AIMMM

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت پر قبضہ کرنے کی مذموم سازش کے جواب میں مکتوب بنام ارکان و ہمدردان مشاورت

آستینوں میں چھپالیتی ہے خنجر دنیا                                                                                                                                                 اورہمیں چہرے کا تاثر نہ چھپانا آیا ملک میں اپنی نوعیت کی واحدتاریخی تنظیم” آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت” کا قیام  1964 میں مسلم جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم کے طورپر جن حالات     میں ہوا تھا،آج ہمارے سامنے ان سےکہیں زیادہ مشکل حالات ہیں اورکسی ذی شعورمسلمان کو احساس دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اتحادویکجہتی کی قدروقیمت کیاہے۔پھربھی ہمیں مشاورت کے معزز ارکان کو یہ خط لکھنا پڑرہا ہےجوانتہائی تکلیف دہ ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر اور سابق رکن ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں صاحب نےارکان مشاورت کوخط لکھ کرایک بار پھر اختلاف و انتشارکوہوادینے اور غلط فہمیاں پیداکرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس سے زیادہ افسوس کی  بات یہ کہ وہ رجسٹرڈ مشاورت کا صدر ہونے کے دعویدارہیں اور لوگوں کو مشاورت کارکن بنانے کے نام پر چندہ کی مہم چلارہے ہیں جوان کا سراسر بےبنیاد دعویٰ اورگمراہ کن فعل ہے۔  اول تو اس گروپ کا جس نےاس وقت کےصدر مشاورت سید شہاب الدین مرحوم کی مخالفت میں مشاورت سےالگ ہوکر 2003میں سوسائٹی رجسٹرڈکرائی تھی، 2013میں اصل مشاورت کے ساتھ باضابطہ انضمام ہوچکا ہے اور رجسٹریشن کے اصل کاغذات ہماری کی تحویل میں ہیں،لہٰذا ایسی کسی سوسائٹی کا کوئی علاحدہ یامتوازی وجود اب کہیں باقی نہیں ہے۔خودراقم السطور شیخ منظوراحمدکوبھی اسی رجسٹرڈمشاورت نے رکنیت دی تھی اوراسی انضمام و اتحادکے نتیجے میں یہ حقیراب آل انڈیامسلم مجلس مشاورت کاحصہ ہے ۔دوم ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں 2022 سے مشاورت کے رکن بھی نہیں ہیں، تادیبی کارروائی کے تحت موصوف کی رکنیت منسوخ ہوگئی تھی کیونکہ انہوں نے مختلف حیلوں بہانوں سے مشاورت اور اس کی جائیدادوں پر مستقل قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی جس کی تفصیلات ارکان مشاورت کے علم میں ہیں۔ مشاورت کے تنظیمی امور میں مداخلت کا کوئی حق آں موصوف کو نہیں پہنچتا، ان کی یہ سرگرمیاں سراسر ناجائز اور قانوناً قابل مواخذہ ہیں۔وہ اور ان کے پیچھے جولوگ بھی ہیں مشاورت میں رجسٹرڈ سوسائٹی کے انضمام واتحاد کوتباہ کرنے کی مذموم سازش اورذاتی مفادات کےحصول کے لیے مشاورت کوناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں جوان شاء اللہ کامیاب نہیں ہوگی۔ضرورت ہے کہ ان عناصر کی سازشوں کا قلع قمع سختی سے کیا جائے ورنہ اتنا تفصیلی خط لکھنا اور آپ کو زحمت توجہ دینا کوئی خوشگوار عمل نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے مکتوب (مرقومہ29اپریل 2024 ) کے ذریعے ارکان مشاورت کی میٹنگ بلائی ہےاورلوگوں کو ورغلانے کے لیےانہوں نے مشاورت پر اپنےبےبنیادسنسنی خیز الزامات کا اعادہ کیا ہے،مثلاً دستور مشاورت میں منمانی ترمیمات کی گئیں،مشاورت سے 70 ارکان کو نکال باہر کیاگیا اور غیرمعیاری لوگوں کو مشاورت کی رکنیت دی گئی جبکہ ان کا ایک بھی دعوی حقیقت سےقریب نہیں ہے۔