ممتاز صحافی پرواز رحمانی کا انتقال ملک و ملت کا ناقابل تلافی نقصان:مشاورت

نئی دہلی:آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ممتاز صحافی پرواز رحمانی کے انتقالِ پُرملال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی ہے۔ ان کا انتقال اردو صحافت بالخصوص ملت کے فکری و صحافتی حلقوں کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشاورت کے صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے جماعت اسلامی ہند کے ترجمان سہ روزہ دعوت کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کے انتقال پر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم ایک باوقار، سنجیدہ اور اصول پسند صحافی تھے۔ انہوں نے اپنے طویل صحافتی سفر میں قلم کو امانت، خبر کو ذمہ داری اور صحافت کو سماجی و اخلاقی فریضہ سمجھا۔ اخبار دعوت کی ادارت کے دوران انہوں نے حق گوئی، فکری توازن اور ملت کے اجتماعی مسائل کو باوقار انداز میں اجاگر کرنے کی روشن روایت قائم کی۔ ان کی تحریروں میں نہ اشتعال تھا نہ سطحیت، بلکہ بصیرت، درد مندی اور ذمہ دارانہ اظہار نمایاں تھا۔ مشاورت مرحوم کی صحافتی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے اردو صحافت کو محض اطلاع رسانی کا ذریعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے فکری رہنمائی اور سماجی شعور بیدار کرنے کا مؤثر وسیلہ بنایا۔ انہوں نے جن نوجوانوں کی تربیت کی وہ ان کے بعد بھی اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جاتی رہے گی۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت مرحوم کے اہل خانہ، رفقائے کار، ادارہ دعوت کے وابستگان اور تمام اہل صحافت سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی حسنات کو قبول کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ
آج کی سب سے بڑی ترجیح ملک میں جمہوریت کی واپسی ہے

’عالمی یوم حقوق اقلیت‘ کے موقع پر دہلی مسلم مجلس مشاورت کے سیمینار سے مختلف مذاہب کے رہنماؤں کا خطاب ،انصاف کے لیے متحد ہوکرلڑنے کے عزم کا اعادہ، ہندو تو کے نشانے پر مسلمان لیکن سب سے زیادہ دلتوں کا نقصان،اقلیتوں کا ڈر دکھا کر دلتوں کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں لیکن دلت لیڈران ان کی گود میں کھیل رہے ہیں: فیروز احمد ایڈوکیٹ، حقوق کا تحفظ تو جمہوریت کی بقا میں ہے: پی آئی جوس، جس کمیونٹی نے چھ سو ستر سال ملک پر حکومت کی، وہ اقلیت میں کیوں آگئی؟ : پروفیسر رتن لال، ملک کی آزادی کے لیے قربانیاں ہم نے دیں، ہم ہی پھر قربانیاں دیں گے: سردار دیا سنگھ روزنامہ قومی بھارت، نئی دہلی بتاریخ: 21 دسمبر،2025
آج کی سب سے بڑی ترجیح ملک میں جمہوریت کی واپسی ہے

روزنامہ انقلاب،نئی دہلی بتاریخ:21 دسمبر 2025
آج کی سب سے بڑی ترجیح ملک میں جمہوریت کی واپسی ہے

روزنامہ میرا وطن ، نئی دہلی بتاریخ20 دسمبر،2025
آج کی سب سے بڑی ترجیح ملک میں جمہوریت کی واپسی ہے

’عالمی یوم حقوق اقلیت‘ کے موقع پر دہلی مسلم مجلس مشاورت کے سیمینار سے مختلف مذاہب کے رہنماؤں کا خطاب ،انصاف کے لیے متحد ہوکرلڑنے کے عزم کا اعادہ، ہندو تو کے نشانے پر مسلمان لیکن سب سے زیادہ دلتوں کا نقصان،اقلیتوں کا ڈر دکھا کر دلتوں کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں لیکن دلت لیڈران ان کی گود میں کھیل رہے ہیں: فیروز احمد ایڈوکیٹ، حقوق کا تحفظ تو جمہوریت کی بقا میں ہے: پی آئی جوش، جس کمیونٹی نے چھ سو ستر سال ملک پر حکومت کی، وہ اقلیت میں کیوں آگئی؟ : پروفیسر رتن لال، ملک کی آزادی کے لیے قربانیاں ہم نے دیں، ہم ہی پھر قربانیاں دیں گے: سردار دیا سنگھ نئی دہلی : حقوق کے تحفظ کے لیے ملک جمہوریت کوواپس لانا ہوگا۔ جب تک قانون کی حکمرنی نہیں ہے اور عدالتیں ٹھیک سے کام نہیں کرتیں، اقلیتیں کیا کسی کے حقوق محفوظ نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں عالمی یوم حقوق اقلیت کے موقع پر دہلی مسلم مجلس مشاورت کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے حقوق انسانی کے سرکردہ کارکن، مشہور عیسائی رہنما اور سپریم کورٹ کے وکیل پی آئی جوش نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج لاکھوں لوگ کنٹریکٹ پر کام کررہے ہیں۔ ان غریبوں کی آئندہ نسل کا کیا بنے گا، کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ہمیں اپنی ترجیحات تبدیل کرنا ہوں گی اور آج کی سب سے بڑی ترجیح جمہوریت کی واپسی ہے۔ انہوں نے اس پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری کھاتے سے ایک ڈرائیور کو پندرہ ہزار جاتا تھالیکن اس میں سے صرف 3 ہزار روپے اسے ملتا تھا۔جبکہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ اقلیتوں کا ہوا کھڑا کرکے سب سے زیادہ دلتوں کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ دلت لیڈران ان کی گود میں کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی نمائندگی اور ان کے ووٹ کی طاقت کو کمزور کرنا ہندوستان کے ماتھے کا داغ بن گیا ہے جبکہ دنیا میں ان ہی ملکوں کو زیادہ جمہوری مانا جاتا ہے جہاں اقلیتوں کے حقوق زیادہ محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ یہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ملک کا مفاد کیا ہے لیکن اسٹیٹ اسپانسرڈ وائلنس (ریاستی تشدد) ملک و قوم کے لیے سب سے زیادہ نقصان کا باعث ہے۔ ایک شخص ہندو راشٹر کے نعرے کے ساتھ پد یاترا چلا رہا ہے لیکن سرکاریں اور سرکاری ایجنسیاںکیا کررہی ہیں۔ انہوں نے حکومت کے دوہرے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسمرتی ایرانی دو دو پین کارڈ لے کر گھوم رہی ہیں،بہار کا ڈپٹی چیف منسٹر فرضی برتھ سرٹیفکیٹ اور فرضی ڈگریاں استعمال کر کیقانون کو چکمہ دیتا ہے لیکن کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی، سزائیں صرف اعظم خاں اور عبداللہ اعظم کو سنائی جاتی ہیں۔ اس سے قبل دہلی یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے استاد ڈاکٹررتن لال نے سمینار کا کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ہندوستان میں اقلیتوں کے مسائل پرسنجیدہ سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ چھ سو ستر سال جس کمیونٹی نے حکومت کی، وہ اقلیت میں کیوں آگئی؟ انہوں نے کہا کہ مسلم حکمرانوں نے سماجی اسٹرکچر کو بدلنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بجائے طاقتور طبقوں سے سمجھوتہ کیا۔انہوں نے کہا کہ بادشاہوں نے یہاں بڑے بڑے قلعے،عالی شان عمارتیں اورمحلات بنوائے ان کی اولادکہیں نظر نہیں آتیں لیکن جو ان کے درباری اور منصب دار تھے، محلات، قلعوں، ڈیوڑھیوں اور پانچ ستارہ ہوٹلوں کے مالک ہیں۔انہوں نے دلتوں کی سادہ لوحی ذکر کرتے ہوئے مسلم قیادتوں پر زور دیا کہ وہ دلت مسلم اتحاد کے لیے کام کریں۔ انہوں نے دلتوں پرنظام حیدر آباد کے احسانات کی یاد دلائی اور بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی مدد میں جس فراخ دلی سے نظام حیدرآبادنے کام لیا، اسی کشادہ قلبی سے ملک کے مسلمانوں کو آج بھی کام لینے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ جس اشرافیہ نے ملک کی 85 فیصد آبادی کو پہلے غلام بنا رکھا تھا، اسی نے آج بھی ان کو محکوم بنا رکھا ہے اور ان کے تسلط سے سب کو مل کر آزادی حاصل کرنا ہوگا۔ آل انڈیا پیس مشن کے صدرسردار دیا سنگھ نے کہا کہ مشہور مجاہد آزادی سردار حکم سنگھ کہتے تھے کہ جنگ آزادی میں گاندھی جی کے ساتھ سکھ اور مسلم ہی کھڑے ہوئے، آزادی کے لیے قربانیاں انہوں نے ہی دیں اور جب تک سکھ اور مسلم اس ملک میں ہیں، اس دیش کی آزادی اور سیکولرازم کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ضرورت ہے ہم سب کے ایک ہونے کی۔ انھوں نے کہا کہ سنگھرش مل کر کرنا پڑیگا۔یہ ملک ہمارا ہے اور اس کو ہم ہی بچائیں گے۔ سیمینار کا آغاز مولانا اظہر مدنی کی تلاوت کلام پاک سے اور اختتام دہلی مسلم مجلس مشاورت کے صدر ڈاکٹر ادریس قریشی کے کلمات تشکر پر ہوا۔ انہوں نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ حکومت کو اپنی آنکھ کان کھولنا اور سننا دیکھنا چاہیے کہ یہ کہتے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے صدر اجلاس فیروز احمد ایڈوکیٹ، یامین قریشی، مشتاق احمد،عبد الرشیداور سید منصور آغا کے ہاتھوں مہمانوں کو مومنٹو اور شال پیش کیا۔
देश की सामाजिक-राजनीतिक परिस्थितियों पर मुस्लिम संगठनों का परिसंघ ‘मुशावरत’ का चिंतन

उत्पीड़न के विरुद्ध उत्पीड़ितों की एकता पर ज़ोर, बरेली में हाल ही में हुए दंगों, गुजरात, असम, उत्तर प्रदेश,उत्तराखंड, मध्य प्रदेश, झारखंड और अन्य राज्यों में मुसलमानों को निशाना बनाए जाने पर आक्रोश,मौलाना तौकीर रज़ा खान की गिरफ़्तारी और बरेली में मुसलमानों के ख़िलाफ़ अनुचित कार्रवाई की निंदा और उनकी तत्काल रिहाई की माँग, लोकतंत्र और क़ानून के शासन दरपेश ख़तरों से लड़ने का संकल्प, अल्पसंख्यकों का अखिल भारतीय सम्मेलन बुलाने का निर्णय, देश भर से आए सदस्यों और प्रतिनिधियों ने प्रस्तावों पर चर्चा में भाग लिया, सभी प्रस्तावों और बजट की सर्वसम्मति से मंज़ूरी नई दिल्ली: देश और समाज गंभीर समस्याओं का सामना कर रहा है, भारत का लोकतंत्र ख़तरे में है, हर तरफ़ भय और आतंक का माहौल है, जिसका हमें अटूट विश्वास और निडरता के साथ सामना करना होगा। यह विचार ऑल इंडिया मुस्लिम मजलिस ए मुशावरत के अध्यक्ष फिरोज अहमद एडवोकेट ने शनिवार को मुशावरत की कार्यकारी परिषद और आम