امت مسلمہ آج سے بھی زیادہ شدید حالات سے نبر د آزما رہی ہے: قاسم رسول الیاس

علامہ سید سلیمان ندویؒ کے خطباتِ مدراس کی اشاعت کے 100 سال *ہمیں جینے کا حوصلہ رکھناہےاور بحث میں نہیں الجھناہے: ڈاکٹر سید فاروق*مسائل پرغورو فکر اور حل کی تلاش کا بہتروقت یہی ہے : مفتی رضی الاسلام ندوی * آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت میں تجدید فکرو نظر کی ایک صدی اور صورت حال کے موضوع پر قومی کانفرنس* ملک و ملت کے مسائل پرسنجیدہ غورو فکر*علما و دانشوران نے فکر انگیز مقالے پیش کیے نئی دہلی: اسلام اور پیغمبراسلامﷺ کے تعلق سےمعاندین اسلام جو شکوک و شبہات مسلمانوں یا غیر مسلموں کے دل ودماغ میں پیدا کر رہے ہیں،انہیں سنجیدگی، متانت اور تحقیق کے ساتھ دور کیاجانا چاہیے ۔اس خیال کااظہار اتوار کو یہاں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ایک قومی کانفرنس میں ملک کے معروف عالم دین ، محقق ، مصنف اور دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ کے استاد حدیث و فقہ مولانا عتیق احمد بستوی نے کیا۔وہ علامہ سید سلیمان ندویؒ کے خطباتِ مدراس کی اشاعت کے 100 سال مکمل ہونے پر”تجدیدِ فکر و نظر کی ایک صدی اور موجودہ صورتِ حال” کے عنوان سے کانفرنس کا کلیدی خطبہ پیش کر رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ علامہ سید سلیمان ندوی ؒ نے جس ماحول اور پس منظر میں اورجن مقاصد کے لئے خطبات مدراس پیش کئے تھے ، اس کے پیش نظر اس بات کی اہم ضرورت تھی اور ہے کہ اس طرح کے خطبات نہ صرف ایک بار اور ایک ہی بڑے شہر میں پیش کئے جاتے بلکہ ہر اہم اور بڑے شہروں میںہی نہیں متوسط شہروں اور قصبات میں بھی کم از کم سال بہ سال ایسے مؤثر اور فکر انگیر خطبات مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سامنے پیش کئے جاتے جبکہ کانفرنس کے مہمان خصوصی ،آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی سپریم گایڈنس کونسل کے سینئر رکن ڈاکٹر سید فاروق نے کہا کہ ہم کو محبت اور بھائی چارے سے جیناسیکھنا ہے۔ یہ بات خود رسول اللہ ﷺ نے سکھائی۔انہوں نے کہا کہ جب انسان کابچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ روتا ہے اور ہم نے بھی یہی سنا ہے کہ وہ روتا ہے لیکن یہ غلط ہے۔ بچہ روتا نہیں بلکہ وہ پکارتا ہےاور صرف انسان کا بچہ پکارتا ہے۔ جانور کابچہ خاموش پیدا ہوتا ہے۔ہمیں سمجھنا ہوگاکہ انسان کی فطرت میں اچھائی ہے، ایک دوسرے کی پکارہے۔ امن سے رہنا اور ایک دوسرے کی فکر کرناانسان کی فطرت ہے۔ ہمیں جینے کا حوصلہ رکھناہےاور بحث میں نہیں الجھناہے۔وہ کانفرنس افتتاحی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔اجلاس کے صدارتی خطبہ میںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان اور مشہور صحافی و دانشور ڈاکٹر سید قاسم رسول الیا س نےکہا کہ اس وقت کہا جا رہا ہے کہ ہم ایک بڑے شدیددور سے گزر رہے ہیں لیکن پچھلے صدی پر نگاہ ڈالیں تو ہم ا س سے بھی سخت حالات سے نبرد آزما رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ امت  اس طرح کے حالات سے اکثر و بیشتر گزرتی رہی ہے۔ اسلام کی دعوت کے مقابلے پر طرح طرح کے دعوتیں ابھرتی رہی ہیں ۔