ڈاکٹر خان کے دعووں کی دستاویزی تردیدمشاورت کے کاغذات میں موجود ہے ۔وہ اپنے زیرنظر مکتوب میں اپنی تحریروں، تقریروں اور مشاورت کی کارروائیوں میں موجود ان مندرجات کے برخلاف دعوے کررہے ہیں جن پر ان کے دستخط موجود ہیں ۔زیرنظرمکتوب میں آپ ان کی نکات وارتفصیلات د یکھ سکتے ہیں۔   جیساکہ آپ جانتے ہیں،مشاورت کے دستور میں کبھی کوئی منمائی ترمیم نہیں کی گئی اور ایسا کرناممکن بھی نہیں ہے۔اگریہ ممکن ہوتاتو ڈاکٹرصاحب موصوف اپنے دور صدارت کے آخری ایام میں ترمیم لانے کی جوکوشش کررہے تھے، ناکام نہ ہوتی ۔دستورمیں جو ترامیم آخری بار لائی گئی ہیں،ان  میں ہرترمیم کو 67 فیصد سے 81 فیصد تک ارکان مشاورت کی تائید حاصل ہے اورترمیم شدہ دستور کے نفاذ کے بعد مشاورت کی مجلس عاملہ کے انتخابات (برائےمیقات 2026-2023 ) میں 85 فیصد سے زیادہ ارکان نے حصہ لیا اور منصب صدارت کے لئے دو امیدواروں کے درمیان دوستانہ مقابلہ میں منتخب امیدوار کو تقریباً 57 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ڈاکٹر صاحب موصوف کااعتراض ان کے آمرانہ مزاج کا اشتہار اورایک انتہائی غیرجمہوری فعل ہے۔ دستور میں ترمیم یا اس کی کسی شق پر اختلاف رائے کو مسئلہ بناکر انتشار کو ہوا دینا ہر گز کوئی دانشمندی نہیں ۔جو لوگ بھی اس طرح کے کام کررہے ہیں،مسلمانوں کے اتحاد اور ملی تنظیموں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ مشاورت ایک جمہوری تنظیم ہے اور دستور مشاورت میں ترمیم و تصحیح کا دروازہ ہر وقت کھلا ہواہے ۔ ارکان مشاورت جب چاہیں دستور میں مذکور ضوابط (Due  process)کے تحت ایسا کر سکتے ہیں ۔ اگر دستور کی کسی شق پر کسی کے پاس کو ئی معقول اعتراض ہے تو وہ اپنی تجاویز مشاورت میں پیش کرے نہ کہ لوگوں کو ورغلاکر جتھے بنائے اوران کے دلوں میں وسوسے ڈالے۔ جن ارکان کی رکنیت دستورمشاورت کی روشنی میں ان کی عدم فعالیت اور ڈفالٹ کی بناپر منسوخ ہوئی تھی، ان کے تعلق سےڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب نے اپنے خط میں دعوی کیا ہے کہ 70 ارکان کا مشاورت سے اخراج کردیا گیا جبکہ غیرفعال ارکان کی رکنیت منسوخ کرنے کی قرارداد خود ان کی اپنی صدارت میں منعقدہ مشاورت کی جنرل باڈی اور مجلس عاملہ کی 5 ِ دسمبر 2015ء کی مشترکہ میٹنگ میں منظورکی گئی تھی اوربالآخر 12 فروری 2017 کی جنرل باڈی میٹنگ میں جس میں ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب بنفس نفیس موجود تھے اور اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ ان ایکٹیو ارکان کا اخراج ہو، یہ طے کیا گیا تھاکہ فی الحال ایسے 14 ان ایکٹو (غیر فعال) ارکان کا اخراج کیا جائے۔ غیر فعال  ارکان کا معاملہ اکتوبر 2018 کی حیدرآباد میں منعقد جنرل باڈی میٹنگ میں بھی زیر بحث آیا اور پھر27ِ فروری 2021 کوبھی اس معاملے پر آسام سے رکن جناب حافظ رشید احمد چودھری صاحب(جن کی حمایت کےڈاکٹرصاحب دعویدارہیں) کی تحریری قرارداد میٹنگ میں پیش ہوئی۔دستور کی متعلقہ شقوں اور قراردادمشترکہ اجلاس (5دسمبر2015) کی روشنی میں اس پرکارروائی کے نتیجے میں جن غیر فعال ارکان کی رکنیت منسوخ کی گئی، ان کی

