سنبھل کی شاہی جامع مسجدپرحملہ اور مسلم نوجوانوں کا قتل فاشزم کا ننگا ناچ، مجرموں کو بخشاگیاتواچھا نہ ہوگا

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کایوپی کی یوگی سرکار کو برخاست کرنے، مقتولین کو فی کس ایک کڑور روپے معاوضہ دینے اور واردات کی اعلیٰ سطحی عدالتی جانچ کرانے کا مطالبہ    نئی دہلی: سنبھل میں شاہی جامع مسجد کے سروے کی آڑمیں سرکاری دہشت گردی کاجو ننگاناچ کیاگیا،وہ کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ پانچ بے گناہ مسلم نوجوانوں کو یوپی پولیس نے جس طرح گولیوں کا نشانہ بناکر موت کے گھاٹ اتار دیا،وہ انتہائی المناک اورناقابل برداشت ہے۔مجرموں کو کسی بھی قیمت پر بخشانہیں جانا چاہیے۔یہ مطالبہ ملک کی مؤقر مسلم تنظیموں کے وفاق آل انڈیامسلم مجلس مشاورت نے کیاہے۔صدرمشاورت فیروز احمد ایڈو کیٹ نے اپنے شدید ردّعمل میں کہاہے کہ مقتولوں کو فی کس ایک کروڑ روپے معاوضہ ادا کیا جائے اورواردات کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کراکے ذمہ داروں کو قرارواقعی سزا دی جائے۔مشاورت کے صدرفیروزاحمد ایڈوکیٹ نے صدرجمہوریہ سے اترپردیش کی یوگی سرکار کو فی الفور برخاست کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حکومت کے اقتدار میں رہتے ہوئے مظلوموں کو انصاف نہیں مل سکتاہے۔وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا مجرمانہ کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے،اقتدار ملنے کے بعد اس میں اوربھی اضافہ ہوگیاہے۔مشاورت نے غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوں تو پورے اترپردیش میں مسلمانوں کے خلاف حکومتی عملہ، پولیس اور پی اے سی کا جو طرزِ عمل ہے، وہ نفرت اور تعصب سے عبارت ہے لیکن پہلے بہرائچ اور اب سنبھل میں جو کچھ ہوا، یہ ایک آرگنائزڈ کرائم ہے۔انہوں نے کہاکہ یوپی کے مختلف علاقوں میں مساجد کے حوالے سے ماحول کو بگاڑااور نئے نئے تنازعات پیدا کرکے نفرت و عداوت کی فضا پیدا کی جاتی رہی ہے۔سنبھل کی جامع مسجد کو سرفہرست رکھ کر مسلم کمیونٹی کے خلاف حالات خراب کیے جارہے ہیں اور ناحق ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کرنے والے مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ اترپردیش کی بی جے پی سرکار مسلمانوں کو ایک فریق کے طور پر نشانہ بناکر ووٹوں کی صف بندی کرنے کی کھلی سازش کرارہی ہے۔ مشاورت صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ مسجد کا ایک بار سروے کرنے کے بعد پھر دوسری بار فوری سروے کرانے اور اسی دن اس کی رپورٹ پیش کرنے کا جو طرزعمل اختیار کیا گیا، وہ یقیناً ایک منظم سازش کا حصہ تھا۔ مسلمانوں کا غم وغصہ اور احتجاج عین فطری تھالیکن پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے یک طرفہ کارروائی اور نوجوانوں کے سینوں کو بندوق کی گولیوں سے سیدھانشانہ بنایا جو انتہائی بے رحمانہ اور بلاجواز کارروائی ہے۔اس کی جس قدر بھی مذمت کی جائے، وہ کم ہوگی۔ صدرمشاورت نے کہا کہ ریاستی حکومت، پولیس کے اعلیٰ اہلکاران اور زیریں عدالتیں بھی قانون کا دوہرا پیمانہ اپنا رہی ہیں جس سے ملک اور ریاست میں قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔مشاورت نے مطالبہ کیا ہے کہ مقتولین کے ورثاء کوفی الفورمناسب معاوضہ دینے اور سنبھل و اطراف امن وامان وشانتی کا ماحول بنانے کی حتی الوسع کوشش کی جائے۔مظلوموں کے زخموں پر مرہم نہ رکھا گیا تو اس کا انجام ملک و ملت کسی کے لیے بھی اچھا نہ ہوگا۔مشاورت نے اس کے لیے پہلی فرصت میں یوگی سرکار کو برخاست کرکیواردات کی غیرجانب دارانہ تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی عدالتی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی مانگ کی ہے۔