ضرورت حالات سے گھبرانے اورمایوس ہونے کی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے سنجیدگی اور صبرو استقامت سے حالات کا مقابلہ کیا تو اس کا حل بھی نکلے گا اور حالات بھی بہتر ہوں گے لیکن مشکل یہ ہے کہ جس قوم کو ہزارہاگروہوں میں بانٹ کر رکھا گیا تھا وہ متحد ہو رہی ہے اور ہم انتشار کا شکار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کام کا شعبہ صرف سیاست نہیں ہے، فیصلہ سازی میں آج سول سوسائٹی کازیادہ اہم اور مؤثررول ہے لیکن اس میں ہندوستانی مسلمانوں کا کوئی رول نہیں ہے ۔ ملک کی تعمیر نو کے لیے مسلمانوں کو آگے بڑھنا چاہیےجبکہ خطبہ افتتاحی کلمات پیش کرتے ہو ئے کانفرنس کے کنوینر اور مشاورت کے سینئر رکن پروفیسر اخترالواسع نے علامہ سید سلیمان ندوی کی عہدساز خدمات پر روشنی ڈالی اور خطبات مدارس کو ایک تاریخ ساز واقعہ بتایا۔ اس سے قبل مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ ملت کی ساری تنظیموں اور ہر مکتبہ فکر کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے ۔ اجلاس کا افتتاح مولانا محمد اظہر مدنی نے آیات قرآن پاک کی تلاوت اور ترجمے سے کیا۔اجلاس سےانسٹی ٹیو ٹ آف آبجیکٹیو اسٹیڈیز کے چیئرمین پروفیسر محمد افضل وانی اور مشاورت کے سینئر رکن مشہور اسلامی اسکالر اور سیاست داں پروفیسر بصیر احمد خاںنے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی کے صدر مفتی ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی نے عہد حاضر کے سنگین مسائل اور ان کا حل کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علامہ سید سلیمان ندوی ؒ کو یاد کیا جانا اور ان کی معرکہ آرا تصنیف خطبات مدراس کے 100 برس مکمل ہونے پر علمی مجلس کا انعقاد ایک بہت خوش آئند قدم ہے ۔انھوں نے عہد حاضر کے پانچ سنگین مسائل، پہلا مسئلہ الحاد اور انکار خد ا ، دوسرا اخلاقی بحران ،تیسر ا خاندانی نظام کا انتشاور ،چوتھا معاشی نا انصافی اور پانچواں سماجی فتنہ و فساد پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ خطبات مدراس کے 100 بر س مکمل ہونے پر ان مسائل پر غورو فکر کیے جانے سے زیادہ مناسب اور ضروری دوسری بات نہیں ہو سکتی ہے،جبکہ اپنے صدارتی خطاب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر شعبہ اسلامیات و ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹی پروفیسر اقتدار محمد خاں نے زور دیا کہ مسائل سے الجھنے کے بجائے ہمیں اپنی اصلاح اور مستقبل کی تعمیر و ترقی پر توجہ دینی چاہیے انھوں نے کہا کہ نئی نسل کو مایوسی اور انتشار فکرو نظر سے بچانے کی فکر کرنی ہوگی ۔ واضح رہے کہ افتتاحی اجلاس کے بعد کانفرنس کے تین اجلاس میں 15مقالے پیش کیے گئے ۔پہلے اجلاس کی صدارت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے صدر شعبہ سنی دینیات پروفیسر راشد اصلاحی   نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مولانا شمس تبریز قاسمی نے انجام دیے۔ مقالے پیش کرنے والوں میں ڈاکٹر جاوید جمیل ، مولانا شیخ محمد اظہر مدنی ،ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی (الہٰ آباد)،دوسرے اور تیسرے اجلاس کی صدارت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدرشعبہ اسلامیات و ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹی پروفیسر اقتدار محمد خاںنے کی ، اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر

شاہدصدیقی نے اس فرض کو ادا کیا ہے جو ہم سب پر قرض تھا:پروفیسر اخترالواسع

مسلم مجلس مشاورت میں صحافی و سیاستداں شاہدصدیقی کی کتاب’آئی وٹنس‘ پر مذاکرہ، حالات کی سنگینی پربحث،پڑوسی ممالک میں بڑھتی فرقہ پرستی پربھی تشویش کا اظہار، اقلیتوں کی بین الاقوامی کانفرنس بلانے کی تجویزبھی زیربحث آئی نئی دہلی25جنوری (پریس ریلیز): شاہدصدیقی نے آئی وٹنس(میری آنکھوں دیکھی) لکھ کر اس فرض کو ادا کیا ہے جو ہم سب پر قرض تھا۔ اس خیال کا اظہار ہفتے کو یہاں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت میں شاہد صدیقی کی کتاب پر مذاکرہ کے دوران مشہور اسلامی اسکالر پروفیسر اخترالواسع نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ حالات کی سنگینی کا رونا روتے ہیں لیکن ہم حالات سے مایوس نہیں ہیں۔جو امت کربلا کے بعد ختم نہیں ہوئی، سقوط بغداد کے بعد  ختم نہ ہوئی، 1857کے بعد بھی باقی رہی اور1992کے بعد بھی باقی ہے، وہ آئندہ بھی زندہ رہے گی جبکہ زیربحث کتاب ”آئی وٹنس: انڈیا فرام نہروٹو نریندر مودی“کے مصنف سینئر صحافی و سیاستداں شاہد صدیقی نے کہا کہ اس وقت پورے ساؤتھ ایشیابلکہ دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی اقلیتیں خطرات میں گھری ہوئی ہیں،ان کو ظلم و زیادتی اور نفرت و عداوت کا سامنا ہے لیکن مایوس ہونے کے بجائے اسی عزم و ہمت اور حکمت ودانائی سے حالات کا سامنا کرنا ہوگاجس سے تحریک آزادی کے دوران اور اس کے بعد ہمارے بزرگوں نے کام لیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں اپنے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش، پاکستان اور خطہ کے دوسرے ملکوں کی اقلیتوں کے ساتھ بھی کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو اقلیتوں کے حقوق اور ان کے ساتھ انصاف کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانے کا مشورہ بھی دیا۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ اقلیتوں کی لڑائی سیاسی جماعتیں نہیں، سماجی تنظیمات لڑتی ہیں۔کتاب کے مواد کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ میری خوش قسمتی ہے کہ ان کرداروں کو زیادہ قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے مواقع ملے اور ایسے بہت سے واقعات کا گواہ ہوں جنھوں نے ملک کی سیاست اور سماج کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروز احمدایڈوکیٹ نے اپنے صدارتی کلمات میں یقین دہائی کرائی کہ شاہد صدیقی صاحب کا مشورہ قابل عمل ہے اور مشاورت اس پر پوری سنجیدگی سے کام کریگی۔انہوں نے زور دیا کہ سیکولرزم ہی اس ملک کا مستقبل ہے جبکہ مشاورت کے سابق صدر نوید حامدنے حالات کی سنگینی کو تاریخ کی روشنی میں دیکھنے پر زور دیتے ہوئے زیربحث کتاب کو ایک گرانقدر دستاویز بتایا۔ اس سے قبل کتاب کے مندرجات کے حوالے سے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مرکز برائے سماجی وسیاسی شمولیت کے استاد ڈاکٹر مجیب الرحمٰن نے نئی نسل کو متوجہ کیا کہ یہ ایک قابل مطالعہ کتاب ہے جس سے ہندوستان کی سیاست، سماج اور اس کی باریکیوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے بعض نکات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے اپنامطالعہ بھی شیئر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی تخلیق کا سہرا اندرا گاندھی کے سر باندھا جاتا ہے لیکن اس کے اصل آرکیٹکٹ ششانک بنرجی تھے جن کو یہ ذمہ داری اندراجی سے بہت پہلے پنڈت نہرو نے سونپی تھی۔  مذاکرے کے تعارفی کلمات مشاورت کے جنرل سکریٹری احمد جاوید نے پیش کیے۔وہی مذاکراے کی نظامت بھی کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حال  کے برسوں میں کئی خود نوشتیں منظر عام پر آئی ہیں جن میں وی پی سنگھ سے منی شنکر ایر تک کی کتابین شامل ہیں لیکن اپنے مواد، اسلوب اور واقعات کی توجیہ کی وجہ سے آئی وٹنس ان سب پر سبقت لے گئی، سال کی بیسٹ سیلر اورسب سے زیادہ زیربحث کتاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہد صدیقی ہندوستانی مسلمانوں کی اس نسل کے نمائندہ ہیں جو آزادی کے بعد پیدا ہوئی اور ان نشیب و فراز کو بہت قریب سے دیکھا اور آزمائشوں کا سامنا کیاجن سے گذر کر آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے نئی نسل کی جانب سے حاضرین کو یقین دلایا کہ ہم نہ مایوس ہیں نہ شکست ماننے والے ہیں۔ ہمارے بہت سے نوجوان آج بھی اسی پامردی کے ساتھ آزمائشوں کا سامنا کررہے ہیں اورجیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہیں جو ہماری روشن تاریخ کا حصہ ہے۔ مذاکرے میں کثیر تعداد میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ارکان، دیگر اہل علم و دانش، سماجی و سیاسی کارکنان اور میڈیا کے نمائندے شریک تھے جن میں پروفیسر بصیراحمدخاں، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس، ڈاکٹر عارف اقبال، ڈاکٹر ادریس قریشی(صدر، دہلی مسلم مجلس مشاورت)،سیدشرف ایڈوکیٹ، اسلم احمد جمال ایڈوکیٹ، سردار گربچن سنگھ، ڈاکٹر سید اویس، ڈاکٹر ایس ایم مکرم، پروفیسر جی ایم بھٹ، ڈاکٹر سعدیہ، مولانا مقصود الحسن قاسمی، شفیق الحسن اورمشاورت کے جنرل سکریٹری شیخ منظور احمد،ڈاکٹر اقبال احمد، محمد معیز قدوائی، نوراللہ خان،محمداشرف بستوی،محمد اختر (ریٹائرڈ، ڈپٹی ایس پی)، انجینئر محمد نافس، انجینئر سہیل اجمیری اور دیگر معززین شامل رہے۔       