सभा की संयुक्त बैठक में व्यक्त किए। उन्होंने कहा कि हमारा सबसे शक्तिशाली हथियार वोट है और स्थिति यहां तक पहुंच गई है कि अब इसे कमजोर करने और यहां तक कि समाज के कमजोर वर्गों से यह शक्ति छीनने की साजिशें की जा रही हैं। वोट छीनने के लिए एसआईआर का इस्तेमाल किया जा रहा है। उन्होंने कहा कि दबे-कुचले लोगों को एकजुट होने, एक साथ बैठने और मिलकर काम करने की जरूरत है। इसके लिए मुशावरत के अध्यक्ष ने नवंबर के अंत या दिसंबर की शुरुआत में एक अखिल भारतीय सम्मेलन बुलाने का प्रस्ताव रखा, जबकि मुशावरत के उपाध्यक्ष मौलाना असगर अली इमाम मेहदी सलफी ने कहा कि आज हमारा समाज पहले से कहीं अधिक अव्यवस्थित और अज्ञानी है। हमें पहले अपने युवाओं को प्रशिक्षित करने की जरूरत है, फिर उन्हें आगे बढ़ाने की। पूर्व सांसद सैयद अज़ीज़ पाशा ने कहा कि मुशावरत को कश्मीर से कन्याकुमारी तक हर जगह मज़बूत और सक्रिय करने की ज़रूरत है, और पूर्व सांसद कुंवर दानिश अली ने ज़ोर देकर कहा कि मुशावरत पूरी ताकत से और हर स्तर पर सक्रिय किया जाए, और हमें हर कुर्बानी के लिए तैयार रहना चाहिए। प्रोफ़ेसर बसीर अहमद ख़ा ने ज़्यादा से ज़्यादा पार्टियों और हर छोटे-बड़े संगठन के प्रतिनिधियों को शामिल करने पर ज़ोर दिया, तो डॉ. अनवारुल इस्लाम ने कहा कि मुशावरत को संगठनात्मक मुद्दों और मतभेदों से आगे बढ़कर अपने मूल लक्ष्य और घोषणा पर ध्यान केंद्रित करना चाहिए। श्री हारून रशीद (मुर्शिदाबाद), मोहम्मद अहमद मोमिन (औरंगाबाद), अब्दुल कय्यूम ख़ान (श्रीनगर) और प्रोफ़ेसर अक़ील अली सैयद (गुजरात) ने मुशावरत को ज़मीनी स्तर पर सक्रिय बनाने का प्रस्ताव रखा, जबकि इंडियन यूनियन मुस्लिम लीग के सचिव श्री मुहम्मद आसिफ ने सुझाव दिया कि मुशावरत को राजनीतिक दलों से भी मिलना चाहिए और उनके नेताओं को चर्चा के लिए आमंत्रित करना चाहिए। मुस्लिम संगठनों के परिसंघ, आल इंडिया मुस्लिम मजलिसे-मुशावरत के इस अधिवेशन ने दर्जन भर से अधिक प्रस्तावों को स्वीकृति दी। जिनमें सांप्रदायिक हिंसा की बढ़ती प्रवृत्ति की निंदा, उत्पीड़ितों की एकता पर ज़ोर, बरेली में हुई हिंसा पर चिंता, गुजरात, असम, उत्तर प्रदेश, उत्तराखंड, मध्य प्रदेश, झारखंड और अन्य भाजपा शासित राज्यों में सरकारी मशीनरी द्वारा मुसलमानों को निशाना बनाए जाने पर चिंता व्यक्त की गई और पीड़ितों को उनके नुकसान की भरपाई की माँग की गई। मुशावरत ने इत्तेहाद-ए-मिल्लत काउंसिल के अध्यक्ष मौलाना ताक़ीर रज़ा ख़ान की नज़रबंदी की निंदा की और उनकी आवाजाही पर लगे सभी प्रतिबंध हटाने की माँग की। बैठक में असम, उत्तर प्रदेश, मध्य प्रदेश, उत्तराखंड और देश के विभिन्न हिस्सों में मदरसों और मस्जिदों को अवैध रूप से ध्वस्त करने और मुसलमानों पर बुलडोज़र चलाने को संविधान और क़ानून का उल्लंघन बताया गया और इसी तरह, कानपुर और बरेली में “आई लव मुहम्मद” पोस्टर को लेकर पुलिस की अनुचित कार्रवाई को बेहद निंदनीय और असहनीय बताया गया। ये प्रस्ताव मुशावरत के उपाध्यक्ष नवीद हामिद और महासचिव शेख मंजूर अहमद ने पेश किए, जबकि पूर्व राजदूत और मुशावरत के सदस्य ज़िक्र-उर-रहमान ने अंतरराष्ट्रीय मामलों पर एक प्रस्ताव पेश किया, जिसमें फ़िलिस्तीनी मुद्दे पर विस्तार से प्रकाश डाला गया। बैठक में सर्वसम्मति से इज़राइली आक्रमण की निंदा की गई और कहा गया कि संयुक्त राष्ट्र के 197 सदस्य देशों में से 157 द्वारा फ़िलिस्तीन को एक स्वतंत्र राज्य के रूप में मान्यता देना आशा की किरण है। बैठक में कहा गया कि हम फ़िलिस्तीन के उत्पीड़ित लोगों के साथ खड़े हैं। सभा की शुरुआत मौलाना अज़हर मदनी द्वारा पवित्र कुरान की आयतों के पाठ से हुई। अध्यक्ष के उद्घाटन भाषण के बाद, मौलाना डॉ. शीश मुहम्मद इदरीस तैमी ने समुदाय के दिवंगत सदस्यों के लिए शोक प्रस्ताव पेश किया और उपस्थित लोगों ने उन के लिए दुआ की। महासचिव (वित्त), श्री अहमद रजा ने 2025-26 का बजट प्रस्तुत किया, जिसे बैठक में सर्वसम्मति से अनुमोदित किया गया, जबकि महासचिव (मीडिया) श्री अहमद जावेद ने कार्य रिपोर्ट प्रस्तुत की, जिसमें मुशावरत के पिछले एक वर्ष के प्रदर्शन की समीक्षा की गई, प्रयासों, चुनौतियों को प्रस्तुत किया गया। इसके सामने आने वाली चुनौतियाँ और इसकी प्रगति। रिपोर्ट के अनुसार, मुशावरत ने एक संघ के रूप में अपनी भूमिका बनाए रखी है जिसने विभिन्न मुस्लिम संगठनों, विद्वानों, बुद्धिजीवियों और सामाजिक कार्यकर्ताओं को एक साझा मंच प्रदान किया है। सदस्य संगठनों के साथ नियमित संपर्क बनाए रखा गया ताकि राष्ट्रीय और अंतर्राष्ट्रीय मुद्दों पर एक साझा रुख अपनाया जा सके, और नई संस्थाओं से संपर्क बढ़ाकर उन्हें मुशावरत से जोड़ने के प्रयास भी किए गए। साथ ही, यह भी कहा गया कि