AMU का अल्पसंख्यक दर्जा न्याय और संविधान की जीत

मुशावरत के अध्यक्ष श्री फ़िरोज़ अहमद ने कहा “अल्पसंख्यकों को अवांछित कानूनी लड़ाई में घसीटकर देश और समाज को अपूरणीय क्षति पहुंचाना बंद किया जाना चाहिए” नई दिल्ली: मुस्लिम संगठनों के परिसंघ, ऑल इंडिया मुस्लिम मजलिस-ए-मुशावरत ने भारत के सर्वोच्च न्यायालय के ऐतिहासिक फैसले का स्वागत किया है, जिसने अलीगढ़ मुस्लिम विश्वविद्यालय (एएमयू) के अल्पसंख्यक चरित्र को बरकरार रखा और 1967 के सैयद अजीज बाशा मामले के फैसले को रद्द कर दिया। मुशावरत के अध्यक्ष और वरिष्ट अधिवक्ता, फ़िरोज़ अहमद  ने आशा व्यक्त की है कि देश और समाज का अपूरणीय क्षति रोकने के लिए अल्पसंख्यकों को अवांछित कानूनी लड़ाई में घसीटना बंद होना चाहिए। श्री अहमद ने कहा, “सांप्रदायिक फासीवादी तत्वों को अपना चेहरा आईने में देखना चाहिए।” मुख्य न्यायाधीश डीवाई चंद्रचूड़ की अध्यक्षता वाली सुप्रीम कोर्ट की सात सदस्यीय संविधान पीठ ने बहुमत से फैसला सुनाया है कि संसद के अधिनियम द्वारा स्थापित संस्थानों के अल्पसंख्यक चरित्र को समाप्त नहीं किया जा सकता। कोर्ट के पिछले निर्णय और तर्क दोनों को गलत बताया और यह भी निर्देश दिया कि नई पीठ इस पर निर्देश तय करेगी। फैसले के आलोक में अब सुप्रीम कोर्ट की नई बेंच यह तय करेगी कि क्या एएमयू वाकई अल्पसंख्यक संस्थान है।मुशावरत ने सुप्रीम कोर्ट से अनुरोध किया है कि इस मुद्दे को जल्द से जल्द निबटाया जाए, कानून की इस अनावश्यक लङाई को रोका जाए जिसमें दशकों से हमारी बहुमूल्य ऊर्जा बर्बाद हो रही है। मुशावरत इस पर जोर देती है कि विस्तृत फैसला आना अभी बाकी है, इसलिए इस लड़ाई को पूरी ताकत और रणनीति के साथ शीर्ष अदालत में अंजाम तक ले जाने की जरूरत है। मुशावरत ने आगे कहा कि देश में सिर्फ धार्मिक अल्पसंख्यक संस्थान ही नहीं हैं, हिंदू संस्थानों समेत बड़ी संख्या में भाषाई अल्पसंख्यक संस्थान भी काम कर रहे हैं लेकिन मुसलमानों से नफरत और दुश्मनी में लीन तत्वों की आंखों पर पट्टी पङी हुई है। प्रेस के लिए अपने बयान में मुशावरत ने कहा कि यह फैसला न केवल एएमयू बल्कि देश भर के अन्य अल्पसंख्यक संस्थानों के अधिकारों की रक्षा के लिए एक महत्वपूर्ण कदम है। इस फैसले से सुप्रीम कोर्ट ने अल्पसंख्यकों के शैक्षणिक संस्थान स्थापित करने के अधिकार और उनके अल्पसंख्यक चरित्र की सुरक्षा को मजबूत आधार प्रदान किया है, जो भारत के संविधान में मौलिक अधिकारों में शामिल है।