ممتاز صحافی پرواز رحمانی کا انتقال ملک و ملت کا ناقابل تلافی نقصان:مشاورت

نئی دہلی:آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ممتاز صحافی پرواز رحمانی کے انتقالِ پُرملال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی ہے۔ ان کا انتقال اردو صحافت بالخصوص ملت کے فکری و صحافتی حلقوں کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشاورت کے صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ نے جماعت اسلامی ہند کے ترجمان سہ روزہ دعوت کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کے انتقال پر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم ایک باوقار، سنجیدہ اور اصول پسند صحافی تھے۔ انہوں نے اپنے طویل صحافتی سفر میں قلم کو امانت، خبر کو ذمہ داری اور صحافت کو سماجی و اخلاقی فریضہ سمجھا۔ اخبار دعوت کی ادارت کے دوران انہوں نے حق گوئی، فکری توازن اور ملت کے اجتماعی مسائل کو باوقار انداز میں اجاگر کرنے کی روشن روایت قائم کی۔ ان کی تحریروں میں نہ اشتعال تھا نہ سطحیت، بلکہ بصیرت، درد مندی اور ذمہ دارانہ اظہار نمایاں تھا۔ مشاورت مرحوم کی صحافتی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے اردو صحافت کو محض اطلاع رسانی کا ذریعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے فکری رہنمائی اور سماجی شعور بیدار کرنے کا مؤثر وسیلہ بنایا۔ انہوں نے جن نوجوانوں کی تربیت کی وہ ان کے بعد بھی اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جاتی رہے گی۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت مرحوم کے اہل خانہ، رفقائے کار، ادارہ دعوت کے وابستگان اور تمام اہل صحافت سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی حسنات کو قبول کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ

آج کی سب سے بڑی ترجیح ملک میں جمہوریت کی واپسی ہے

’عالمی یوم حقوق اقلیت‘ کے موقع پر دہلی مسلم مجلس مشاورت کے سیمینار سے مختلف مذاہب کے رہنماؤں کا خطاب ،انصاف کے لیے متحد ہوکرلڑنے کے عزم کا اعادہ، ہندو تو کے نشانے پر مسلمان لیکن سب سے زیادہ دلتوں کا نقصان،اقلیتوں کا ڈر دکھا کر دلتوں کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں لیکن دلت لیڈران  ان کی گود میں کھیل رہے ہیں: فیروز احمد ایڈوکیٹ، حقوق کا تحفظ تو جمہوریت کی بقا میں ہے: پی آئی جوس، جس کمیونٹی نے چھ سو ستر سال ملک پر حکومت کی، وہ اقلیت میں کیوں آگئی؟ : پروفیسر رتن لال، ملک کی آزادی کے لیے قربانیاں ہم نے دیں، ہم ہی پھر قربانیاں دیں  گے: سردار دیا سنگھ روزنامہ قومی بھارت، نئی دہلی بتاریخ: 21 دسمبر،2025

آج کی سب سے بڑی ترجیح ملک میں جمہوریت کی واپسی ہے

’عالمی یوم حقوق اقلیت‘ کے موقع پر دہلی مسلم مجلس مشاورت کے سیمینار سے مختلف مذاہب کے رہنماؤں کا خطاب ،انصاف کے لیے متحد ہوکرلڑنے کے عزم کا اعادہ، ہندو تو کے نشانے پر مسلمان لیکن سب سے زیادہ دلتوں کا نقصان،اقلیتوں کا ڈر دکھا کر دلتوں کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں لیکن دلت لیڈران  ان کی گود میں کھیل رہے ہیں: فیروز احمد ایڈوکیٹ، حقوق کا تحفظ تو جمہوریت کی بقا میں ہے: پی آئی جوش، جس کمیونٹی نے چھ سو ستر سال ملک پر حکومت کی، وہ اقلیت میں کیوں آگئی؟ : پروفیسر رتن لال، ملک کی آزادی کے لیے قربانیاں ہم نے دیں، ہم ہی پھر قربانیاں دیں  گے: سردار دیا سنگھ نئی دہلی : حقوق کے تحفظ کے لیے ملک جمہوریت کوواپس لانا ہوگا۔ جب تک قانون کی حکمرنی نہیں ہے اور عدالتیں ٹھیک سے کام نہیں کرتیں، اقلیتیں کیا کسی کے حقوق محفوظ نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں عالمی یوم حقوق اقلیت کے موقع پر دہلی مسلم مجلس مشاورت کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے حقوق انسانی کے سرکردہ کارکن، مشہور عیسائی رہنما اور سپریم کورٹ کے وکیل پی آئی جوش نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج لاکھوں لوگ کنٹریکٹ پر کام کررہے ہیں۔ ان غریبوں کی آئندہ نسل کا کیا بنے گا، کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ہمیں اپنی ترجیحات تبدیل کرنا ہوں گی اور آج کی سب سے بڑی ترجیح جمہوریت کی واپسی ہے۔ انہوں نے اس پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری کھاتے سے ایک ڈرائیور کو پندرہ ہزار جاتا تھالیکن اس میں سے صرف 3 ہزار روپے اسے ملتا تھا۔جبکہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ اقلیتوں کا ہوا کھڑا کرکے سب سے زیادہ  دلتوں کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ دلت لیڈران  ان کی گود میں کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  اقلیتوں کی نمائندگی اور ان کے ووٹ کی طاقت کو کمزور کرنا  ہندوستان کے ماتھے کا داغ بن گیا ہے جبکہ دنیا میں ان ہی ملکوں کو زیادہ جمہوری مانا جاتا ہے جہاں اقلیتوں کے حقوق زیادہ محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ یہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ملک کا مفاد کیا ہے لیکن اسٹیٹ اسپانسرڈ وائلنس (ریاستی تشدد) ملک و قوم کے لیے سب سے زیادہ نقصان کا باعث ہے۔ ایک شخص ہندو راشٹر کے نعرے کے ساتھ پد یاترا چلا رہا ہے لیکن سرکاریں اور سرکاری ایجنسیاںکیا کررہی ہیں۔ انہوں نے حکومت کے دوہرے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسمرتی ایرانی دو دو پین کارڈ لے کر گھوم رہی ہیں،بہار کا ڈپٹی چیف منسٹر فرضی برتھ سرٹیفکیٹ اور فرضی ڈگریاں استعمال کر کیقانون کو چکمہ دیتا ہے لیکن کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی، سزائیں صرف اعظم خاں اور عبداللہ اعظم کو سنائی جاتی ہیں۔ اس سے قبل دہلی یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے استاد ڈاکٹررتن لال نے سمینار کا کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ہندوستان میں اقلیتوں کے مسائل پرسنجیدہ سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ چھ سو ستر سال جس کمیونٹی نے حکومت کی، وہ اقلیت میں کیوں آگئی؟ انہوں نے کہا کہ مسلم حکمرانوں نے سماجی اسٹرکچر کو بدلنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بجائے طاقتور طبقوں سے سمجھوتہ کیا۔انہوں نے کہا کہ بادشاہوں نے یہاں بڑے بڑے قلعے،عالی شان عمارتیں اورمحلات بنوائے ان کی اولادکہیں نظر نہیں آتیں لیکن جو ان کے درباری اور منصب دار تھے، محلات، قلعوں، ڈیوڑھیوں اور پانچ ستارہ ہوٹلوں کے مالک ہیں۔انہوں نے دلتوں کی سادہ لوحی ذکر کرتے ہوئے مسلم قیادتوں پر زور دیا کہ وہ دلت مسلم اتحاد کے لیے کام کریں۔ انہوں نے دلتوں پرنظام حیدر آباد کے احسانات کی یاد دلائی اور بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی مدد میں جس فراخ دلی سے نظام حیدرآبادنے کام لیا، اسی کشادہ قلبی سے  ملک کے مسلمانوں کو آج بھی کام لینے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ جس اشرافیہ نے ملک کی 85 فیصد آبادی کو پہلے غلام بنا رکھا تھا، اسی نے آج بھی ان کو محکوم بنا رکھا ہے اور ان کے تسلط سے سب کو مل کر آزادی حاصل کرنا ہوگا۔  آل انڈیا پیس مشن کے صدرسردار دیا سنگھ نے کہا کہ مشہور مجاہد آزادی سردار حکم سنگھ کہتے تھے کہ جنگ آزادی میں گاندھی جی کے ساتھ سکھ اور مسلم ہی کھڑے ہوئے، آزادی کے لیے  قربانیاں انہوں نے ہی دیں اور جب تک سکھ اور مسلم اس ملک میں ہیں، اس دیش کی آزادی اور سیکولرازم کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ضرورت ہے ہم سب کے ایک ہونے کی۔  انھوں نے کہا کہ سنگھرش مل کر کرنا پڑیگا۔یہ ملک ہمارا ہے اور اس کو ہم ہی بچائیں گے۔ سیمینار کا آغاز مولانا اظہر مدنی کی تلاوت کلام پاک سے اور اختتام دہلی مسلم مجلس مشاورت کے صدر ڈاکٹر ادریس قریشی کے کلمات تشکر پر ہوا۔ انہوں نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ حکومت کو اپنی آنکھ کان کھولنا اور سننا دیکھنا چاہیے کہ یہ کہتے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے صدر اجلاس فیروز احمد ایڈوکیٹ، یامین قریشی، مشتاق احمد،عبد الرشیداور سید منصور آغا کے ہاتھوں مہمانوں کو مومنٹو اور شال پیش کیا۔

Resolution on Waqf Passed in the Joint meeting of the General Body and National Executive held on 27 September-2025 at New Delhi