सीमित वित्तीय संसाधन मुशावरत की गतिविधियों के विस्तार में एक बाधा हैं। सदस्य संगठनों के बीच बेहतर संबंध और समन्वय स्थापित करने की आवश्यकता है। इसके लिए अधिक ध्यान और संसाधनों की आवश्यकता है, विशेष रूप से लगातार बदलती राजनीतिक और सामाजिक स्थिति को देखते हुए, और देश में बढ़ती सांप्रदायिक घृणा, ध्रुवीकरण, हिंसक प्रवृत्तियों और नागरिक स्वतंत्रता में लगातार गिरावट के कारण पहले से कहीं अधिक चुनौतियाँ सामने आ रही हैं। रिपोर्ट में इस बात पर ज़ोर दिया गया है कि मुशावरत कुरान के इस निर्देश पर आधारित है कि “नेकी और धर्मपरायणता के कार्यों में एक-दूसरे की मदद करो, और पापों और अपराधों में किसी के सहायक न बनो।” और यह कि “अपने बीच के भूलचूक को माफ़ कर दो, उनके लिए माफ़ी मांगो और उनसे मशविरा करो, फिर जब तुम फ़ैसला कर लो, तो अल्लाह पर भरोसा रखो। निस्संदेह, अल्लाह उन लोगों से प्यार करता है जो उस पर भरोसा करते हैं।” सभा का समापन अध्यक्ष के समापन भाषण और उपाध्यक्ष मौलाना असगर इमाम मेहदी सलफ़ी की दुआ के साथ हुआ। बैठक में भाग लेने वाले अन्य लोगों में, दिल्ली मुशावरत के अध्यक्ष डॉ. इदरीस कुरैशी, महाराष्ट्र मुशावरत के महासचिव श्री मुहम्मद अहमद मोमिन
AIMMM, The Confederation of Muslim organizations discuss sociopolitical conditions of the country

*Emphasis on unity of the oppressed against oppression, Outrage over recent riots in Bareilly, targeting of Muslims in Gujarat, Assam, UP, Uttarakhand, Madhya Pradesh, Jharkhand and other states, Condemnation of the arrest of Maulana Tauqir Raza Khan and the unwarranted action against Muslims in Bareilly and demand for their immediate release, Reaffirmation of the resolve to fight the threats facing democracy and rule of law, Decision to convene an All-India Convention of Minorities, Members and delegates from different parts of the country participated in the discussion on the resolutions, All resolutions and the current year’s budget unanimously approved *New Delhi:* The country and the community are facing serious problems, India’s democracy is in danger, there is an atmosphere of fear and terror everywhere, which we have to confront with unwavering confidence and fearlessness. These views were expressed here on Saturday by All India Muslim Majlis e Mushawarat President Mr Feroz Ahmed Advocate in a joint meeting of the executive council and general body of the Mushawarat. He said that our most powerful weapon is the vote, and the situation has reached such a point that now conspiracies are being made to weaken it and even snatch this power from the weaker sections of society. SIR is being used with great boldness to snatch votes. He said that the oppressed need to unite, sit together and work together. For this, the President of the Mushawarat proposed to convene an all-India convention in late November or early December, while the Vice President of the Mushawarat, Maulana Asghar Ali Imam Mehdi Salafi, said that today this nation is more disorganized and unaware than ever. We need to first train our youth, then take them forward. Former MP Syed Aziz Pasha said that AIMMM needs to be strengthened and activated everywhere from Kashmir to Kanyakumari, and former M.P. Kunwar Danish Ali emphasized that AIMMM will be implemented with full strength, and we should be ready for every sacrifice. While Prof. Baseer Ahmad Khan emphasized on including representatives of as many parties and every small and big organization, Dr. Anwarul Islam said that the AIMMM should move beyond organizational issues and differences and focus on its original mandate and manifesto. Mr. Harunnur Rashid (Murshidabad), Muhammad Ahmad Momin (Aurangabad), Abdul Qayyum Khan (Srinagar) and Prof. Aqil Ali Saiyed (Gujarat) proposed to make the consultation active at the grassroots level and present in the media, while Indian Union Muslim League Secretary Mr Muhammad Asif suggested that the AIMMM should also meet political parties and invite their leaders for discussions. The meeting passed more than a dozen resolutions on issues of the country and the community. Among them were condemnation of the growing trends