AIMMM on the Supreme Court’s Verdict: The Minority Status of AMU is a Victory for Justice and the Constitution

The AIMMM president Mr. Feroz Ahmad urged “dragging minorities into unwanted legal battles must come to an end to prevent irreparable harm to the nation and the community” New Delhi: All India Muslim Majlis-e-Mushawarat, the confederation of Muslim organizations, welcomed the historic decision of the Supreme Court of India, which upheld the minority status of Aligarh Muslim University (AMU) and nullified the 1967 Syed Aziz Basha case ruling. The Mushawarat president and renowned lawyer, Firoz Ahmed Advocate, expressed hope that dragging minorities into unwanted legal battles must come to an end to prevent irreparable harm to the nation and the community. Mr. Ahmad aided “The sectarian fascist elements should look at their own faces in the mirror.” A seven-member constitution bench of the Supreme Court, headed by Chief Justice DY Chandrachod, ruled with a majority that the minority character of institutions established by an Act of Parliament cannot be abolished. Termed both the previous stand and reasoning of the court as wrong and also directed that a new bench will frame the directions on the same. Now, in the light of the decision, the new bench of the Supreme Court will now decide whether AMU is really a minority institution or not. The AIMMM requested the Supreme Court to put an end to this issue as soon as possible, this unnecessary tussle with the law should be stopped in which our precious energies are being wasted by decades. The AIMMM emphasizes that the detailed verdict is yet to come, so there is a need to take this fight to the end with full force and strategy in the apex Court. The AIMMM further stated that there are not only religious minority institutions in the country, a large number of linguistic minority institutions including Hindu institutions are also functioning but the eyes of the elements caught in the hatred and enmity of the Muslims are blindfolded. In its statement issued to the press, the AIMMM said that this decision is an important step to protect the rights of not only AMU but also other minority institutions across the country. With this decision, the Supreme Court has provided a strong foundation for the right of minorities to establish educational institutions and the protection of their minority character, which is included in the fundamental rights in the Constitution of India.

