاد پر زور دیا اور انصاف کے لیے مل کر جدوجہد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ہجومی تشدد، نفرت کی سیاست، حکومت کی اقلیت مخالف اقتصادی پالیسی ، سی بی ایس ای کے اردو مخالف فیصلے، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی حالت، انتخابی حلقوں کی حد بندی، وقف ترمیمی بل، ذات برادری کی مردم شماری، بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں بلڈوزر راج، آسام اور یوپی کی تشویشناک صورت حال ،شمال مشرقی دہلی( 2020 ) کےمتاثرین فسادات کے لیے انصاف اوربےگناہ قیدیوں کی رہائی جیسے سلگتے مسائل پر تقریباً 20 قراردادیں منظور کی گئیں۔ اجلاس میں پڑوسی ممالک کی صورتحال ، فلسطین کے لوگوںپراسرائیلی مظالم اور دنیا پر اس کے اثرات بھی زیربحث آئے اوران پرقراردادیںمنظور کی گئیں۔شرکائے اجلاس کی پختہ رائے تھی کہ مسلمانوں کے خلاف حکومت کے دشمنانہ رویے، اقلیتوں اور دلتوں کے خلاف ریاستی ایجنسیوں کے استعمال اور نفرت کی سیاست کا متحد ہوکر مقابلہ کرنا ہے۔ صدرمشاورت فیروز احمد ایڈوکیٹ نے اپنے صدارتی کلمات میںبھی اس عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہاکہ ہم مسلمانوں کوبانٹنے کے لیے “پسماندہ غیرپسماندہ کارڈ” کھیلنےکی اجازت ہرگزکسی کونہیں دیںگے۔ انہوں نےکہا کہ مشاورت اپنی صوبائی یونٹوں کو مضبوط کرےگی اور کم ازکم 20 ریاستوں میں مشاورت کواسی سال فعال کیاجائےگا جبکہ مشاورت کے رکن اور سابق رکن پارلیمنٹ شاہد صدیقی نے اس موقع پرمشاورت کے ماضی کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشاورت ایک بااثر تاریخی تنظیم رہی ہے جس کی ساکھ کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں ارکان مشاورت پرزور دیا کہ آپ اس کی کریڈبلیٹی کو رسٹور کریں ،نہ توافراد کی کمی ہوگی نہ وسائل کی کمی رہےگی ۔انہوں نے کہا کہ مسلم ممبران اسمبلی و پارلیمنٹ کے درمیان آپسی روابط بڑھانےکی ضرورت ہے، مشاورت اس پر کام کرے کہ مسلم ممبران پارلیمنٹ و اسمبلی کم ازکم اسمبلی و پارلیمنٹ کے ہر اجلاس سے پہلے میٹنگ کیاکریں۔مشاورت نےان کی اس تجویزپررکن پارلیمنٹ جناب ای ٹی محمد بشیر ، سابق ممبران پارلیمنٹ جناب شاہد صدیقی، جناب عزیز پاشا، جناب کنور دانش علی ،جناب م افضل اورمشاورت کے سابق صدر جناب نوید حامد پرمشتمل پارلیمانی امورکی ذیلی کمیٹی تشکیل دی۔ اسی طرح مشاورت کے رکن اوراتر پردیش کے معروف سیاسی و سماجی رہنما اخترحسین اختر نے کہا کہ مشاورت کو اوقاف اور دوسرے اہم امور پر مسلمانوں کے لیے گائڈ لائن جاری کرنا چاہیےاور اس کام کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جائےجبکہ مشاورت کے نائب صدر نوید حامد نے کہا کہ ملک بھر سےسیکڑوں میل کا سفر کرکے ارکان و مندوبین کا اس اجلاس میں شریک ہونا ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ ملت کے مسائل میں کتنے سنجیدہ ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مشاورت کواب بھی ملک و بیرون ملک،سیاسی و سماجی حلقوں میں سنجیدگی سے لیاجاتاہے۔اس سے قبل مشاورت کے جنرل سکریٹری (میڈیا) احمدجاویدنے مشاورت کی گذشتہ کارروائیوں کی رپورٹ پیش کی ۔ رپورٹ میں ان صحافیوں کے لیے قانونی امدادکا نظم جو سچائی کو سامنے لانے کے لیے اپنے آپ کواوراپنے مستقبل کو خطرے میں ڈالتے ہیں اوراسی طرح میڈیا مانیٹرنگ سیل اور ڈیٹا سینٹر کے قیام کے منصوبے کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔مشاورت نے ملک وقوم کو درپیش مسائل پر قومی کنونشن بلانےاور سید شہاب الدین کی یاد میں سالانہ لیکچر کرانےکا بھی اعلان کیا ۔پہلا سیدشہاب الدین میموریل لکچر اس سال 4 نومبر کو منعقدکیاجائےگا۔ رپورٹ میں مشاورت کی عمارت کی تعمیر نو اور مشاورت ریفرنس لائبریری کے استحکام کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی گئی اوربتایاگیاکہ دفتر مشاورت میںایک علاحدہ ریڈنگ روم کی سہولت بھی ہے جو مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلباء کے لیےوقف ہے۔مشاورت کےجنرل سکریٹری (فائنانس)جناب احمدرضا نے سال گذشتہ کی آمدوخرچ کا حساب وکتاب اور سال 2024-25کابجٹ پیش کیا۔بنگلور (کرناٹک) سےآئے رکن مشاورت حیدرولی خاں نے مشاورت کے بجٹ میں انتظامی اموراورمیڈیا کےلیےرقوم میں اضافہ کرنے کی تجویز رکھی جس کی حاضرین نے تائید کی اوربجٹ کواتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔میٹنگ کے دوسرے حصے میں ڈاکٹر قیصر شمیم ،سابق سکریٹری سنٹرل وقف کونسل(حکومت ہند) نے وقف ترمیمی ایکٹ 2024 پر قرارداد پیش کی جس پر بحث میں سابق ایم پی عزیز پاشا اور دیگراراکین نےحصہ لیا۔اسی طرح ہجومی تشدد پرقراردادپر خورشید حسن رومی، منظور احمد اورسپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ اعجاز مقبول نےتجاویزپیش کیں۔ دونوں قراردادیں ان مسائل پر مرکزی حکومت اور ریاستوں کی این ڈی اے حکومتوں کی پالیسیوں اور کام کاج کے طریقے کو مسترد کرتی ہیں۔قرارداد میں نشاندہی کی گئی کہ قانون کے نفاذ کے تقریباً تین دہائیوں کے بعد بھی حکومت وقف ایکٹ 1995 کے تحت اوقاف کا سروے کرانے میں ناکام رہی ہے، نئے قواعد و ضوابط کی توضیع ، بورڈ میں کل وقتی سی ای او کی تقرری اور قانون کے دیگر مینڈیٹ پربھی اس نے عمل درآمد نہیںکیا۔ یہ صرف ریاستیں ہی نہیں جو ایکٹ کو نافذ کرنے میں ناکام رہی ہیں، مرکز بھی نگرانی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ سنٹرل وقف کونسل کی میعاد 3فروری2023 کو ختم ہو گئی تھی اور اس کی تشکیل نو نہیں کی گئی ۔ کونسل کے سیکرٹری کو 11اپریل2023 کو رخصت کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے کونسل
دہلی مسلم مجلس مشاورت کی مشترکہ میٹنگ – Copy

سیاسی و سماجی مسائل پر سنجیدہ غوروفکر، مجلس عاملہ اور ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل پیغمبراسلام ﷺکی شان میں گستاخی کی مذمت، مجرموں کو سزا دلانے کا مطالبہ، متاثرین فسادات کیلئے انصاف اور اوقاف کے تحفظ کے لیے عزم کا اعادہ، عہدیداروں کا تعارف کرایاگیا اوردہلی مشاورت کے ممبران کو قومی صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ اور دیگر معززین کے دست مبارک سے رکنیت کی سند پیش کی گئی نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی نومنتخب مجلس عاملہ اور جنرل باڈی کی پہلی مشترکہ میٹنگ اتوار کو یہاں مشاورت کے مرکزی دفتر میں منعقد ہوئی جس کی صدارت دہلی مشاورت کے صدر ڈاکٹر ادریس قریشی نے کی۔ اپنے خیرمقدمی کلمات میں انہوں نے کہا کہ ہم دہلی کے مسلمانوں کے مسائل کا سامنا پوری مضبوطی سے کریں گے اور اس کے لیے ریاست میں مشاورت کو زیادہ فعال اور منظم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہر کے تمام اضلاع میں مشاورت کے ارکان، مسلم تنظیموں کے نمائندوں اور ائمہ مساجد سے رابطہ کررہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ہرضلع میں کم ازکم ۵ افراد کو مشاورت سے جوڑنا ہے جبکہ مشاورت کے قومی صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے اس موقع پر کہا کہ کسی بھی آل انڈیا تنظیم کے لیے اس کی صوبائی یونٹ اس کے دست و بازو کا درجہ رکھتی ہے، اس لیے ہماری پوری توجہ ریاستی مجلس مشاورت کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنے پر ہے اور اس کے لیے ریاستی یونٹ کو ہم ہرممکن تعاون دیں گے۔ اس سے قبل میٹنگ میں سیاسی و سماجی مسائل پر قراردادیں پیش کی گئیں جن پر بحث میں شرکائے اجلاس نے کھل کر حصہ لیا، تجاویز پیش کیں اور تمام قراردادیں اتفاق رائے سے منظور کی گئیں۔ مشاورت نے پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں فرقہ پرستوں کی گستاخی پراپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اس مسئلے پر انجینئر ابوسعید نے قرارداد پیش کی جس میں خاص طور پر ڈاسنا کے دریدہ دہن نام نہاد سوامی یتی نرسنگھانند کی سخت مذمت کی گئی۔ اس بدزبان شخص کے گستاخانہ کلمات کو بدترین اشتعال انگیزی اور ناقابل برداشت حرکت بتاتے ہوئے مطالبہ کیاگیا کہ ایسے شخص کو پولیس بلاتاخر گرفتار کرے اور مقدمہ چلاکر سزا دے۔ اس کو آزاد چھوڑنا خطرناک ہے،وہ بار بار ملک کے کروڑوں باشندوں کی دل آزاری کر رہا ہے اور اس کی حرکتوں سے ملک کا امن وامان خطرے میں ہے۔مشاورت نے زوردیا ہے کہ کسی بھی مذہب کی مقدس ہستی کی توہین کرکے لوگوں کی دل آزاری کرنے والے شخص / اشخاص کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ قائم کیا جائے اور اگر پولیس ہماری شکایت پر کارروائی نہیں کرتی ہے تو براہ راست عدالت سے رجوع کریں اور پولیس کو مقدمہ درج کرنے پر مجبور کریں جبکہ شمال مشرقی دہلی (2020) کے فرقہ وارانہ تشدد کے شدید اثرات کومحسوس کرتے ہوئے، جس کے نتیجے میں تقریباً 55 معصوم افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے اوربڑے پیمانے پر بے گناہ لوگ بے گھر ہوئے،مشاورت نے اس اجلاس میں ایڈوکیٹ محمد طیب خاں کے ذریعے پیش کردہ قرار داد میں متاثرین کے لیے فوری امداد اور انصاف کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انصاف میں تاخیر انصاف کی نفی ہے۔مشاورت نے قرارداد میں کہا ہے کہ عمر خالد، خالد سیفی، گل افشا ں فاطمہ اور ان جیسے دیگر کارکنوں کی مسلسل قید کی تشویشناک صورت حال کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے جنہیں ان کے پرامن سرگرمیوں کے باوجود ناجائز طور پر قید میں رکھا گیا ہے۔ انصاف میں یہ تاخیر متاثرین کے درد میں اضافہ کرتی ہے اور عدالتی عمل کی صحت پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔آمدو خرچ کا حساب و کتاب اور2024-25کا بجٹ جناب ایس ایم یامین قریشی (سی اے)نے پیش کیا۔ دہلی مشاورت نے میٹنگ میں اپنی مجلس عاملہ کے ارکان کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے حاضرین سے ان کا تعارف بھی کرایا۔مولانا نثار احمد نقشبندی، مسرورالحسن صدیقی ایڈوکیٹ اور انجینئر ابو سعید نائن صدر، ڈاکٹر اقبال احمدجنرل سکریٹری، رئیس احمد ایڈوکیٹ اور سید عشرت علی سکریٹری اور عزیزالرحمٰن راہی، اشرف علی بستوی، اطہر ابراہیم، بدرالاسلام کیرانوی، ڈاکٹر ریحانہ، فیروزاحمد صدیقی، کبیرخان ایڈوکیٹ، محمد الیاس سیفی، محمد تقی، محمد رئیس الاعظم فیضی، رئیس اعظم خان، صنوبر قریشی ایڈوکیٹ، تقی حیدر اور ذیشان خالق ارکان عاملہ بنائے گئے ہیں۔جبکہ جناب اسلم احمد جمال ایڈوکیٹ کوقانونی امور کی کمیٹی کا کنوینر اور معین الدین حبیبی (سابق رجسٹرار جامعہ ملیہ اسلامیہ) کو تعلیمی کمیٹی کا کنوینر نامزد کیا گیا ہے۔میٹنگ کا افتتاح حافظ عاطف کی تلاوت سے ہوا، نظامت کے فرائض ڈاکٹر اقبال احمد نے انجام دئے، شکریے کی تحریک منصور احمد نے پیش کی۔ میٹنگ کے اختتام سے قبل دہلی مشاورت کے ارکان کومرکزی مجلس مشاورت کے صدرفیروزاحمد ایڈوکیٹ، دہلی مشاورت کے سابق صدر سیدمنصورآغا اور دیگر معززین کے ہاتھوں سند رکنیت پیش کی گئی۔ جاری کردہ:
مولانا ندیم الواجدی کا انتقال ملک و ملت کا ناقابل تلافی نقصان: فیروزاحمد ایڈوکیٹ – Copy

مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور مصنف و صحافی مولانا واجدی کی موت پر مسلم مجلس مشاورت کا پیغام تعزیت نئی دہلی: ملک کے معروف عالم دین، ماہنامہ ترجمان دیوبند کے ایڈیٹر، متعدد کتابوں کے مصنف و مؤلف اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا ندیم الواجدی کی اچانک رحلت ملک و ملت کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ منگل کی صبح یہ خبر انتہائی افسوس اور رنج کے ساتھ امریکہ کے شکاگو سے موصول ہوئی جہاں وہ اپنے صاحبزادے مولانا یاسرندیم الواجدی کے پاس گئے ہوئے تھے۔ ان جذبات کا اظہار آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے مولانا ندیم الواجدی کے انتقال پرملال پر اپنے تعزیتی پیغام میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مرحوم کی دینی، علمی اور سماجی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مشاورت نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مولانا ندیم الواجدی نے اپنی زندگی دین کی خدمت اور ملت کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دی تھیں۔ امام غزالی کی مشہور کتاب احیاء العلوم کا سلیس اردو ترجمہ ان کے کاموں میں ایک نمایاں کام اور ان کے ذہن و فکر کا عکاس ہے۔ ان کے علمی مقالات، کالمز، اور تحریریں اسلامی شعور و آگاہی کو فروغ دینے میں ان کے نمایاں خدمات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی وفات نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت مولانا ندیم الواجدی کے اہل خانہ، متعلقین اور تمام چاہنے والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور دعا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ اللہ ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کی طاقت دے۔ جاری کردہ:
مولانا ندیم الواجدی کا انتقال ملک و ملت کا ناقابل تلافی نقصان: فیروزاحمد ایڈوکیٹ – Copy

مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور مصنف و صحافی مولانا واجدی کی موت پر مسلم مجلس مشاورت کا پیغام تعزیت نئی دہلی: ملک کے معروف عالم دین، ماہنامہ ترجمان دیوبند کے ایڈیٹر، متعدد کتابوں کے مصنف و مؤلف اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا ندیم الواجدی کی اچانک رحلت ملک و ملت کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ منگل کی صبح یہ خبر انتہائی افسوس اور رنج کے ساتھ امریکہ کے شکاگو سے موصول ہوئی جہاں وہ اپنے صاحبزادے مولانا یاسرندیم الواجدی کے پاس گئے ہوئے تھے۔ ان جذبات کا اظہار آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے مولانا ندیم الواجدی کے انتقال پرملال پر اپنے تعزیتی پیغام میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مرحوم کی دینی، علمی اور سماجی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مشاورت نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مولانا ندیم الواجدی نے اپنی زندگی دین کی خدمت اور ملت کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دی تھیں۔ امام غزالی کی مشہور کتاب احیاء العلوم کا سلیس اردو ترجمہ ان کے کاموں میں ایک نمایاں کام اور ان کے ذہن و فکر کا عکاس ہے۔ ان کے علمی مقالات، کالمز، اور تحریریں اسلامی شعور و آگاہی کو فروغ دینے میں ان کے نمایاں خدمات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی وفات نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت مولانا ندیم الواجدی کے اہل خانہ، متعلقین اور تمام چاہنے والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور دعا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ اللہ ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کی طاقت دے۔ جاری کردہ:
مسلم تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے پر مسلم مجلس مشاورت کا سخت ردعمل – Copy

