مشاورت کے سابق صدرنویدحامد’قائدملت ایورڈ‘کے لیے منتخب

قائدملت ایجوکیشنل اینڈسوشل ٹرسٹ(چنئی) کی ایوارڈ کمیٹی نے2024 کے اس باوقار قومی ایوارڈ کامستحق جان دیال کوبھی قرار دیا، ۵ لاکھ روپے کا یہ ایوارڈ2015ء سے ہرسال عوامی زندگی میں گرانقدر بے لوث خدمات کے لیے پیش کیاجاتاہے نئی دہلی:جنوبی ہندکے مشہوروباوقارادارہ قائدملت سوشل اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ(چنئی)نے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدرجناب نوید حامدکو  2024کا’قائد ملت ایوارڈ‘دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری ایم جی داؤدمیاں خان کی جاری کردہ اطلاع کے مطابق ملک کے مشہورسیاسی و سماجی رہنماقائد ملت محمداسماعیل مرحوم(بانی انڈین یونین مسلم لیگ) کی یادمیں قائم شدہ،5لاکھ روپے،سندتوصیفی اور ٹرافی پرمشتمل یہ ایورڈ 2015 سے ہرسال گرانقدربے لوث عوامی خدمات کے لیے دیاجاتا ہے۔اس بارمشہورماہرتعلیم ڈاکٹر وی وسنتی دیوی (سابق وائس چانسلر ایم ایس یونیورسٹی) کی زیر صدارت چاررکنی سلیکشن کمیٹی فارایوارڈنے نوید حامد اور جان دیال کو ایوارڈ کا مستحق قرار دیاہے جو ان کو اپریل میں ایک بڑے جلسہ میں پیش کیا جائیگا۔ قائدملت ٹرسٹ یہ ایوارڈ اس سے پہلے تیستا شیتلواڈ،آر نلاکنو، این سنکریا،سید شہاب الدین،مانک سرکار، حامد انصاری،ارونارائے،اے جی نورانی، ہرش مندر،بلقیس بانو(شاہین باغ کی دادی)، ڈاکٹر عرفان حبیب،تھری کے ویرامنی،دی وائر(ڈیجیٹل پورٹل)،این رام (دی ہندو)اورڈاکٹر ابو صالح شریف کو پیش کرچکا ہے۔ مشاورت کے قومی صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے اپنے پیشروجناب نوید حامد اور معروف صحافی وسماجی خدمت گارجناب جان دیال کو اس باوقار ایورڈ کے لیے منتخب کیے جانے پر سلیکش کمیٹی کے ارکان اور ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری ایم جی داؤد میاں خان کے لیے نیک خواہشات کے ساتھ انعام یافتگان کو مبارک باد پیش کی ہے۔ 1980ء کے اواخر سے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے لیے کام کرتے آئے، نویدحامد23جون1963ء کو دہلی میں پیداہوئے اوروہ سیاسی و سماجی زندگی میں اس وقت سے سرگرم عمل ہیں جب دہلی یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔2016ء سے2023تک وہ مشاورت کے صدر رہے ہیں اورفی الحال نائب صدر ہیں۔یوپی اے حکومت کے دور میں ان کا شمار ملک کے سب سے بااثرمسلم لیڈروں میں ہوتا تھا اور حکومت ہندنے ان کومسلسل دو میعاد(2004۔ 2014)کے لیے قومی یک جہتی کونسل کا رکن مقررکیا۔ساؤتھ ایشین کونسل فار مائنارٹیز(ایس اے سی ایم)کے بانی سکریٹری اور موومنٹ فار امپاورمنٹ آف مسلم انڈینس(MOEMIN)کے قومی جنرل سکریٹری کی حیثیت سے بھی انہوں نے گرانقدرخدمات انجام دی ہیں۔وہ2008ء میں نئی دہلی گلوبل مائنارٹیزمیٹ کے موقع پر18ملکوں کے مندوبین کی موجوگی میں گلوبل مائنارٹیز فورم فارجسٹس اینڈ پیس کے جنرل سکریٹری منتخب کیے گئے تھے۔2023-24 میں انہوں نے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور متعدد دلت، عیسائی اوردیگرمظلوم اقوام کی تنظیموں کو ساتھ لاکر ’وایلنس فری انڈیا‘مہم منظم کیا۔