 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف اور آئین کی جیت

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے کہا کہ اقلیتوں کو ناروا قانونی لڑائی میں گھسیٹ کر ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے نئی دہلی: ملک کی مؤقر مسلم تنظیموں کے وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے سپریم کورٹ آف انڈیا کے اس تاریخی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے اقلیتی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے 1967 کے سید عزیز باشا مقدمہ کے فیصلے کو کالعدم کر دیا گیا۔ مشاورت کے صدر اور معروف قانون دان فیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ یہ آئین و انصاف کی جیت ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اب اقلیتوں کو ناروا قانونی لڑائی میں گھسیٹ کر ملک و قوم کی بہترین صلاحیتوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرقہ پرست عناصر ابے اپنے گریبانوں میں منھ ڈالیں۔ سپریم کورٹ کی سات رکنی آئینی بینچ نے جس کی سربراہی چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کر رہے تھے، عدالت کی اکثریتی رائے سے فیصلہ دیا کہ پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے قائم اداروں کا اقلیتی کردار ختم نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے عزیز باشا کیس میں سپریم کورٹ کے سابقہ موقف اور استدلال دونوں کو غلط قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ اس پر ایک نئی بنچ ہدایات تیار کرے گی۔ اب چونکہ سپریم کے اس فیصلے کی روشنی میں اب سپریم کورٹ کی نئی بنچ مسلم یونیورسٹی کے مقدمے کا فیصلہ کرے گی،مشاورت نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو جلد از جلد ہمیشہ کے لیے ختم کرے، قانون کی اس ناروا کشمکش کا سلسلہ کا سلسلہ بند ہونا چاہیے جس میں دہائیوں سے ہماری بیش قیمت توانائیاں ضیا ع ہورہی ہیں۔ صدر مشاورت فیروزاحمد ایڈو کیٹ نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ ملک میں صرف مذہبی اقلیتی ادارے ہی نہیں ہیں، لسانی اقلیتی اداروں کی بھی کثیر تعداد ہے اور ہندوؤں کے اقلیتی ادارے بھی ہزاروں کی تعداد میں ہیں لیکن مسلمانوں کی نفرت و عداوت میں گرفتار عناصر کی آنکھوں پر پٹیاں پڑی ہوئی ہیں۔  صدرمشاورت فیروز احمد ایڈوکیٹ نے میڈیا کے لیے جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بلکہ ملک بھر کے دیگر اقلیتی اداروں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے سے اقلیتوں کے تعلیمی ادارے قائم کرنے کے حق اور ان کے اقلیتی کردار کے تحفظ کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہے، جو ملک کے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ ابھی حتمی فیصلہ آنا باقی ہے اس لئے سپریم کورٹ میں پوری قوت اور حکمت عملی کے ساتھ اس لڑائی کو انجام تک پہونچانے کی ضرورت ہے۔

AIMMM Welcomes Supreme Court Verdict on UP Madrasa Board

Feroze Ahmed Advocate Urges BJP Governments to Stop Harassing Madrasas New Delhi: The Supreme Court’s decision, overturning the Allahabad High Court’s ruling declaring the Uttar Pradesh Madrasa Education Board unconstitutional, is a lesson for communal fascists, according to the All India Muslim Majlis-e-Mushawarat, which has welcomed this decision. This ruling has come at a time when Islamic madrasas are being harassed in various ways in BJP-ruled states. This statement was made on Tuesday by the President of the AIMM, Firoz Ahmed Advocate, in his reaction to the Supreme Court’s verdict. He noted that BJP governments and government agencies are harassing madrasas, emboldening communal elements who also wish to harm religious educational institutions. The Allahabad High Court’s ruling, which had declared the Madrasa Education Board Act unconstitutional, was a part of this trend.  The Supreme Court, in its decision, stated that imparting religious education to children is not illegal. The court has clearly emphasized that secularism means “live and let live.” This supports principles of harmony and coexistence in India’s pluralistic society, encouraging a diverse educational approach. The decision further clarified that the Utter Pradesh Madrasa Education Act is a part of the state’s responsibilities, meaning that ensuring quality education and enabling students to participate socially and economically is part of the government’s duty. The Supreme Court connected Article 21(a) and the Right to Education with the rights of religious and linguistic minorities, stating that madrasas can provide secular education while maintaining their religious identity. In its statement, the All India Muslim Majlis-e-Mushawarat pointed out that most children studying in madarsas come from families living below the poverty line, and these madrasas offer free education to all without any discrimination, making a significant contribution to the country’s literacy rate. The Uttar Pradesh government has been sensationalizing the issue by categorizing even informal, part-time religious institutions as madrasas. Interference in madrasa activities goes against the Constitution and the law. The constitutional rights of Muslims, religious freedom, educational autonomy, and the holistic development of children cannot be compromised. Harassing madrasas under the guise of inquiries is also a disservice to national and society interests. The Right to Education Act mandates the central and state governments to ensure quality education in children’s chosen institutions, and this law provides protection to religious madrasas, which bear the educational responsibility of over ten million children across the country, including millions in Uttar Pradesh, significantly contributing to the country’s literacy rate.