یو ایس ٹی ایم کے بانی محبوب الحق کی گرفتاری کی مذمت، سپریم کورٹ اور صدر جمہوریہ سے مداخلت کی درخواست،مشاورت نے معززشہری کی گرفتاری کو انصاف کا خون اورترقی پسند طبقے کا حوصلہ پست کرنے کی سازش کہا، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اقلیتی کوٹے سے چھیڑ چھاڑ بھی ناقابل برداشت نئی دہلی: بی جے پی کی حکومتیں ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلم تعلیمی اداروں کومسلسل نشانہ بنارہی ہیں جو انتہائی ناقابل برداشت اور قابل مذمت ہے۔ان جذبات کا اظہار آج آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے قومی صدر فیروز احمد ایڈو کیٹ نے کیا۔انہوں نے کہا کہ آسام میں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، میگھالیہ (یو ایس ٹی ایم) کے بانی وچانسلر محبوب الحق کی گرفتاری ایک کھلا سیاسی انتقام اور انصاف کاخون ہے۔اس سے قبل راجستھان میں جے پور کی مولانا آزاد یونیورسٹی کے عتیق احمد کو بھی ہراساں کیا گیا،اترہردیش میں گلوکل یونیورسٹی کے اثاثوں کو ضبط کیا گیا اور رامپور کی مولانا جوہر یونیورسٹی پر اعصاب شکن کارروائیاں جاری ہیں۔ صدر مشاورت نے سپریم کورٹ اور صدر جمہوریہ سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک معزز شہری،نامورماہرتعلیم اورملک وقوم کے بے لوث خادم کی گرفتاری اور قید کا مقصد معاشرے کے ترقی پسند افراد کے ایک خاص حصے کا حوصلہ پست کرنا ہے۔ اعلیٰ تعلیم اور صحت کے جدید سیکولر اداروں کے قیام کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ محبوب الحق کی گرفتاری خالص انتقامی کارروائی ہے۔ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے فرقہ پرست عناصرکی جانب سے این اے اے سی(NAAC) سے اے گریڈ یافتہ اداروں کے لیے بنیاد پرست اور دقیانوسی جیسے الفاظ استعمال کر کے ان کی شبیہ خراب کرناایک بہت بڑی بدبختی ہے جس کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔فیروزاحمدایڈوکیٹ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نئے وائس چانسلرآصف مظہر کو جامعہ کا اقلیتی کردار مسخ کرنے کے لیے استعمال کیے جانے کی خبروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اورکہا ہے کہ جامعہ میں نافذالعمل اقلیتی کوٹے سے چھیڑ چھاڑ ہرگزبرداشت نہیں کیا جائیگا۔ یوایس ٹی ایم کے چانسلر کی گرفتاری سے ابھرے سنگین سوالات: آسام پولیس نے پچھلے ہفتے یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، میگھالیہ (یو ایس ٹی ایم) کے چانسلر محبوب الحق کو ذات سرٹیفکیٹ میں جعلسازی کے الزام میں جس طرح چھاپہ مارکر گرفتار کیا،وہ بڑے سنگین سوالات پیداکرتاہے۔ محبوب الحق کو سری بھومی ضلع پولیس اور آسام پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کی ایک ٹیم نے گوہاٹی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا تھا۔ ان کے خلاف سری بھومی ضلع میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر ذات کا جعلی سرٹیفکیٹ بنانے کا الزام عائد کیاگیا ہے۔ گزشتہ سال مانسون میں گوہاٹی میں پانی جمع ہوگیا تھا تو وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا شرما نے اس کیلئے یونیور سٹی کو نشانہ بنایا تھا اور یونیور سٹی کے خلاف کیس رجسٹرڈ کرنے کی ہدایت دی تھی۔شرمانے اسے فلڈ جہاد کا نام دیا تھا۔ اس سے پہلے، شرما نے الزام لگایا تھا کہ شہر کو گوہاٹی کے مضافات کی پہاڑیوں میں بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ ا نہوں نے یو ایس ٹی ایم جیسے نجی اداروں کو قرار دیا۔ شرما نے دعوی کیا کہ آسام کے سری بھومی ضلع سے تعلق رکھنے والے بنگالی نژاد مسلمان اور یو ایس ٹی ایم کے بانی محبوب الحق گوہاٹی میں ”فلڈ جہاد“میں مصروف ہیں۔ یوایس ٹی ایم کی خدمات اور حکومت کا مذموم رویہ: شمال مشرقی ہندوستان میں سپر اسپیشلٹی صحت خدمات کی مانگ کے ساتھ، پی اے سنگما انٹرنیشنل میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل، یو ایس ٹی ایم کا ایک کالج، 150 نشستوں کے ساتھ قائم کیا جا رہا،1100 بستروں پر مشتمل جدید ترین سپر اسپیشلٹی اسپتال کا منصوبہ اعلیٰ درجے کی صحت خدمات کے لیے جدید انفراسٹرکچر سے لیس ہے۔یہ سپر اسپیشلٹی اسپتال شمال مشرقی ریاستوں کے شہریوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کرتا ہے جنہیں ابھی تک اس کے لیے کولکاتہ جانا پڑتا ہے۔ یہ بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال سمیت پڑوسی آسیان ممالک کی صحت کی دیکھ بھال کی ضروریات کو پورا کرکے طبی سیاحت میں بھی حصہ ڈالے گالیکن یوایس ٹی ایم کے بانی ڈاکٹر محبوب الحق کو حکومت آسام نہایت بدبختانہ طور پر نشانہ بنارہی ہے۔ یونیورسٹی اور ڈاکٹر محبوب الحق سے حکومت آسام دست و گریباں ہے،اس نے ان پر گوہاٹی میں ’فلڈ جہاد‘ کا الزام لگایا اورکہ اس یونیورسٹی کے فارغین کو آسام میں ملازمت نہیں دی جائے گی اور وزیراعلی نے ایسا صرف اپنے سیاسی اغراض کے لیے کیا۔
AIMMM expresses heartfelt condolence on demise of Mohsina Kidwai

New Delhi: The All India Muslim Majlis e Mushawarat expresses its deep sorrow and heartfelt condolences on the demise of senior leader Mrs. Mohsina Kidwai, former Union Minister, Government of India. AIMMM writen a condolence letter to the family of demise leader and her son Mr. Imran Kidwai. Mr. Feroze Ahmad Advocate, President AIMMM said “Mrs. Kidwai’s passing is a great loss to the nation and to all those who believed in public service, social justice, and inclusive development. Throughout her long and distinguished public life, she served the country with dedication, dignity, and compassion. Her contributions to national politics and her commitment to the welfare of the marginalized will always be remembered with respect and gratitude. At this moment of profound grief, we extend our sincere sympathies to the bereaved family and loved ones. We pray to the Almighty to grant them patience and strength to bear this irreparable loss and to bless the departed soul with eternal peace. *Inna lillahi wa inna ilayhi raji’un.*
سابق مرکزی وزیر محسنہ قدوائی کے انتقال پر آل انڈیا مسلم مجلس مشاور کا اظہار تعزیت

نئی دہلی : آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت سابق مرکزی وزیر حکومتِ ہند محترمہ محسنہ قدوائی کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔ محترمہ محسنہ قدوائی کا انتقال نہ صرف ملک کے لیے بلکہ ان تمام افراد کے لیے ایک بڑا نقصان ہے جو عوامی خدمت، سماجی انصاف اور ہمہ گیر ترقی کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔ اپنی طویل اور باوقار عوامی زندگی کے دوران انہوں نے خلوص، وقار اور ہمدردی کے ساتھ ملک کی خدمت انجام دی۔ قومی سیاست میں ان کی خدمات اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی وابستگی کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ اپنے تعزیتی پیغام میں مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ اس غم کی گھڑی میں ہم سوگوار خاندان اور تمام متعلقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس ناقابلِ تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے اور مرحومہ کی مغفرت فرما کر انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