جھارکھنڈ حکومت اور پریاگ کے مسلمانوں کے سیکولرزم اورانسانیت کی ستائش

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے یکساں سول کوڈ پر حکومت جھارکھنڈ کے موقف اور مہا کمبھ میں حادثے کے شکار ہندؤوں کی مدد پرمقامی مسلمانوں کو ملک وقوم کا سچاخیرخواہ بتایا    نئی دہلی:مہا کمبھ کے دوران پیش آئے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے کہاہے کہ یہ سانحہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے بلکہ پوری قوم کے لیے دکھ اور افسوس کا باعث ہے۔ مشاورت کے قومی صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہم ان تمام مسلمانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے فرقی پرستی اور نفرت و عداوت کے اس ماحول میں جس پر دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیاگیا، اپنے مذہب، ذات اور فرقے سے بالاتر ہو کر حادثے کے شکار ہندو یاتریوں کی بے لوث مدد کی۔ زخمیوں کو اسپتال پہنچانے، بھوکوں کو کھانا کھلانے اور خوفزدہ افراد کو تسلی دینے اور ان پر اپنے گھروں کے دروازے کھول دینے میں جس جذبہئ ہمدردی اور انسانیت نوازی کا مظاہرہ کیا گیا، وہ ہمارے قومی یکجہتی اور بھائی چارے کی روشن مثال ہے۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کا ماننا ہے کہ ملک میں مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کو مزید فروغ دیا جانا چاہیے۔ ہم تمام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ انسانیت کو اولین ترجیح دیں اور ہر مصیبت زدہ کی بلا تفریق مدد کریں۔  مشاورت نے جھارکھنڈ اسمبلی کی جانب سے یکساں سول کوڈ (UCC) اور وقف ترمیمی بل پرلیے گئے دانشمندانہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ریاست کے معزز وزیر اعلیٰ، قانون ساز اسمبلی، حکمراں جماعت اور پوری حکومت کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا کہ ہم ان کو ملک کے آئین و قانون اور جمہوری اقدار کے دفاع کے لیے اٹھائے گئے اس قدم پردل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور مشاورت کے صدر فیروز احمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ قرارداد ملک کی تکثیریت، گنگا جمنی تہذیب اور آئینی حقوق کی پاسداری کی عکاس ہے۔ جھارکھنڈ حکومت نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ دستورِ ہند کے بنیادی اصولوں، اقلیتوں کے مذہبی اور ثقافتی حقوق کے تحفظ کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے۔ یہ قدم صرف مسلمانوں ہی نہیں، بلکہ ملک کے ہر انصاف پسند شہری کے لیے امید کی کرن ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت تمام ریاستی حکومتوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ جھارکھنڈ کے اس جمہوری عمل سے سبق لیتے ہوئے ملک کے تنوع اور آئینی حقوق کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ہم جھارکھنڈ کے عوام کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں، جنہوں نے اپنی حکومت کو ایسا مضبوط موقف اختیار کرنے کاحوصلہ بخشا۔ صدر مشاورت نے ریاست کے وزیراعلی ہیمنت سورین کے نام اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ جھارکھنڈ حکومت آئندہ بھی ملک میں مساوات، انصاف اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے ایسے فیصلے لے کر ایک مثالی ریاست بننے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