Whereas Therefore, this General Meeting of AIMMM resolves as follows: On the Interim Ruling and the Waqf (Amendment) Act On Protection and Empowerment of Waqf Boards On Constitutional Safeguards and Minority Rights Concluding operative: This General Meeting declares that the struggle to safeguard waqf is not only about property but about the religious identity, cultural survival, and constitutional rights of the Muslim community in India. AIMMM, in unity with all Muslim organizations, resolves to continue its peaceful, democratic, and legal struggle until the Waqf (Amendment) Act is repealed and a framework is established that truly protects the sanctity, autonomy, and survival of waqf in India. Proposed by: Mr. Feroze Ahmad (Advocate), President, AIMMM

Resolution on Special Intensive Revision (SIR) of Electoral Rolls Passed in the Joint meeting of the General Body and National Executive held on 27 September-2025 at New Delhi

Whereas Therefore, this Meeting of the All India Muslim Majlis-e-Mushawarat (AIMMM) resolves as follows: Resolved — Political action & solidarity: Conclusion This Meeting asserts that democracy is measured by the breadth of participation — not by administrative purging of voters — and AIMMM pledges to defend the constitutional right to franchise for every eligible citizen, with special focus on migrants, displaced persons, poor and illiterate communities who are at heightened risk during SIR exercises. Proposed by: Mr. Ahmed Jawed, General Secretary (Media), AIMMM

Resolution on Jammu & Kashmir and Ladakh Passed in the Joint meeting of the General Body and National Executive held on 27 September-2025 at New Delhi

The All India Muslim Majlis-e-Mushawarat, the umbrella body of Muslim representative organizations, expresses its deep concern at the continuing political and constitutional uncertainty in Jammu and Kashmir and the growing unrest in Ladakh. On Jammu and Kashmir: Mushawarat recalls with regret the unilateral decision of August 2019 to revoke the special constitutional status of Jammu and Kashmir and to dismember the historic state into two union territories. The Modi Government itself had assured the Supreme Court – the cluntry’s apex court and the country that statehood of J&K would be restored at the earliest. Mushawarat reminds the government that elections were held last year with great fanfare, and citizens of J&K came out in large numbers to cast their votes, despite years of alienation and suffocation, with the hope that their democratic participation would end the atmosphere of despair. Yet the elected chief minister of J&K today is rendered powerless, with real authority continuing to rest with the Union government. This practice undermines the very idea of representative government elected through democratic processes and risks shaking public confidence in counyry’s democratic institutions. The Mushawarat reminds the government that in past, the rigging of the 1987 elections had broken faith in the democratic process in the erstwhile state of J&K and pushed a generation towards militancy. While the recent elections were not marred by such malpractice, the post-poll denial of powers to the elected leadership is even more corrosive to faith in democracy. This situation must be rectified without any further delay. On Ladakh: The Mushawarat also notes with dismay the unrest in Ladakh, which was separated from Jammu and Kashmir in 2019 with promises of direct prosperity and special attention. At that time, Ladakhi Buddhists were led to believe that separation would guarantee economic growth and safeguard their identity. Today, however, those promises lie unfulfilled. It must be noted that according to the 2011 census, the region houses 46.40% Muslims and 36.65% Buddhists. The majority of Laddhakis were not in favor of seeking separate region from Jammu and Kashmir. Now, all Ladakhis—both Buddhists and Muslims—are united in voicing fears that their identity, land, and culture are under direct threat because of sinister games of political players in Delhi. The Mushawarat recalls and condemns the cynical attempt of the past to pit Buddhists against Muslims by sowing suspicion and hatred between communities. The reality today demonstrates that the dismemberment of Jammu and Kashmir has weakened all its regions, and the people of Ladakh, too, feel betrayed. Therefore, in light of the unfortunate developments mentioned above, the All India Muslim Majlis-e-Mushawarat demands: The Mushawarat reiterates that lasting peace in the region can only be secured through restoring trust, respecting democratic promises, and ensuring justice for all communities of Jammu, Kashmir, and Ladakh. Proposed byNavaid Hamid, Working President of AIMMM with inputs from Iftekhar Gilani – Member AIMMM and senior journalist.