 مشاورت نے مدرسہ بورڈ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا

بی جے پی کی حکومتیں دینی مدارس کو ہراساں کرنابندکریں: فیروزاحمدایڈوکیٹ نئی دہلی: اترپردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈکوالٰہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعے غیرآئینی قراردئے جانے کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ فرقہ پرست فاشسٹوں کے لیے سبق آموزہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اس کا خیرمقدم کرتی ہے۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب بی جے پی کے زیراقتدار ریاستوں میں مدارس اسلامیہ کوطرح طرح سے ہراساں کیاجارہاہے۔ ان خیالات کا اظہارمنگل کو یہاں ملک کی مسلم تنظیموں اور ممتازشخصیتوں کے وفاق(مشاورت) کے صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کیا، انہوں نے کہاکہ بی جے پی کی حکومتیں اورسرکاری ایجنسیاں مدارس کو ہراساں کرتی ہیں اوراس سے حوصلہ پاکر فرقہ پرست عناصربھی دینی مدارس کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، الٰہ آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھاجس میں کہا گیا تھا کہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ غیرآئینی ہے۔واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بچوں کو دینی تعلیم و تربیت دینا کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہے۔عدالت نے بڑی وضاحت کے ساتھ کہا ہے کہ سیکولرزم کا مطلب ہے ”جیو اور جینے دو“۔ اس سے ہندوستان کے تکثیری معاشرے میں متنوع تعلیمی نقطہ نظر کے ساتھ بقائے باہمی کے اصولوں اور ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔ اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدرسہ ایکٹ ریاست کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے، لہٰذا اس میں تعلیم کو معیاری بنانا اور طلبا کو اس قابل بنانا کہ ان میں سماجی اور معاشی سطح پر شراکت داری کی اہلیت پیدا ہو، حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ سپریم کوٹ نے آرٹیکل 21 اے اور رائٹ ٹو ایجوکیشن کو مذہبی و لسانی اقلیتوں کے حقوق سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ مدارس اپنے مذہبی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے سیکولر تعلیم دے سکتے ہیں۔    آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈو کیٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مدارس میں زیر تعلیم بچوں کی اکثریت خط افلاس کے نیچے جینے والوں کی ہے اور یہ مدارس بلاتفریق سب کوفری تعلیم دیتے ہیں، ملک کی شرح خواندگی میں ان کاگرانقدرتعاون ہے، حکومت اترپردیش غیررسمی جزوقتی دینی درسگاہوں کوبھی مدارس میں شمار کرکے سنسنی پھیلاتی آئی ہے، مدارس کی سرگرمیوں  میں مداخلت آئین و قانون کے منافی ہے،مسلمانوں کے آئینی حقوق، مذہبی آزادی،تعلیمی خودمختاری اوربچوں کی ہمہ گیرنشوونما کوپامال کر نے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جاسکتی۔ مدارس کو انکوائری کے نام پر ہراساں کیا جانا بھی ملک اور سماج کے مفادات کی پامالی ہے۔حق تعلیم ایکٹ مرکز اور ریاستوں کو بچوں کی پسند کے تعلیمی اداروں میں ہی معیاری تعلیم مہیا کرانے کا پابند بناتاہے اوراس قانون میں دینی مدارس کو تحفظ حاصل ہے اور یہ مدارس ملک کے ایک کروڑ سے زائداورریاست اترپردیش کیلاکھوں بچوں کی تعلیم کا بوجھ اٹھاتیاوریہ ملک کی شرح خواندگی میں گرانقدرتعاون کرتے ہیں۔