of communal violence, emphasis on the unity of the oppressed, concern was expressed over the recent violence in Bareilly, targeting of Muslims by the government machinery in Gujarat, Assam, UP, Uttarakhand, Madhya Pradesh, Jharkhand and other BJP ruled states, and a demand was made to compensate the victims for their losses. The consultation condemned the detention of Ittehad-e-Millat Council President Maulana Taqir Raza Khan and demanded the lifting of all restrictions on his movement. The meeting termed the illegal demolitions and bulldozing of madrassas and mosques and the use of bulldozers against Muslims in Assam, UP, Madhya Pradesh, Uttarakhand and various parts of the country as a violation of the Constitution and law, and similarly, it termed the unjustified actions of the police in Kanpur and Bareilly regarding the “I Love Muhammad” poster as highly reprehensible and intolerable. These resolutions were presented by the AIMMM’s Vice President Mr Naveed Hamid and the General Secretary Sheikh Manzoor Ahmed, while former Indian Ambassador and AIMMM’s member Prof. Zikr-ur-Rehman presented a resolution on international affairs, shedding light on the Palestinian issue in detail. The meeting unanimously condemned the Israeli aggression and said that the recognition of Palestine as an independent state by 157 of the 197 member countries of the United Nations is a ray of hope. The meeting said that we stand with the oppressed people of Palestine. The meeting began with the recitation of the verses from Holy Quran by Maulana Azhar Madani. After the opening remarks of the President, Maulana Dr. Muhammad Shees Taimi presented a resolution of condolence for the deceased members of the community and the attendees prayed for their forgiveness. The General Secretary Finance, Mr. Ahmed Raza, presented the budget for 2025-26, which was unanimously approved by the meeting, while the General Secretary (Media) Mr. Ahmed Jawed presented the executive report, which reviewed the performance of the AIMMM for the past one year, covering its efforts, challenges faced by it and its progress. According the report, the AIMMM has maintained its role as a federation and an umbrella body that has given a common platform to various Muslim organizations, scholars, intellectuals and social workers. Regular contact was maintained with the member organizations so that a common position could be adopted on national and international issues, and efforts were also made to increase contacts with new institutions and connect them with the AIMMM. At the same time, it was also said that limited financial resources are an obstacle to expanding the activities of the AIMMM. There is a need to establish better relations and coordination between the member organizations. This requires greater attention and resources, especially in view of the ever-changing political and social situation, and because of the growing sectarian hatred, polarization, violent tendencies and the increasing decline of civil liberties in the country pose greater and greater challenges than ever before. The report emphasized that AIMMM has been based on the instructions of the Quran that “Help one another in deeds of righteousness and piety, and do not be helpers of anyone in sins and transgressions.” And that “Forgive the wrongdoers among you, ask forgiveness for them and consult them, then when you have decided, put your trust in Allah. Indeed, Allah loves those who put their trust in Him.” The meeting ended with the closing remarks of the President
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے اجلاس میں ملک کے سیاسی و سماجی حالات پر غوروخوض