اقلیتی امور اور اقلیت کی تعلیمی بہبود کے بجٹ میں تخفیف پر اظہار تشویش

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے مرکزی بجٹ کو اقلیتوں کے لیے مایوس کن بتایا نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے مرکزی بجٹ کو ملک کی اقلیتوں کے لیے مایوس کن اور بی جے پی کے سیاسی مقاصد سے متاثر کہا ہے۔ مشاورت کے قومی صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے بجٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتوں کی تعلیمی بہبود کے لیے مختص رقوم میں بھاری تخفیف اور اقلیتی امور کے بجٹ میں اعدادو شمار کا کھیل اور ہاتھ کی صفائی سے کام لینا انتہائی مایوس کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے اس عمل سے سماج میں انتہائی بد بختانہ پیغام جائیگا اور بی جے پی کا مقصد بھی یہی ہے۔واضح رہے کہ مرکزی بجٹ میں وزارت اقلیتی امور کے لیے مالی سال 2025-26 میں 3,350 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ2024-25 کے بجٹ تخمینہ 3,183.24 کروڑ روپے کے مقابلے میں صرف پانچ فیصد اوپر ہے۔ مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ ریاستوں کو دی جانے والی گرانٹس میں تقریباً 1,000 کروڑ کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے لیکن یونین ٹریٹریزحکومتوں کو دی جانے والی گرانٹس کو30.06 کروڑ سے کم کر کے10.06 کروڑ کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح قبائل، خواتین اور سماجی بہبود کے بجٹ میں 35 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ اقلیت کی تعلیمی بہبود کے بجٹ میں ایک بار پھر بھاری کٹوتی کی گئی ہے۔ 2024-25میں مائناریٹی ایجوکیشنل ویلفیئر کے بجٹ کو کم کر کے صرف ایک ہزار پانچ سو بہترکروڑ کردیا گیا تھا جو اس بارصرف 678.03 کردیا گیا۔ اسکولی طلبہ و طالبات کے لیے اسکالرشپس، مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ، فری کوچنگ اور تعلیمی قرضوں کے سود پر سبسڈی اقلیتی تعلیمی بہبود کے بجٹ میں شامل ہیں اور حکومت کا یہ رویہ اقلیت کے بچوں کی تعلیمی ترقی کو متاثر کریگا۔ حکومت نے مرکزی سکیموں اور منصوبوں کے لیے فنڈز میں بھی کٹوتی کی ہے جن میں ہنر کی ترویج و ترقی، روزگار، اقلیتوں کے لیے خصوصی پروگرام اور وزیراعظم وراثت وکاس اسکیم شامل ہیں۔2024-25میں ان کے لیے بجٹ 2,120.72 کروڑ تھا، جو کہ 2024-25میں گھٹا کر1,237.32 کروڑ کردیا گیا ہے۔ جبکہ2025-26 میں، پردھان منتری جن وکاس پروگرام کے لیے فنڈز میں ایک بڑا اضافہ کیا گیا ہے۔ 2024 میں اس کا بجٹ 910 کروڑ تھا اور اب یہ بڑھ کر 1,913.97 کروڑ ہو گیا ہے۔ اقلیتوں کی ترقی کینام پر علاقائی ترقی کے پروگراموں کے لیے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاسکے۔

سنبھل کی شاہی جامع مسجدپرحملہ اور مسلم نوجوانوں کا قتل فاشزم کا ننگا ناچ، مجرموں کو بخشاگیاتواچھا نہ ہوگا