AIMMM’s Protest against CBSE’s Hostile Policy towards Urdu

Memorandum to CBSE Chairman: Denial of Examinations in Urdu is a Clear Violation of Students’ Constitutional and Legal Rights; Mushawarat Calls for Intervention from the Union Minister of Education Statement by Mushawarat President Feroze Ahmed: Running CBSE on Commercial Lines is an Attack on the Spirit of Democracy and the National Educational Policy of Multilingualism New Delhi: The All India Muslim Majlis-e-Mushawarat, the only federation of prominent Muslim organizations and personalities of eminence in the country, has submitted a memorandum to Mr. Rahul Singh (IAS), Chairman of the Central Board of Secondary Education (CBSE), regarding the board’s hostile approach toward Urdu in its examination policies. The memorandum states that denying Urdu medium school students the right to take exams in Urdu is a clear violation of the constitutional and legal rights of Urdu-speaking children. Recently, Mushawarat had also passed a detailed resolution during its annual joint meeting to strongly protest this decision by the board. Background and Concerns The memorandum outlines that in 2010, Maulana Azad National Urdu University (MANUU) established three model schools for Urdu-speaking children in Hyderabad, Nuh (Haryana), and Darbhanga (Bihar). CBSE had recognized to these schools with Urdu as the primary medium of instruction. Until 2020, the board provided examination question papers for these institutions in English, Hindi, and Urdu. However, since 2021, CBSE removed Urdu as an option for question papers without prior consultation, impacting students at MANUU’s schools and other Urdu medium institutions. Since then, these students have faced academic challenges as they are forced to answer questions provided only in Hindi and English. Additionally, in June 2024, CBSE introduced a policy requiring prior permission to evaluate answer sheets written in languages other than Hindi or English, except in the National Capital Territory of Delhi. This has further increased the difficulties faced by Urdu medium students across the country.  The Severity of Impact Mushawarat’s resolution and memorandum further state that this policy has not only affected institutions affiliated with MANUU but has also jeopardized the access and sustainability of Urdu medium education nationwide, even impacting central university like MANUU. By preventing students from writing exams in their mother tongue, CBSE undermines the principles of multilingualism and inclusivity adopted in the New Education Policy 2024, which emphasizes promoting education in regional languages. The AIMMM emphasized that Urdu is always one of the scheduled national languages of the country, the mother tongue of over sixty million Indian citizens, and an official language in several states. The restriction on providing question papers and conducting exams in Urdu is a clear violation of the rights granted by the constitution and law. Mushawarat’s Demands In light of the facts above mentioned, the All India Muslim Majlis-e-Mushawarat demands the immediate restoration of the previous policy, allowing students to receive question papers in Urdu and write their answers in Urdu. Mushawarat President Feroze Ahmed, Advocate, said “running CBSE on commercial lines is against the spirit of democracy. He urged the Union Minister of Education to intervene, as promoting multilingualism is a responsibility of the government. Mushawarat calls for an urgent review of the policy restricting the use of Urdu in examinations, so that the affected are not forced to resort to protests or legal battles.