ظلم کے خلاف مظلوموں کے اتحاد پر زور ٭بریلی کے حالیہ فساد،گجرات،آسام، یوپی، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ اوردیگر ریاستوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے پرغم وغصہ٭مولانا توقیررضاخاں کی گرفتاری اور بریلی کے مسلمانوں پربلاجواز کارروائی کی مذمت اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ٭ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو درپیش خطرات سے ڈٹ کر لڑنے کے عزم کا اعادہ٭ اقلیتوں کی کل ہندکنونشن بلانے کا فیصلہ٭ ملک کے مختلف مقامات سے آئے ارکان و مندوبین نے تجاویزپربحث میں حصہ لیا٭جملہ قراردادیں اورسال رواں کابجٹ اتفاق رائے سے منظور نئی دہلی: ملک و ملت کو سنگین مسائل کا سامنا ہے، ہندوستان کی جمہوریت خطرے میں ہے، ہرطرف خوف و دہشت کا ماحول ہے جس کا مقابلہ ہمیں اٹوٹ اعتماد اور بے خوفی سے کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ہفتے کو یہاں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے مشاورت کی مجلس عاملہ اور جنرل باڈی کے مشترکہ اجلاس میں کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے طاقتور ہتھیار ووٹ ہے او ر نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ اب اس کو بھی کمزور کرنے بلکہ کمزور وں سے یہ طاقت چھین لینے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔نہایت ڈھٹائی کے ساتھ ایس آئی آر کو ووٹ کاٹنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظلوموں کو سرجوڑ کر بیٹھنے اور اتحاد سے کام لینے کی ضرورت ہے۔صدر مشاورت نے اس کے لیے نومبر کے آخر یا دسمبر کے اوائل میں کل ہند کنونشن بلانے کی تجویزرکھی جبکہ مشاورت کے نائب صدر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے کہا کہ آج یہ ملت ہمیشہ سے زیادہ بے ترتیب اور بے تربیت ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم پہلے اپنے نوجوانوں کی تربیت کریں، پھر ان کو آگے بڑھائیں۔سابق رکن پارلیمنٹ سید عزیز پاشا نے کہا کہ مشاورت کو کشمیر سے کنیا کماری تک ہرجگہ مضبوط اور فعال کرنے کی ضرورت ہے اور سابق رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی نے زور دیا کہ مشاورت کو پوری طاقت سے میدان عمل میں اترنا ہوگااور ہمیں ہرقربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جبکہ پروفیسر بصیر احمدخاں نے مشاورت میں زیادہ سے زیادہ جماعتوں اور ہر چھوٹی بڑی تنظیم کے نمائندوں کو شامل کر نے پر زور دیا اور ڈاکٹر انوارالاسلام نے کہا کہ مشاورت کو تنظیمی امور اور اختلافات سے نکل کر اس کے اصل مینڈیت اور منشور پرآنا چاہیے۔ہارون الرشید(مرشدآباد)، محمد احمدمومن(اورنگ آباد)، عبد القیوم خاں (سرینگر)اورپروفیسر عاقل علی سید (گجرات) نے مشاورت کو زمینی سطح تک فعال اور میڈیا میں موجود بنانے کی تجاویز پیش کیں جبکہ انڈین یونین مسلم لیگ کے سکریٹری محمد آصف نے مشورہ دیا کہ مشاورت کو چاہیے کہ سیاسی پارٹیوں سے بھی ملاقات کرے اور ان کے لیڈروں کو بھی تبادلہ خیال کے لیے بلائے۔اجلاس نے ملک و ملت کے مسائل پر ایک درجن سے زائد قراردادیں منظور کیں۔ جن میں فرقہ وارانہ تشددکے بڑھتے رجحانات کی مذمت، مظلوموں کے اتحاد پر زور، بریلی کے حالیہ فساد،گجرات،آسام، یوپی، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ اوردیگر ریاستوں میں سرکاری مشینری کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے پر اظہارتشویش کیاگیااور مطالبہ کیا گیا کہ متاثرین کے نقصانات کی تلافی کی جائے۔مشاورت نے اتحاد ملت کونسل کے صدرمولاناتوقیررضاخاں کی نظر بندی کی مذمت کرتے ہوئے ان کی نقل و حرکت پر ہرقسم کی پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا۔اجلاس نے آسام، یوپی،مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ اور ملک کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کو نشانہ بناکر کی جارہی ماورائے قوانین و ضوابط انہدامی کارروائیوں اور مدارس و مساجد پر بلڈوزر چلائے جانے کو آئین و قانون کی پامالی قرار دیا اور اسی طرح’آئی لومحمد پوسٹر‘ کو لے کرکانپور اور بریلی میں پولیس کی بلاجواز کارروائیوں کو انتہائی مذموم اور ناقابل برداشت کہا۔ یہ تجاویز مشاورت کے نائب صدر نوید حامد اور جنرل سکریٹری شیخ منظور احمدنے پیش کیں جبکہ سابق سفیر ہنداور رکن مشاورت پروفیسرذکرالرحمٰن نے بین الاقوامی امور پر قرارداد پیش کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور اجلاس نے اتفاق رائے سے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور کہا کہ دنیا کے197ممالک میں اقوام متحدہ کے 157 ممالک کا فلسطین کو آزادمملکت تسلیم کرنا امید کی ایک کرن ہے۔اجلاس نے کہا کہ ہم فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اجلاس کی کارروائی کا آغاز رکن مشاورت مولانا اظہر مدنی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ صدر مشاورت کے افتتاحی کلمات کے بعد مولانا ڈاکٹرمحمد شیث تیمی نے ملت کے مرحومین کے لیے قرارداد تعزیت پیش کی اور حاضرین اجلاس نے ان کی مغفرت کی دعاکی۔ مشاورت کے جنرل سکریٹری(مالیات) جناب احمد رضا نے 26- 2025 کا بجٹ پیش کیا جس کو اجلاس نے اتفاق رائے سے منظور کرلیا جبکہ جنرل سکریٹری (میڈیا) جناب احمد جاوید نے کارروائی رپورٹ پیش کی جس میں گزشتہ ایک سال کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے مشاورت کی کاوشوں،اسے درپیش چیلنجز اور اس کی پیشرفتوں کا احاطہ کیا گیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشاورت نے ایک ایسے وفاق اور ایک ایسی چھتری کے طور پراپنے کردارکو برقرار رکھاہے،جس نے مختلف مسلم تنظیموں، علما، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم دیا۔رکن تنظیموں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ قائم رکھا گیا تاکہ قومی و ملی مسائل پر مشترکہ موقف اپنایا جا سکے اورنئے اداروں سے روابط بڑھانے اور انہیں مشاورت سے جوڑنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ اسی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ محدود مالی وسائل مشاورت کی سرگرمیوں کو بڑھانے کی راہ میں حائل ہیں۔رکن تنظیموں کے درمیان مزید بہترروابط و ہم آہنگی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص ہردن بدلتی سیاسی و سماجی صورت حال کے پیش نظر اس پر زیادہ توجہ اور وافروسائل درکار ہیں اور یہ بھی کہ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ منافرت،پولرائزیشن، تشدد کے رجحانات اور شہری آزادی کی روزافزوں کمی ہمارے سامنے ہمیشہ سے زیادہ اور بڑی چیلنجزز ہیں۔ رپورٹ میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ مشاورت کی اساس قرآن کی ان ہدایات پر ہے کہ ’نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرواور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں کسی کے مددگار نہ بنو‘اور یہ کہ”اپنے اندرکے خطاکاروں کومعاف کردو، ان کے لیے مغفرت طلب کرو اور ان سے مشورہ کرو، پھر جب ارادہ کر لو
Mushawarat Working President Navaid Hamid welcomes SC Interim order on Waqf Amendment Act and termed it as a jolt for Government’s effort to usurp Waqf properties

New Delhi: 15 September, 2025 Mr. Navaid Hamid, the working president of All India Muslim Majlis e Mushawarat (AIMMM) the only confederation of prominent Muslim organisations and affluent Muslims in country, has welcomed the interim order of Supreme Court on the contentious Waqf Amendment Act and has termed it satisfactory apart from decisive blow to the unconstitutional provisions of Waqf Amendment Act enacted by the Modi government under the pretense of having a majority in Parliament. The judgement is also a reminder to BJP’s regional allies particularly Andhra Pradesh CM Chanderbabu Naidu and Bihar CM Nitish Kumar that supporting unconstitutional moves of BJP will bring embrassment to your politics of convenience for survival apart from being remembered as partners of the divisive agenda and even unconstitutional legislations. Mr. Navaid Hamid also reprimanded those ‘Muslim faces’ who were jumping to celebrate the Waqf Amendment Act and reminded them that the SC’s interim order has exposed their wisdom and understanding of the constitutional provisions. Mr. Navaid Hamid has reminded the proponents of the Waqf Amendment Act that the judgement has vindicated Muslims stand that the reforms in the Waqf provisions should be based on mutual consultations with real stake holders and as per the constitutional provisions and rights of the minorities as enshrined in the constitution. Mr. Hamid opined that Supreme court’s ruling for upholding the supremacy of the Waqf Tribunals in deciding the status of Waqf after nullifying provision for unbrilled role of collectors’ in the Act, the stayed provisions of nominations of non Muslims in Waqf Boards and limiting it to maximum.of three in it has vindicated muslim community’s concern about the vicious agenda of the government to usurp the Waqf properties in name of reforms. Mr. Navaid Hamid has also welcomed SC stay on the provision mandating five years of practising Islam for the creation of Waqf,l which was affront on the consitutional rights of the citizens. Mr. Navaid Hamid also expressed satisfaction that the Honorable Court has given a clear direction that the CEO of the Waqf Board will be a Muslim.