Mushawarat condemns the notification of rules for contentious CAA (2019)

Mushawarat condemns the notification of rules for contentious CAA (2019) New Delhi: All India Muslim Majlis e Mushawarat, the apex body of India’s Muslim and only federation of renowned Muslim organisations and prominent citizens, expressed its deep concerns over the controversial decision of the Modi government of the implementation of the contentious CAA 2019 by notification of the rules for it just before the announcement of the ensuing general elections in the country. The decision is divisive in nature, taken for political benefits, and with a purpose to distract from the failure on different fronts. The government has taken the controversial decision to notify the rules for contentious law in spite of it being challenged in the Supreme Court of India by various groups of concerned civil society groups. Mushawarat is of the firm opinion that the decision once again had not only exposed the communal politics of dividing people on sectarian lines but will also open the avenues for a large scales of influx of illegal Bangladeshi immigrants in the North Eastern states which will undoubtly endanger the demography of the indegenious population of these states. Furthermore, the large scale of influx of refugees from the neighboring countries will be a burden on the India’s economy and will further squeeze employment avenues for the youths of the country who are already forced to opt for risky jobs and migrate to war zones in Israel & Russia. Instead of  working to chalk out plans to dissuade educated and skilled youths on whom a good percentage of national resources were spent by state on their education, and who are migrating on large-scale because of squeezing job opportunities in the country and renouncing Indian citizenship by migrating to Europe, Russia, USA, and far eastern countries for better employment opportunities in a safe bigotry and violence free environments, the government has decided to push its agenda of vote bank divisive politics. In the year 2019, the then president of Mushawarat, Mr. Navaid Hamid, had challenged the contentious law in the Supreme Court in the year 2019, but unfortunately, the hon’ble court had only two hearings so far. Now with this new development, Mushawarat is in touch with its learned legal counsels for challenging the controversial decision to implement the contentious law of CAA (2019).

Launch of new Website of All India Muslim Majlis-e-Mushawarat

🎉 Introducing Our New Website: A Platform for Unity and Progress 🌐 We are thrilled to announce the launch of our brand-new website, a digital gateway that embodies the essence of the All India Muslim Majlis-e-Mushawarat’s (AIMMM) mission – fostering unity, advocating for progress, and upholding the values that define our diverse and vibrant community. This revamped platform serves as a bridge connecting our rich history with the modern world, enabling us to engage, empower, and inspire like never before. Our new website reflects a commitment to inclusivity and accessibility. With its user-friendly interface, you can easily explore our initiatives, achievements, and ongoing projects. From advocating for minority rights to promoting education and social justice, the site offers a comprehensive view of our efforts to create a more equitable society. Engage with our thought-provoking articles, insightful blog posts, and updates on our activities that echo our dedication to consultation, collaboration, and positive change. Join us in celebrating our diverse heritage and nurturing understanding between communities through our platform’s interfaith resources and cultural showcases. The launch of this website marks a significant step forward in AIMMM’s journey. We invite you to explore, connect, and be a part of this shared vision for unity, progress, and a brighter future for all. Welcome to the new AIMMM online experience – where consultation meets action, and where our collective voice resonates stronger than ever before. 🌟🌍🤝

All India Muslim Majlis Mushwarat(AIMMM) severely condemns the Haryana government for its failure to check and contain Nuh communal riots

NewDelhi: The All India Muslim Majlis Mushwarat(AIMMM) today severely condemns the Haryana government for its failure to check and contain Nuh communal riots and demanded that this incident need to be probed by a high level judicial commission.The investigation should should also look into circumstances that led to the violent clashes and the role of the state administration which failed to take preventive steps on time to prevent a communal clash. It is known to everyone that provocative videos were circulated ahead of Braj Mandal yatra by cow vigilante Monu Manesar which resulted in violence .The government failed to take preventive steps on time to prevent a communal clash even fully knowing that a section of people were instigating the people to indulge in violence. Even though Monu Manesar is an absconder he was seen participating in the rally with his supporters who were carrying lathis and firearms The AIMMM said that the purpose of the riots was to create fear among the members of the minority community.Morever, the BJP is using communal card for its political gains. As assembly elections in Rajasthan and Madhya Pradesh are round the corner the ruling party wants to create communal divide as its leaders feel that this will give the party a political dividend. Those involved in the riots should not be given protection by the authorities.Had the government taken preventive steps in advance, the violence could have been averted.AIMIM also condemns the brutal and heinous attack on women in Manipur. Supreme Court has observed that there was complete failure of State Authorities.AIMIM also condemns the killing by a radical police officer in a running train from Jaipur to Mumbai. He killed his superior office who belonged to Scheduled Caste and three Muslims.We call upon the Hon’ble President of India and the Hon’ble Prime Minister of India to take severe action on all those involved in hate crimes.AIMMM said that need of the hour is to maintain harmony in the country and all peace-loving people should join hands to fight against communal and disruptive forces. India is shining example of diversity and this needs to be preserved and safeguarded.