اردو کے تعلق سے سی بی ایس ای کی معاندانہ پالیسی پر مشاورت کا احتجاج

سی بی ایس ای کے چیئرمین کے نام عرضداشت، اردو میں امتحانات لینے سے انکار بچوں کے آئینی حقوق اور قانون کی کھلی خلاف ورزی، مرکزی وزیر تعلیم سے مداخلت کا مطالبہ، مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ سی بی ایس ای کو تجارتی خطوط پر چلانا جمہوریت کی روح اور کثیرلسانیت کی قومی تعلیمی پالیسی پر حملہ ہے نئی دہلی:ملک کی مؤقرمسلم تنظیموں اور ممتاز رہنماؤں کے وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کی امتحانات سے متعلق پالیسی میں اردو کے ساتھ بورڈ کے معاندانہ رویے پر بورڈ کے چیئرمین مسٹر راہل سنگھ (آئی اے ایس) کے نام عرضداشت میں کہا ہے کہ اردو میڈیم اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے امتحانات اردو میں لینے سے انکار اردو لسانی بچوں کے آئینی حقوق اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مشاورت نے گزشتہ دنوں اپنے سالانہ مشترکہ اجلاس میں اس سلسلے میں ایک تفصیلی قرارداد منظور کرکے بھی بورڈ کے فیصلے پر سخت احتجاج کیا تھا۔ پس منظراور خدشات عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (MANUU) نے 2010 میں حیدرآباد، نوح (ہریانہ) اور دربھنگہ (بہار) میں اردولسانی بچوں کے لیے تین ماڈل اسکول قائم کیے تھے۔ ان اسکولوں کوسی بی ایس ای نے اردو بنیادی ذریعہ تعلیم کے ساتھ تسلیم کرتے ہوئے منظوری دی تھی۔ 2020 تک بورڈ ان اداروں کے طلباء کے لیے انگریزی، ہندی اور اردو میں امتحانات کے پرچہ سوالات فراہم کرتا رہا لیکن2021 سیاس نے اردو کو سوالات کے پرچوں کے آپشن کے طور پر بغیر کسی پیشگی مشورے کے ختم کر دیا جس سے مانو کے اسکولوں اوردوسرے اردو میڈیم اسکولوں کے طلبا ء وطالبات متاثر ہوئے۔ اس کے بعد سے ان بچوں کو مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ انہیں صرف ہندی اور انگریزی میں فراہم کردہ سوالات کے جوابات دینے پر مجبور کیا گیاہے۔ مزید برآں، جون 2024 میں، بورڈ (CBSE) نے ایک اضافی پالیسی متعارف کروائی جس کے تحت ہندی یا انگریزی کے علاوہ کسی اور زبان میں لکھے گئے پرچوں کی جانچ کے لیے سوائے قومی دارالحکومت دہلی کے پیشگی اجازت کی شرط رکھی گئی ہے۔ اس سے ملک بھر میں اردو میڈیم طلباء کے لیے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ اثرات کی سنگینی مشاورت نے اپنی قرارداد اور اس عرضداشت میں یہ بھی کہا ہے کہ اس پالیسی نے نہ صرف مانو سے ملحقہ اداروں کو متاثر کیا ہے بلکہ ملک گیر سطح پر اردو میڈیم تعلیم کی رسائی اور استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے، یہاں تک کہ مانو جیسی مرکزی یونیورسٹی بھی اس کی زد میں آگئی ہے۔ طلباء کو ان کی مادری زبان میں امتحانات لکھنے سے روک کرسی بی ایس ای، نئی قومی تعلیمی پالیسی 2024 میں اپنائی گئی کثیر لسانیت و جامعیت کی پالیسی کو نقصان پہنچا رہا ہے جو علاقائی زبانوں میں تعلیم کو فروغ دینے پر زور دیتی ہے۔ یہ عرضداشت زور دے کر باور کراتی ہے کہ اردو ہمیشہ سے ملک کی درج فہرست قومی زبانوں میں سے ایک ہے اور ہندوستان کے چھ کروڑ سے زائد شہریوں کی مادری زبان ہے، نیز یہ کئی ریاستوں کی سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ سوالات کے پرچے اردو میں جاری کرنے پر پابندی اور اردو میں امتحانات لینے سے انکار کرنا آئین اور قانون کے ذریعے دیے گئے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مطالبات مندرجہ بالا حقائق کے پیش نظر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے مطالبہ کیا ہے کہ سابقہ پالیسی کو فوری طور پر بحال کیا جائے جس کے تحت طلباء کو اردو میں سوالات کے پرچے ملیں اور وہ اردو میں اپنے جوابات لکھ سکیں۔ مشاورت کے صدرفیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ سی بی ایس ای کو تجارتی (کمرشیل) خطوط پر چلانا جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ مرکزی وزیر تعلیم کو مداخلت کرنی چاہیے۔کثیر لسانیت کو فروغ دینا حکومت کا فرض ہے۔ امتحانات میں اردو کے استعمال کو محدود کرنے کی پالیسی پر فوری نظرثانی کی جائے اور متاثرین کو سڑکوں پر اترنے اور قانون کی لڑائی چھیڑنے کے لیے مجبور نہ کیا جائے۔