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کایوپی کی یوگی سرکار کو برخاست کرنے، مقتولین کو فی کس ایک کڑور روپے معاوضہ دینے اور واردات کی اعلیٰ سطحی عدالتی جانچ کرانے کا مطالبہ    نئی دہلی: سنبھل میں شاہی جامع مسجد کے سروے کی آڑمیں سرکاری دہشت گردی کاجو ننگاناچ کیاگیا،وہ کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ پانچ بے گناہ مسلم نوجوانوں کو یوپی پولیس نے جس طرح گولیوں کا نشانہ بناکر موت کے گھاٹ اتار دیا،وہ انتہائی المناک اورناقابل برداشت ہے۔مجرموں کو کسی بھی قیمت پر بخشانہیں جانا چاہیے۔یہ مطالبہ ملک کی مؤقر مسلم تنظیموں کے وفاق آل انڈیامسلم مجلس مشاورت نے کیاہے۔صدرمشاورت فیروز احمد ایڈو کیٹ نے اپنے شدید ردّعمل میں کہاہے کہ مقتولوں کو فی کس ایک کروڑ روپے معاوضہ ادا کیا جائے اورواردات کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کراکے ذمہ داروں کو قرارواقعی سزا دی جائے۔مشاورت کے صدرفیروزاحمد ایڈوکیٹ نے صدرجمہوریہ سے اترپردیش کی یوگی سرکار کو فی الفور برخاست کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حکومت کے اقتدار میں رہتے ہوئے مظلوموں کو انصاف نہیں مل سکتاہے۔وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا مجرمانہ کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے،اقتدار ملنے کے بعد اس میں اوربھی اضافہ ہوگیاہے۔مشاورت نے غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوں تو پورے اترپردیش میں مسلمانوں کے خلاف حکومتی عملہ، پولیس اور پی اے سی کا جو طرزِ عمل ہے، وہ نفرت اور تعصب سے عبارت ہے لیکن پہلے بہرائچ اور اب سنبھل میں جو کچھ ہوا، یہ ایک آرگنائزڈ کرائم ہے۔انہوں نے کہاکہ یوپی کے مختلف علاقوں میں مساجد کے حوالے سے ماحول کو بگاڑااور نئے نئے تنازعات پیدا کرکے نفرت و عداوت کی فضا پیدا کی جاتی رہی ہے۔سنبھل کی جامع مسجد کو سرفہرست رکھ کر مسلم کمیونٹی کے خلاف حالات خراب کیے جارہے ہیں اور ناحق ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کرنے والے مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ اترپردیش کی بی جے پی سرکار مسلمانوں کو ایک فریق کے طور پر نشانہ بناکر ووٹوں کی صف بندی کرنے کی کھلی سازش کرارہی ہے۔ مشاورت صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ مسجد کا ایک بار سروے کرنے کے بعد پھر دوسری بار فوری سروے کرانے اور اسی دن اس کی رپورٹ پیش کرنے کا جو طرزعمل اختیار کیا گیا، وہ یقیناً ایک منظم سازش کا حصہ تھا۔ مسلمانوں کا غم وغصہ اور احتجاج عین فطری تھالیکن پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے یک طرفہ کارروائی اور نوجوانوں کے سینوں کو بندوق کی گولیوں سے سیدھانشانہ بنایا جو انتہائی بے رحمانہ اور بلاجواز کارروائی ہے۔اس کی جس قدر بھی مذمت کی جائے، وہ کم ہوگی۔ صدرمشاورت نے کہا کہ ریاستی حکومت، پولیس کے اعلیٰ اہلکاران اور زیریں عدالتیں بھی قانون کا دوہرا پیمانہ اپنا رہی ہیں جس سے ملک اور ریاست میں قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔مشاورت نے مطالبہ کیا ہے کہ مقتولین کے ورثاء کوفی الفورمناسب معاوضہ دینے اور سنبھل و اطراف امن وامان وشانتی کا ماحول بنانے کی حتی الوسع کوشش کی جائے۔مظلوموں کے زخموں پر مرہم نہ رکھا گیا تو اس کا انجام ملک و ملت کسی کے لیے بھی اچھا نہ ہوگا۔مشاورت نے اس کے لیے پہلی فرصت میں یوگی سرکار کو برخاست کرکیواردات کی غیرجانب دارانہ تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی عدالتی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی مانگ کی ہے۔

 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف اور آئین کی جیت

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے کہا کہ اقلیتوں کو ناروا قانونی لڑائی میں گھسیٹ کر ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے نئی دہلی: ملک کی مؤقر مسلم تنظیموں کے وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے سپریم کورٹ آف انڈیا کے اس تاریخی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے اقلیتی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے 1967 کے سید عزیز باشا مقدمہ کے فیصلے کو کالعدم کر دیا گیا۔ مشاورت کے صدر اور معروف قانون دان فیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ یہ آئین و انصاف کی جیت ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اب اقلیتوں کو ناروا قانونی لڑائی میں گھسیٹ کر ملک و قوم کی بہترین صلاحیتوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرقہ پرست عناصر ابے اپنے گریبانوں میں منھ ڈالیں۔ سپریم کورٹ کی سات رکنی آئینی بینچ نے جس کی سربراہی چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کر رہے تھے، عدالت کی اکثریتی رائے سے فیصلہ دیا کہ پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے قائم اداروں کا اقلیتی کردار ختم نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے عزیز باشا کیس میں سپریم کورٹ کے سابقہ موقف اور استدلال دونوں کو غلط قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ اس پر ایک نئی بنچ ہدایات تیار کرے گی۔ اب چونکہ سپریم کے اس فیصلے کی روشنی میں اب سپریم کورٹ کی نئی بنچ مسلم یونیورسٹی کے مقدمے کا فیصلہ کرے گی،مشاورت نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو جلد از جلد ہمیشہ کے لیے ختم کرے، قانون کی اس ناروا کشمکش کا سلسلہ کا سلسلہ بند ہونا چاہیے جس میں دہائیوں سے ہماری بیش قیمت توانائیاں ضیا ع ہورہی ہیں۔ صدر مشاورت فیروزاحمد ایڈو کیٹ نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ ملک میں صرف مذہبی اقلیتی ادارے ہی نہیں ہیں، لسانی اقلیتی اداروں کی بھی کثیر تعداد ہے اور ہندوؤں کے اقلیتی ادارے بھی ہزاروں کی تعداد میں ہیں لیکن مسلمانوں کی نفرت و عداوت میں گرفتار عناصر کی آنکھوں پر پٹیاں پڑی ہوئی ہیں۔  صدرمشاورت فیروز احمد ایڈوکیٹ نے میڈیا کے لیے جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بلکہ ملک بھر کے دیگر اقلیتی اداروں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے سے اقلیتوں کے تعلیمی ادارے قائم کرنے کے حق اور ان کے اقلیتی کردار کے تحفظ کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہے، جو ملک کے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ ابھی حتمی فیصلہ آنا باقی ہے اس لئے سپریم کورٹ میں پوری قوت اور حکمت عملی کے ساتھ اس لڑائی کو انجام تک پہونچانے کی ضرورت ہے۔