مشاورت کے کارگزار صدر نوید حامد نے وقف ترمیمی ایکٹ پر سپریم کورٹ کے عبوری حکم کا خیر مقدم کیا اور اس فیصلہ کو وقف املاک کو غصب کرنے کی حکومت کی کوششوں کو ایک جھٹکا قرار دیا۔

نئی دہلی :ملک میں ممتاز مسلم تنظیموں اور متمول مسلمانوں کی واحد کنفیڈریشن آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے کارگزار صدر جناب نوید حامد نے متنازعہ وقف ترمیمی ایکٹ پر سپریم کورٹ کے عبوری حکم کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے غیر آئینی ضوابط کے تحت مودی حکومت کے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہونے کے ضعم کے ذریعہ نافذ کردہ وقف ترمیمی ایکٹ کی غیر آئینی متنازعہ دفعات پر اسٹے لگا کر ان کے نفاذ پر روک لگانے کو مودی سرکار پر فیصلہ کن ضرب لگانے سے تعبیر کیا ہے۔ یہ فیصلہ بی جے پی کے علاقائی حلیفوں خاص طور پر آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندر بابو نائیڈو اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے لیے بھی ایک یاد دہانی ہے کہ بی جے پی کے غیر آئینی اقدام کی حمایت کرنا آپ کی اپنی بقا کی سہولت کی سیاست کے لیے شرمندگی کا باعث بنا ہے، اس کے علاوہ آپ کو تاریخ میں تقسیم کرنے والے ایجنڈے کے شراکت داروں کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ جناب نوید حامد نے ان ‘مسلم چہروں’ کی بھی سرزنش کی جو وقف ترمیمی ایکٹ کا جشن منانے کے لیے کود رہے تھے اور انہیں یاد دلایا کہ سپریم کورٹ کے عبوری حکم نے آئینی دفعات کے بارے میں ان کی دانشمندی اور سمجھ بوجھ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جناب نوید حامد نے وقف ترمیمی ایکٹ کے حامیوں کو یاد دلایا ہے کہ اس فیصلے نے مسلمانوں کے اس موقف کی توثیق کی ہے کہ وقف دفعات میں اصلاحات حقیقی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ باہمی مشاورت اور آئین میں درج اقلیتوں کے حقوق اور آئینی دفعات کے مطابق ہونی چاہئیں۔ جناب حامد نے رائے ہے کہ ایکٹ میں کلکٹر کے بے لگام انتظامی کردار کی شق کو سپریم کورٹ کے ذریعہ کالعدم قرار دینے کے بعد وقف کی حیثیت کا فیصلہ کرنے میں وقف ٹربیونلز کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے، متنازعہ قانون میں وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی نامزدگیوں کی شق کو کلعدم اور وقف بورڈ میں ان کی نمائندگی زیادہ سے زیادہ تین تک محدود کرنے کے فیصلہ سے حکومت کی اصلاحات کے نام پر وقف املاک کو ہڑپ کرنے کے ایجنڈے پر بھی کراری ضرب لگی ہے۔ جناب نوید حامد نے وقف کے قیام کے لیے پانچ سال تک اسلام پر عمل کرنے کی شرط کو سپریم کورٹ کے ذریعہ کالعدم قرار دئے جانے کا بھی خیر مقدم کیا ہے اور اس بات کی یاد دہانی کرائی ہے کہ یہ شق شہریوں کے آئینی حقوق پر ڈاکہ زنی کے مترادف تھی۔ جناب نوید حامد نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ معزز عدالت نے اپنے عبوری حکم نامہ میں واضح ہدایت دی ہے کہ وقف بورڈ کا سی ای او مسلمان ہوگا۔