 مشاورت نے مدرسہ بورڈ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا

بی جے پی کی حکومتیں دینی مدارس کو ہراساں کرنابندکریں: فیروزاحمدایڈوکیٹ نئی دہلی: اترپردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈکوالٰہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعے غیرآئینی قراردئے جانے کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ فرقہ پرست فاشسٹوں کے لیے سبق آموزہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اس کا خیرمقدم کرتی ہے۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب بی جے پی کے زیراقتدار ریاستوں میں مدارس اسلامیہ کوطرح طرح سے ہراساں کیاجارہاہے۔ ان خیالات کا اظہارمنگل کو یہاں ملک کی مسلم تنظیموں اور ممتازشخصیتوں کے وفاق(مشاورت) کے صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کیا، انہوں نے کہاکہ بی جے پی کی حکومتیں اورسرکاری ایجنسیاں مدارس کو ہراساں کرتی ہیں اوراس سے حوصلہ پاکر فرقہ پرست عناصربھی دینی مدارس کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، الٰہ آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھاجس میں کہا گیا تھا کہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ غیرآئینی ہے۔واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بچوں کو دینی تعلیم و تربیت دینا کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہے۔عدالت نے بڑی وضاحت کے ساتھ کہا ہے کہ سیکولرزم کا مطلب ہے ”جیو اور جینے دو“۔ اس سے ہندوستان کے تکثیری معاشرے میں متنوع تعلیمی نقطہ نظر کے ساتھ بقائے باہمی کے اصولوں اور ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔ اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدرسہ ایکٹ ریاست کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے، لہٰذا اس میں تعلیم کو معیاری بنانا اور طلبا کو اس قابل بنانا کہ ان میں سماجی اور معاشی سطح پر شراکت داری کی اہلیت پیدا ہو، حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ سپریم کوٹ نے آرٹیکل 21 اے اور رائٹ ٹو ایجوکیشن کو مذہبی و لسانی اقلیتوں کے حقوق سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ مدارس اپنے مذہبی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے سیکولر تعلیم دے سکتے ہیں۔    آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈو کیٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مدارس میں زیر تعلیم بچوں کی اکثریت خط افلاس کے نیچے جینے والوں کی ہے اور یہ مدارس بلاتفریق سب کوفری تعلیم دیتے ہیں، ملک کی شرح خواندگی میں ان کاگرانقدرتعاون ہے، حکومت اترپردیش غیررسمی جزوقتی دینی درسگاہوں کوبھی مدارس میں شمار کرکے سنسنی پھیلاتی آئی ہے، مدارس کی سرگرمیوں  میں مداخلت آئین و قانون کے منافی ہے،مسلمانوں کے آئینی حقوق، مذہبی آزادی،تعلیمی خودمختاری اوربچوں کی ہمہ گیرنشوونما کوپامال کر نے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جاسکتی۔ مدارس کو انکوائری کے نام پر ہراساں کیا جانا بھی ملک اور سماج کے مفادات کی پامالی ہے۔حق تعلیم ایکٹ مرکز اور ریاستوں کو بچوں کی پسند کے تعلیمی اداروں میں ہی معیاری تعلیم مہیا کرانے کا پابند بناتاہے اوراس قانون میں دینی مدارس کو تحفظ حاصل ہے اور یہ مدارس ملک کے ایک کروڑ سے زائداورریاست اترپردیش کیلاکھوں بچوں کی تعلیم کا بوجھ اٹھاتیاوریہ ملک کی شرح خواندگی میں گرانقدرتعاون کرتے ہیں۔